Skip to main content

سینتسویں مجلس جناب امام زین العابدین علیہ السلام کی دوبارہ اسیری،حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی شہادت اور جناب فضہ کی وفات

سینتسویں مجلس جناب امام زین العابدین علیہ السلام کی دوبارہ اسیری،حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی شہادت اور جناب فضہ کی وفات کے حالات
 بقدر حال زمانہ کے دکھ پڑے سب پر
ہوا ہے خاتمہ لیکن جناب زینبؑ پر
حجلہ نشینان پردہ عصمت وگوشہ نشینان حجرہ عفت جناب شاہزادی کونین خواہر امام حسینؑ کا حال یوں بیان کرتے ہیں۔کہ ثانی زہراؑ جناب زینبؑ کو اپنے بھائی حضرت امام حسینؑ سے ایسی محبت تھی۔کہ آج تک کسی بہن کی اپنے بھائی سے ایسی الفت نہیں سنی گئی۔ نظم
 زینبؑ پہ تھا حسینؑ کی الفت کا خاتمہ
الفت کا کاتمہ تھا مروت کا خاتمہ
تھا ابتدا میں شاہ کی محبت کا خاتمہ
پر خاتمہ میں ہو گیا شفقت کا خاتمہ
مجروح تازیانوں سے پشت دوتا ہوئی
لیکن نہ لاش سبط نبیؑ سے جدا ہوئی
مجبور تھی مشیت حق سے وہ نیک ذات
ورنہ گلا کٹاتی گلوئے اخی کے ساتھ
ہر طرح کی گزر گئی آخر کو واردات
زینبؑ رہی نہ فرقت شبیرؑ خوش صفات
الفت کا تذکرہ صبح وشام رہ گیا
گو آپ کو مٹا دیا پر نام رہ گیا۔
 عزادارو مقام غور وتامل ہے،کہ ایسی عاشق بہن پر کیا گزری ہوگی۔جب ایسے بھائی سے جدائی ہوئی ہوگی۔ چنانچہ کتب معتبرہ سے روایت ہے کہ جناب امام حسینؑؑ کے غم میں حضرت زینبؑ کا جو حال ہوا،وہ بیان سے باہر ہے۔ نظم
ہمشیر کو فراق میں بھائی کے تھا نہ چین
تھا دل میں درد آنکھوں میں آنسو لبوں پہ بین
جس دم تڑپ کے کہتی تھی ہائے ہائے اخی حسینؑ
تھراتا تھا مزار شہنشاہ مشرقین
آہ وبکا  سے خواب میں غافل نہ رہتی تھی
رویا میں بھی حسینؑ کو رویا ہی کرتی تھی
چنانچہ لکھا ہے کہ بعد شہادت امام حسین   ؑ نظم
آئے حرم حسینؑ کے جب پھر کے شام سے
ماتم ہمیشہ رہتا تھا تا صبح وشام سے
زینبؑ کو کام تھا غم شاہؑ انام سے
رغبت تھی آب سرد سے کچھ نہ طعام سے
عریاں تو سر تھا جسم میں کالا لباس تھا
ہر وقت لب پہ نام شاہ حق شناس تھا
قلت غذا کی جان کے کھونے کے واسطے
پانی کبھی پیا بھی تو رونے کے واسطے
لیٹیں نہ فرش پر کبھی سونے کے واسطے
دامن تھا آنسوئوں سے بھگونے کے واسطے
 گہہ کر بلا کا ذکر کیا اور رو دیا
بھائی کا گاہ نام لیا اور رو دیا
الغرض مدینہ میں جناب زینبؑ کی شدت گریہ وبکا کی وجہ سے تمام بنی ہاشم کی عورتوں میں شب وروز صف ماتم بچھی رہتی تھی۔اور سامان عیش وسرود دور ہو گیا تھا۔جناب زینبؑ کبھی ناناؑ کے روضے پر جا کر فریاد کرتی تھیں۔اور کبھی ماں کی قبر پر دل خراش بین کرتی تھیں۔کسی وقت گریہ وبکا سے فرصت نہ تھی۔البتہ جس سید سجاد کو دیکھتی تھیں تو خاموش ہو جاتی تھیں۔ تاکہ بھتیجے کو زیادہ صدمہ نہ ہو۔ بیت
