Skip to main content

امام رضا ؑ علیہ سلام کی مدینہ سے رخصت خانہ مامون میں قیام، اور آپ کی شہادت


اڑ تیسویں مجلس امام رضا ؑ علیہ سلام کی مدینہ سے رخصت خانہ مامون میں قیام، اور آپ کی شہادت

ہے بے وطن وبےکس و مایوس کا دربار
ہشیار کہ ہے بادشاہ طوس کا مزار
ہاں اے غلامان علیؑ مرتضےٰ اور اے حاضرین بزم سیدؑ الشہدا  اگرچہ کربلا کی پیش خدا بڑی قدر ومنزلت ہے۔لیکن مشہد مقدس امام علیؑ رضاؑ کی عظمت وجلالت بھی کربلا سے کم نہیں۔چنانچہ مختصر طور پرپہلے امام غریب الغرباؑ کی درگاہ مقدس کا حال ملا حظہ ہو،نظم
اس روضہ پر نور کا کیا عزوشرف ہے
رفعت میں مدینہ ہے تجلی میں نجف ہے
کعبہ سے سوا روضہ پر نور رضاؑ ہے
ہے شور یہ دربار غریب الغرباؑ ہے
جاروب زدہ پلکیں ہیں رسولان شرف کی
ہے قبر وہاں موسیٰ کاظم کے خلف کی
 میری کیا بساط  جو روضہ پرنور کی صفت وثنا  عرض کر سکوں۔ اس روضہ کے اطراف کا مختصر حال سنیئے۔ نظم
ہم مرتبہ کوئی شاہ خراسان کا نہیں ہے
رفعت میں فزوں طوف مزار شاہ دیں ہے
فردوس مکاں مالک فردوس مکیں ہے
کیا صحن ہے کیا نہر ہے کیا خوب زمیں ہے
دنیا میں جناں کا حشم وجاہ دکھائے
وہ نہر وہ روضہ ہمیں اللہ دکھائے
اور نہر کے پانی کی طلب سب کو سوا ہے
شاید گل آدم کا خمیر اس سے ہوا ہے
اس آب کا قطرہ گہر بیش بہا ہے
آنکھوں میں فرشتوں نے جسے اپنی بھرا ہے
ہے دھوم حسینان حق آگاہ میں اس کی
یوسف کا بھی دل ڈوب گیا چاہ میں اس کی
 اللہ اللہ جس روضہ منور کا یہ مرتبہ ہو۔ اس کے مکین کی کیا شان ہو گی۔انسان ضیعف البنیان کا کیا مقدور ہے۔ کہ اس بادشاہ کون و مکاں کی مدح وثنا کر سکے۔ نظم
جیسا کہ مکاں خوب ہے ویسا ہی مکیں ہے
یہ نور الہیٰ ہے تو وہ عرش بریں ہے
مولا کا مرے نام غریب الغربا ہے
جو وارث مظلومی شاہ شہدا ہے
گر ضامن وثامن بھی لقب ہے تو بجا ہے
ضامن وہ محبوں کی شفاعت کا ہوا ہے
جرات میں ید اللہ کی شمشیر کا وارث
غربت میں ہے  مظلومی شبیرؑ کا وارث
جس طرح روضہ رسولؑ دوسرا اور کربلا معلےٰ کے زوار ان حضرات کو عزیز ہیں۔اسی طرح زائران روضہ غریب الغربا بھی حضرت امام رضا کو عزیز ہیں۔ نظم
کرتا ہوں میں اب شرح عطائے شاہؑ ابرار
آیا تھا راہ دور سے اک زائر دیندار
خوابیدہ ہوا روضہ اقدس میں وہ زوار
سویا جو وہاں اور بھی طالع ہوئے بےدار
گو دیدہ دل جانب سلطان امم تھا
پر سوئے ضریح شاہ دیں اس کے قدم تھے
چونکہ سفر کی تکلیفوں سے بہت ماندہ تھا۔ وہ شام تک سوتا رہا۔آخر خدام روضہ نے آکر جگایا۔اور اس کی بے ادبی پر اس کو تنبیہ کی،اور سب نے روضہ اقدس کے کلید بردار سے کہا،نظم
 لکھا ہے کہ دائود تھا اک خادم مولا
مختار کلید در حضرت کا وہی تھا
اس شخص نے مارا رخ زائر پر طمانچہ
اور پشت پہ غصے سے لگائی لکد پا
کیا رحم ہے زائر نے یہ ایذا  جو سہی تھی
ہلتی تھی ضریح اور لحد کانپ رہے تھے
اور سب خادموں نے مل کر اس کو ایسا کھینچا کہ کپڑے پھٹ گئے۔سر سے دستار گر گئی۔ جس دم اس کو کھینچ کر باہر لائے۔تب اس کے ہوش بجا ہوئے،اور زار زار رو کر نظم
پھر سوئے ضریح اس نے پکارا کہ یہ کیا ہے
زائر کو ذلیل آپؑ کے روضے پہ کیا ہے
دیکھا کیئے آپ اور طمانچہ مجھے مارا
امداد نہ کی جامہ بھی ٹکڑے ہوئے سارا
خیر آپ کو ذلت ہوئی گر میری گوارا
اب سوئے نجف جائے گا زوار تمہارا