 ہجر   اخی میں ہوتی تھیں جب مضطرب سوا
عابدؑ کو دیکھ لیتی تھیں آکر بصد بکا
الغرض اسی غم والم میںآپؑ نے دوسال بسر کیے۔ افسوس صد افسوس فلک کج رفتار نے یہ بھی منظور نہ کیا۔کہ وہ غم کی ستائی ایک گوشہ میں بیٹھ کر اپنے بھائی کا ماتم کرتی رہے۔ چنانچہ روایت میں لکھا ہے کہ جب امام زین العابدین کے پاس لوگ پرسے کو آنے لگے،تو حاکم مدینہ عبد الملک نے یزید کو تحریر کیا کہ زین العابدین ؑکے پاس شیعان علیؑ ابن ابی طالب کثرت سے جمع ہو تے ہیں۔ اور نظم
 یہ مشورے ہوئے ہیں کہ پھر سر کشی کریں
اب عنقریب ہے کہ وہ لشکر کشی کریں
سب کے دلوں میں ہے تری جانب سے عناد
رکھتے ہیں آل پاک محمدؑ سے اتحاد
ایک ایک شخص شہر میں ہے بر سر فساد
جو حکم ہو بجا لائے یہ خانہ زاد
بہتر یہ ہے جواب میں دیر ایک پل نہ ہو
ڈر ہے کہ سلطنت میں کہیں پھر خلل نہ ہو
پہنچی یزید کو جو یہ عرضی بصد شتاب
آیا کمال غیظ میں وہ خانماں خراب
منشی کو پھر بلا کے کیا اس طرح خطاب
عبد الملک کی عرضی کا لکھ  دت یہی جواب
بے تاب ہوں میں اس کی اسیری کے شوق میں
ہاں قید کرکے بھیج دے زنجیر وطوق میں
 الغرض یزید پلید کے حکم کے بموجب  عبد الملک نے جناب امامزین العابدینؑ کو پا بہ زنجیر کرکے شام لے جانے کا قصد کیا۔ تمام مدینہ میں بیت
 غل تھا کہ پھر مدینے کی بستی اجڑ گئی
زین العباؑ کے پائوں میں زنجیر پڑ گئی
نظم
 لکھا ہے جن دنوں یہ ہوا ظلم آشکار
گھر میں بہت علیل تھیں زینبؑ جگر فگار
پہنچی خبر جو قید کی عابدؑ کی ایک بار
اٹھیں عصا کو تھام کے باچشم اشکبار
اعضائے جسم پاک بہم کانپنے لگے
آئیں جو در تلک تو قدم کانپنے لگے
چلاتی تھیں ارے کوئی جلدی خبر منگائے
 عابدؑ کو فوج لے کے پھر کہیں چلی نہ جائے
صورت مرے غریب پسر کی کوئی دکھائے
بے کس پہ پھر ستم کی چڑھائی ہے ہائے ہائے
کس نے طلب کیا انہیں لوگوں کہاں گئے
مجھ کو بھی لے چلو وہیں عابدؑ جہاں گئے
 آپؑ دروازہ پر کھڑی ہوئیں یہ فرماتی تھیں۔ مگر ہجوم غم والم کے سبب آپؑ کی فریاد کوئی نہ سنتا تھا۔آخر آپؑ نے جناب فضہ سے فرمایا کہ جاکر خبر میرے فرزند دلبند کی لا۔ نظم
گھر سے چلی یہ سنتے ہی فضہ بچشم تر
پہنچی قریب جب تو یہ سامان نظر پڑا
تلواریں سر پہ کھینچے  ہیں ظالم ادھر ادھر
چپکے کھڑے ہیں بیچ میں سجادؑ نامور
ایوب پر بھی صبر وتحمل میں فوق ہے
پائوں میں بیڑیاں ہیں تو گردن میں طوق ہے
جلدی ہٹا کے بھیڑ کو فضہ نے دی صدا
اے نور عین دلبر زہراؑ ترے فدا
تنہا چلے نہ جائیو ہمراہ اشقیا
آتی ہیں گھر سے خواہر سلطانؑ کربلا
ملتی ہیں سب سے رشتہ الفت کو توڑ کر
آئی ہوں در پہ میں ابھی بی بی کو چھوڑ کر
 جناب فضہ امامؑ سے یہ کہہ کر باحال پریشان بچشم گریاں جناب زینبؑ کے پاس افتاں وخیزاں پہنچیں اور عرض کی بیت
تنہا ہے پسر آپؑ کا بلوئے عام میں
پھر فوج لے کے جاتی ہے عابد کو شام میں
 یہ خبر وحشت اثر سن کر آپؑ امام زین العابدینؑ کے ساتھ جانے کے لیے عورات بنی ہاشم سے رخصت ہونے لگیں۔ ادھر جناب امام زین العابدینؑ نے جب پھوپھی کا یہ اضطراب فضہ کی زبانی سنا،تو ظالموں سے فرمایا کہ مجھ کو اتنی مہلت دو کہ اہل بیت سے رخصت ہو آئوں۔ چنانچہ حضرت با طوق وزنجیر گھر میں تشریف لائے،اور بیبیوں سے فرمایا کہ اے اسیران آفت ومصیبت یہ مظلوم ابن مظلومؑ آپ سے رخصت ہونے آیا ہے۔اور تم کو خدا کے سپرد کرتا ہے۔ صبر کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو۔یہ سن کر جناب زینبؑ نے فرمایا   نظم
صدقے گئی جاتے ہوئے لو ساتھ پھوپھی کو
منہ مجھ کو دکھانا ہے حسینؑ ابن علیؑ کو
واری گئی تنہائی نہیں مجھ کو گوارا
سب کنبہ ہوا قتل بس اک دم ہے تمہارا
اب شام کے جانے میں یہ مطلب ہے ہمارا
پھر دیکھوں گی میں قبر سکینہؑ کو دوبارہ
مرقد ہے سر راہ حسینؑ ابن علیؑ کا
زینبؑ کو وہاں سوگ بڑھانا ہے اخی کا
شبیرؑ کے ہمراہ تو میں محمل میں تھی واری
پر اب مجھے درکار ہے محمل نہ سواری
ہمراہ چلوں گی میں عناں تھامے تمہاری
پوچھے جو حقیقت کوئی رستے میں ہماری
کہنا یہ عزادار حسینؑ ابن علیؑ ہے
اب کرب وبلا سوگ بڑھانے کو چلی ہے
عابدؑ نے کہا یہ نہ کہیں آپ خدا را
لے چلنے میں تم کو ہے مجھے خوف یہ سارا
گر حاکم بے رحم نے سر میرا اتارا
یاں کون تمہیں لائے گا ہے کون تمہارا
بہتر ہے یہی گھر میں پھوپھی جان رہو تم
 بہتر ہے کہ باقر کی نگہبان رہو تم
امام عالی مقام اپنی پھوپھی سے یہ گفتگو کرکے عصمت سرا سے باہر تشریف لائے،اور ظالموں سے کہا لو اب میں شام چلنے کو تیار ہوں۔مگر صرف یہ خواہش ہے کہ اس وقت مجھ کو طوق وزنجیر سے آزاد کردو تاکہ اہل وطن مجھ کو اس حالت سے نہ دیکھیں۔ شہر کے باہر چل کر پھر مجھے پہنا دینا۔آہ آہ سنگ دلوں نے نہ مانا۔اور اسی طرح لے چلے۔ اس وقت حضرت زینبؑ اپنے بھتیجے کے فراق میںتڑپ کر نکل پڑیں۔اور روضہ رسولؑ میں گھر سے نکل کر داخل ہوئیں اور فریاد کرنے لگیں۔ نظم
نانا مرے مجھ کو ستاتے ہیں بد افعال
سر میرا کھلا اور پریشان ہیں میرے بال
مجبور ہوں یا ختم رسل دیکھو مرا حال
 قیدی ہوا مظلوم میرے بھائی کا پھر لال
امت سے ذرا پوچھیئے کیا اس کی خطا ہے
بن باپ کے فرزند کو کیوں قید کیا ہے
فریاد یہ کی دختر زہراؑ نے جو اک بار
تھرائی زمین اور لحد احمد مختارؑ
عابدؑ سے کسی نے کہا اے عاشق غفار
 سمجھایئے زینبؑ کو ہے حشر نمودار
جنبش میں ہے اب روضہ رسولؑ عربی کا
 اک ہاتھ نکل آیا ہے مرقد سے نبیؑ کا
 جس وقت امام زینب العابدینؑ نے یہ خبر سنی تو نظم
 یہ سنتے ہی اشتر سے گرے عابدؑ مضطر
پاس آن کے زینبؑ سے کہا آپؑ نے رو کر
 مرقد سے نکل آیا ہے اک دست پیمبرؑ
کرتے ہیں تمہیں منع کہ زاری نہیں بہتر
گو لاشہ اکبرؑ پہ تم آئی تھیں رن میں
پر آج خجل تم نے کیا مجھ کو وطن میں
رو کر کہا زینبؑ نے کہ اے عاشق باری
دنیا سے جو کوچ کیا پیمبرؑ نے جو واری
 سر ننگے نکل آئی تھیں دادی بھی تمہاری
 تم قید ہوئے میرا بھی نکلنا ہے بجا
کیا صبر میرا فاطمہؑ زہرا سے سوا
اب تک تھے نشان بیڑیوں کے پائوں میں اظہار
پھر آج تمہیں پہنائی ہے زنجیر گراں بار
کہنے سے تیرے ڈھانپتی ہوں سر کو میں ناچار
پر گھر میں نہ جائوں گی نہ جائوں گی زینہار
تم کو قسم خشکی حلق شاہؑ دین کی
لو مجھ کو بھی ہمراہ میرا کوئی نہیں ہے
 امام زین العابدینؑ نے سمجھ لیا کہ پھوپھی جان مجھ کو تنہا نہ جانے دیں گی۔تو مجبورا" آپؑ کو بھی ساتھ لے چلنا گوارا کیا۔ اور فرمایا کہ اچھا جلدی محمل میں سوار ہو جایئے۔ نظم
سن کراٹھیں قبر نبیؑ سے بحال زار
 تسلیم کی مزار کو باچشم اشکبار
مل مل کے عورتوں سے جو روتی تھی زار زار
محل کے گرد وپیش قیامت تھی آشکار
زینبؑ جدا جو ہوتی تھی صدمہ دوچند تھا
 ہر گھر سے شور گریہ وزاری بلند تھا
جس وقت واں سے محمل زینبؑ ہوئی رواں
روئے وطن کے لاگ بصد ناہ وفغاں
عورات ہاشمی کا تھا یہ دم بدم بیان
بی بی تمہارا خالق اکبر ہے نگہبان
پھر ہم سبھوں کو شکل دکھانا نصیب ہو
عابدؑ کے ساتھ خیر سے آنا نصیب ہو
 روتے ہوئے جو لوگ پھرے سب برہنہ سر
 ناقہ چلا ادھر کو جدھر تھی سپاہ شر
 فضہ بھی اس میں آن کے بیٹھی بچشم تر
 محمل کے گرد وپیش تھے پردہ کیے ہوئے
 بی بی کے سر کو زانو پہ اپنے لیے ہوئےالغرض

الغرض عابدؑ بیمار پھوپھی کے ساتھ اسیر ہو کر روتے ہوئے شام کی جانب روانہ ہوئے۔اور لشکر یزید منزلیں طے کرتا ہوا شام کے قریب پہنچا۔اور ایک منزل پر جہاں یزید کا ایک باغ تھا۔ قیام کیا۔ جب کہ حضرت زینبؑ کو معلوم ہوا کہ کل شام میں داخلہ ہوگا،تو تمام رات عبادت میں بسر کی۔ اور بار بار بیت
 اللہ سے یہ کہنے لگیں ہاتھ اٹھا کر
کیا شام کے بلوہ کو میں دیکھوں گی جا کر
 نظم
اے بار خدا واسطہ شاہ مدنی کا
صدقہ پسر فاطمہؑ کی بے کفنی کا
اور واسطہ عابدؑ کی غریب الوطنی کا
صدقہ شاہ مظلومؑ کی تشنہ دہنی کا
زینبؑ طرف شام نہ اب یاں سے رواں ہو
کل صبح ملاقات امامؑ دوجہاں ہو
ابھی درگاہ رب العالمین میں یہ مناجات کر رہی تھیں نظم
رستے کی ماندگی سے جو تھی شدت بخار
رونے میں آنکھ لگ گئی زینبؑ کی ایک بار
کیا دیکھتی ہے خواب میں وہ شاہ کی سوگوار
آئے ہیں بے قرار شہنشاہؑ نامدار
ظاہر ہے تن پہ زخم ہر اک تیغ وتیر کا
پر خوں لیے ہیں گود میں لاشہ صغیرؑ کا
 اور حضرت زینبؑ کے پاس آکر بصد حسرت ویاس فرماتے ہیں۔نظم
بھینا تمہارے واسطے مضطر ہے جان زار
تم پہ جو ظلم ہوتے ہیں بھائی ہے بے قرار
جلد آئو بسکہ ہجر تمہارا ہے ناگوار
جنت میں یاد کرتے ہیں محبوب کردگار
تم جب سے قید ہو سپاہ بد سرشت میں
اماں تڑپ کے روتی ہیں ہر دم بہشت میں
آئو بہن کہ خلد میں شبرؑ ہیں بے قرار
فرقت میں ہر گھڑی علیؑ اکبرؑ ہیں بے قرار
صدمہ ہے دل پہ قاسم مضطر ہیں بے قرار
عباسؑ ابن حیدرؑ صفدر ہیں بے قرار
ہر دم غم فراق میں فریاد کرتے ہیں
بیٹے تمہارے تم کو بہت یاد کرتے ہیں
یہ خاب دیکھ کر وہ دل کباب حضرت امام زین العابدینؑ کے پاس آئیں اور فرمایا کہ اے بیٹا میں نے خواب میں ابھی اپنے بھائی کو دیکھا کہ میرے ہجر میں بے تاب ہیں۔اور مجھ سے فرماتے ہیں کہ اے بہن بیت
 تم نے ہمارے بعد جو صدمے اٹھائے ہیں
ہم تم کو باغ خلد سے لینے کو آئے ہیں
اے زین العابدینؑ: اب نظم
مجھ کو یقیں ہے آج مروں گی میں دلفگار
بیٹا اسی جگہ پر بنانا میرا مزار
 نام ونشان مٹ چکا زینبؑ کا ایک بار
لکھنا یہی لحد پہ مری میں تیرے نثار
ہے قبر یہ کنیز شاہ مشرقین کی
یہ بی بی رونے والی ہے بے کس حسینؑ کی
عابدؑ کا رنگ اڑ گیا سنتے ہی یہ خبر
آنسو بھر آئے آنکھوں میں تھرا گیا جگر
تڑپے مثال ماہی بے آب خاک پر
نزدیک تھا ہلاک ہوں سجاد نامور
حسرت سے سوئے زینبؑ مضطر نگاہ کی
تھرائے آسمان وہ پر درد آہ کی
رو کر کہا کہ ہائے پھوپھیؑ جاں غضب ہوا
کیسی خبر یہ دی کہ جگر آب ہو گیا
صدمہ تمہارے ہجر کا اے بنت مرتضےٰؑ
واللہ سب مصیبتوں سے ہے مجھے سوا
ہے ہے نہ تھا یہ علم کہ دل توڑ جائو گی
بابا کی طرح تم بھی مجھے چھوڑ جائو گی
یہ ذکر تھا ابھی کہ نمایاں ہوئی سحر
لشکر ہوا یزید کا آمادہ سفر
اٹھی وضو کو خواہر سلطان بحر وبر
فضہ نے جائے نماز بچھائی بچشم تر
اس دم ملول اور سوا ہوتی جاتی تھی
زینبؑ نماز پڑھتی تھی اور روتی جاتی تھی
 نماز سے فارغ ہو کر جناب زینبؑ نے فضہ سے فرمایا کہ اے فضہ شاید یہاں سے وہ شجر قریب ہے۔جس میں خولی نے سر امام مظلومؑ لٹکایا تھا۔تلاش کر یہ سن کر فضہ نے اس درخت کا پتا لگایا،اور حضرت زینبؑ کو خبر دی،آپؑ اس درخت کے پاس تشریف لائیں،اور اپنے بھائی مظلوم کے خون کی خوشبو پا کر رونے لگیں۔ بیت
بے اختیار آنکھوں سے آنسو ہوئے رواں
لپٹیں شجر سے خواہر سلطان انس وجاں
پھر نہایت بے قرار ہو کر فرمانے لگیں،نظم
 بھیا وداع ہوتی ہے زینبؑ ہوئی سحر
 پھر لے چلے ہیں شام کی جانب سپاہ شر
کیونکر نہ سر پہ خاک اڑائے یہ نوحہ گر
لٹکا اسی درخت میں ہے ہے تمہارا سر
بعد فنا بھی آپؑ ہیں ایذائے سخت میں
اب تک جمے ہیں خون کے قطرے درخت میں
 آہ  وا  ویلا غم زدہ بہن بھائی کی یاد میں ادھر تو بے قرار ہو کر گریہ وزاری میں مصروف تھیں۔ نظم
 نام حسینؑ لے کے جو روئی وہ نیم جان
 سنتا تھا وہ جو باغ میں رہتا تھا باغبان
 بے رحم بیلچہ لیے واں آیا ناگہاں
ایسی لگائی ضرب ہوا سر لہو لہان
زینبؑ کا سر تو ضرب جفا جو سے شق ہوا
خلد بریں میں روح نبیؑ کو قلق ہوا
منہ سے شہادتین پڑھی پھر نہ کچھ کہا
شدت سے تھیں ضعیف یہ صدمہ نہ اٹھ سکا
تیورا کے بس زمین پہ گریں غش سا آگیا
دو ایک بار پائوں سمیٹا بڑھا دیا
آیا پسینہ موت کا منکا ڈھلک گیا
لبریز جام عمر ہوا اور چھلک گیا
روئی یہ حال دیکھ کے فضہ بصد الم
جب دیکھا جسم پاک میں باقی نہیں ہے دم
دوڑی وہاں سے پیٹ کے سر وہ اسیر غم
 عابد کے پاس آن کے پکاری وہ بچشم نم
جنت میں سوگوار شاہ بحر وبر گئیں
جلد آیئے کہ زینبؑ ذی جاہ مر گئیں
عابد یہ سن کے اشک بہاتے ہوئے چلے
جھنکار بیڑیوں کی سناتے ہوئے چلے
زیر شجر پہنچ کے بحسرت نگاہ کی
دیکھی پھوپھی کی لاش تو اک سرد آہ کی
 اور لاش مبارک کے قریب کھڑے ہو کر باآ ہ وزاری نظم
چلائے کیا ستم یہ دکھایا ہزار حیف
کس نے یہ زکم سر پہ لگایا ہزار حیف
آرام راہ میں بھی نہ پایا ہزار حیف
ساتھ آئیں تھیں کہ شاق ہماری جدائی تھی
تم کو پھوپھی وطن سے قضا لے کے آئی تھی
یہ کہہ کے غسل دینے لگے سید امم
چہرے کو دیکھ دیکھ کے روتے تھے دم بدم
 پائے نشاں جو رسی کے بازو پہ ہے ستم
فضہ یہ سر کو پیٹ کے بولی بدرد وغم
یہ سب نشانی ستم نابکار ہے
بعد فنا بھی داغ رسن آشکار ہے
جس وقت غسل دے چکے سجاد دل فگار
 اور قبر کھد کے ہو گئی تیار ایک بار
گو کاپنتے تھے ضعف سے وہ دست رعشہ دار
عابدؑ نے خود لحد میں اتارا بحال زار
تڑپا جگر یہ شدت آہ وبکا ہوئی
 تربت جو بند کی تو قیامت بپا ہوئی
کہتے تھے بار بار یہ سجاد ناتواں
چھوڑا پسر کو آپ نے غربت میں نیم جاں
اے سوگوار دل بر خاتون انس وجان
صحرا ئے ہولناک میں خالق نگہبان
فضہ لحد پہ سینہ وسر پیٹنے لگیں
سنبھلا نہ دل بدیدہ تر پیٹنے لگیں
چلاتی تھیں کہ اے مری بی بی کدھر گئیں
غربت میں مجھ کو بے کس وبے آس کر گئیں
صدمے اٹھا اٹھا کے جہاں سے گزر گئیں
ایسا ستم گاروں نے ستایا کہ مر گئیں
آئی تھیں آپؑ قبر میں سونے کے واسطے
 بی بی کنیز رہ گئی رونے کے واسطے
سر پیٹ کر قبر پہ جو فضہ نے کی بکا
 جنگل سے آئی نالہ زہراؑ کی بھی صدا
رقت کو  ضبط کرکے تب عابد نے یہ کہا
بس گھر میں چل کے روئیو فضہ پئے خدا
خوش خو ہے خوش عقیدہ ہے اور باتمیز ہے
خدمت کریں گے ہم کہ پھوپھی کی کنیز ہے
 یہ ارشاد امامؑ عالی مقام سن کر حضرت فضہ نے عرض کی کہ اے امام کون ومکان میں مدینہ میں اب جا کر کیا منہ دکھائوں گی۔اسی قبر پر چھاونی چھائوں گی۔ بیت
 اٹھنا مجھے لحد سے اک آن جبر ہے
میں بھی گڑوں گی یاں جہاں بی بی کی قبر ہے
نظم
اب کس کے آسرے پہ لونڈی وطن کوجائے
بی بی کو اپنی ڈھونڈ کے فضہ کہاں سے لائے
کیونکر یہ کنیز بھلا سر پہ خاک اڑائے
زینبؑ کو تا بحشر نہ پائوں گی ہائے ہائے
شہزادے میں وطن کو یہاں سے نہ جائوں گی
زینبؑ کو چھوڑ کر میں کسے منہ دکھائوں گی
زہراؑ کی میں کنیز ہوں سمجھو نہ بے وفا
تا حشر اپنی بی بی سے ہوں گی نہ میں جدا
ہے ہے میں زندہ رہ گئی زینبؑ نے کی قضا
مرنا مجھے قبول ہے جانا نہیں روا
پوچھے کوئی یہ رنج دل چاک چاک سے
میں جان دے کے اٹھوں گی اس قبر پاک سے
الغرض جب امام زین العابدینؑ نے دیکھا کہ فضہ قبر سے نہ اٹھے گی۔ تب نظم
اعجاز سے مدینہ کو عابد ہوئے رواں
وہ خیر خواہ رہ گئی باگریہ وفغاں
تا چند سال خاک اڑاتی رہی یہاں
آخر کو جان دے کے ہوئی داخل جناں
 بچحرے ہوئوں سے عاشق رب صمد ملی
پائیں قبر زینبؑ مضطر لحد ملی
 اللہ رے فضہ کی وفاداری کہ بعد شہادت اپنی بی بی کی لحد پر تمام عمر بسر کی، اور آخر شہازادی کے پہلو میں قیامت تک کے لیے جگہ حاصل کر لی۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔
زینبؑ وزیر آپ کے بھائی کا ہے غلام
پائیں قبر شاہ ملے قبر کا مقام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

انتیسویں مجلس امام حسین کی دعا سے خدا وند کا راہب کو سات فرزند عطا فرمانا

﷽ انتیسویں مجلس امام حسین علیہ السلام کی دعا سے خدا وند قدیر کا راہب کو سات فرزند عطا  فرمانا،پھر بعد شہادت امامؑ کے سر اقدس کا خانہ راہب میں پہنچنا،راہب کا سیدانیوں کے لیے چادریں نذر کرنا،اور اشقیا کا وہ بھی چھین لینا  اعجاز ابن فاطمہؑ سے وہ نوید ہو واللہ ناامید کے دل کو امید ہو  اے عاشقان سید الشہدا فخر ومباہات کا مقام ہے،کہ ہم سب امام مظلومؑ کے ماتم میں شریک ہیں۔ اس جناب کی ماتم داری اور گریہ وزاری کے سبب اس سوگواروں کو خدا نے کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔کہ جس قدر ہم فخر ومباہات کریں کم ہے۔ بیت  دربار سخی کا ہے یہ مجلس ہے سخی کی یہ بزم عزا مومنو ہے سبط نبیؑ کی نظم پس حضرت صادق سے یہ مضمون عیاں ہے سامان غم سیدؑ مظلوم جہاں ہے  اس شخص کی آنکھوں سے اگر اشک رواں ہے ہر فرد کے اوپر قلم عفو رواں ہے اس پر بھی ترقی ہوئی یہ رحمت رب کو گر ایک بھی روئے گا تو ہم بخشیں گے سب کو خالق کاتو وہ حکم محمدؑ کی یہ گفتار کیا اپنے نواسے کے فضائل کروں اظہار جو اس سے ہے بےزار خدا اس سے ہے بیزار جو اس کا مددگار خدا اس کا مددگار بیٹھے گا جو یاں بزم عزائے شاہ دیں میں ہمس...

ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات

پینتسویں مجلس ذکر ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور  ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات  ذکر چہلم ہو جیے مغموم دفن ہوتے ہیں سید مظلومؑ عزا داران جناب سیدؑ ا  لشہدا آگاہ ہوں کہ جس قدر مصائب وآلام حسینؑ مظلوم پر گزرے نہ کسی نبیؑ پر گزرے نہ کسی وصی پر۔اور بضعتہ الرسولؑ جناب سیدہؑ کے بعد جناب ثانی زہراؑ نے جو مصائب برداشت کیے۔دنیا میں کسی بی بی کا جگر نہیں جو سہہ سکے ، رباعی  ناناؑ کو روئی ماں کا جنازہ دیکھا بابا کا بڑے بھائی کا لاشہ دیکھا  زینبؑ کی غرض حیات روتے ہی کٹی ہے عاشور کو کیا کہوں کہ کیا کیا دیکھا  اور جس طرح اس مخدومہ کائنات کے بھائی امام مظلومؑ کی ولادت کے وقت تہنیت کےساتھ تعزیت کا بھی شور تھا۔اسی طرح جناب زینبؑ کی ولادت کے  وقت خوشی کے ساتھ رنج و ملال کا بھی ہجوم تھا۔چنانچہ شاہزادی کی ولادت کے وقت کا حال کتب تواریخ وسیر میں مرقوم ہے کہ جب حضرت زینبؑ پیدا ہوئیں،تو کنیز جناب فاطمہ زہراؑ نہایت خوش ومسرور ہو کر جناب رسولؑ مقبولؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کی    شعر۔  ہووئے یہ نواسی تمہیں ...

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ شیریں میں پہنچنا

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ   شیریں میں پہنچنا  اے مومنو ہاں دیکھو کہ کیا کرتے ہیں شبیرؑ دو وعدوں کو اک سر سے وفا کرتے ہیں شبیرؑ راویان روایت رنج  و ملال تحریر کرتے ہیں، کہ جس وقت بانوئے محترم شاہزادی عجم جناب امام حسینؑ علیہ السلام کی خدمت با برکت میں آئیں،تو آپ کے ہمراہ اکثر کنیز یں بھی تھیں،منجملہ ان کے اس شاہزادی کی شیریں ایک کنیز خاص بھی تھی۔ جناب بانو نے شیریں کے سوا سب کنیزوں کو آزاد کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ شیریں بہت خوش چشم تھیں۔ایک روز جناب امام حسینؑ نے حضرت شہر بانو سے حمد پروردگار کرتے ہوئے شیریں کی آنکھوں کی مدح کی۔آپ نے بھی امام کی تائید میں ثنا فرمائی۔اور عرض کی، بیت  سب خاک ہیں تم فاطمہؑ کے نور نظر ہو ہے عین خوشی میری جو منظور نظر ہو نظم شیریں تو ہے کیا چیز بھلا تم پہ میں واری ہے جان جو شیریں وہ نہیں آپؑ سے پیاری شیریں میری لونڈی ہے میں لونڈی ہوں تمہاری لو نذر یہ میں کرتی ہوں اے عاشق باری مظلب تو ہے خوشنودی شاہ دوجہاں سے بخشا دل وجاں سے اسے بخشا دل وجاں سے  حضرت شہر بانو کا یہ کلام سن کر سلطان کونین امام...