جب سر کو ضریح شاہ مرداں پہ دھروں گا
پہلے میں گلہ آپؑ کا حیدرؑ سے کروں گا
شبیرؑ جو ہیں جد بزرگ آپ کے یا شاہ
کیا دیتے ہیں زواروں کو اپنے حشم وجاہ
زائر جو کوئی ان کا لٹے راہ میں ناگاہ
عباسؑ  پہنچتے ہیں مدد کے لیے واللہ
اور میں تو حقیر آپؑ کے روضہ پہ ہوا ہوں
عزت سے یہاں آیا تھا ذلت سے چلا ہوں
عباسؑ کے زائر پہ اٹھا دے جو کوئی ہاتھ
ہاتھ اس کا وہیں قطع ہو اے سید خوش ذات
حیدر ہیں نگہبانی میں زواروں کی دن رات
 افسوس کچھ کہ آپ نے پوچھی نہ میری بات
یہ کہہ کے ضریح شاہ والا کی طرف کو
سر ننگے چلا واں سے وہ زوار نجف کو
 اللہ اکبر: ان حضرات کے نزدیک اپنے زائروں کی کیا قدر ومنزلت ہے۔ آقا نے اپنے اس زائر کی جو عزت افزائی فرمائی سننے کے قابل ہے۔ نظم
 یاں روضہ میں داود جو داخل ہوا اس دم
دیکھا کہ جنبش لحد پاک کو  پیہم
نکلے ہوئے مرقد سے کھڑے ہیں شاہ  عالم
رخسار سے بھی بہتا ہے لہو پشت بھی ہے خم
سر ننگے ہیں اور زرد رخ پاک ہوا ہے
گویا کہ جگر زہراؑ سے پھر چاک ہوا ہے
تھرانے لگے خوف سے دائود کے اعضا
اور دست ادب باندھ کے اپنے ہوا گویا
اے میرے شہید اے میرے سید میرے آقا
کچھ بعد شہادت کے ستم اور ہوا کیا
عارض سے لہو بہتا ہے مشغول بکا ہیں
کیوں آج نہیں بولتے کیا مجھ سے خفا ہیں۔
شہہ نے کہا تونے ہی تو دی ہے مجھے ایذا
پھر آپ ہی تو حال میرا پوچھتا ہے کیا
زائر پہ جو صدمہ ہوا وہ سب مجھ پہ ہے گزرا
وہ روضہ سے نکلا میں یہاں قبر سے نکلا
نیلا نہیں زائر کا رخسار ہوا ہے
 غافل وہ طمانچہ میرے عارض پہ لگا ہے
ضربت سے کمر جو مرے زائر کی ہوئی خم
تو دیکھ اسی درد سے پکڑے ہیں کمر ہم
گر یاں مرے زواروں کا ہو گا یہی عالم
تو کوچ ہمارا بھی ہے مشہد سے اسی دم
کیوں درد دیا قدر شناس اس کے تو ہم تھے
کیا تیری طرف کو مرے زائر کے قدم تھے
اے دائود میرے حال پہ کیا تاسف کرتا ہے۔ جلد جا میرے زائر کو نجف کی راہ سے واپس لا۔میری طرف سے پیام دینا کہ تجھ کو تیرا مولا بلاتا ہے۔ بیت
 جس کی زیارت کا تجھے شوق بڑا ہے
 اب تری زیارت کا وہ مشتاق کھڑا ہے
 اور تجھ کو اگر اپنی خطا بخشوانی ہے۔تو زائر سے بخشوا۔ایسا نہ ہو کہ وہ میری شکایت شیر خدا سے کرے،اور میں شرم سے اپنے جد بزرگوار کے پاس نہ جا سکوں۔امام عالی مقام کا یہ ارشاد سنتے ہی نظم
 دوڑتا ہوا دائود گیا روضہ کے باہر
اور جا کے گرا زائر مولا کے قدم پر
کہتا تھا خطا بخش میری بہر پیمبرؑ
منظور عوض ہو تو میرے ہاتھ قلم کر
واللہ تو مقبول شہنشاہ امم ہے
زوار تجھے شاہ خراسان کی قسم ہے
کیا خوب ترا بخت ہے کیا خوب مقدر
تیرے لیے مرقد سے نکل آئے ہیں سرور
یہ سنتے ہی دوڑا طرف روضہ وہ مضطر
لپٹا لیا سینہ سے رضاؑ نے اسے بڑھ کر
فرمایا کہ الفت کا تیری مجھ کو یقین ہے
یہ کہہ دے کہ تو اب تو خفا مجھ سے نہیں ہے
اب تو نہ کرے گا نجف میں میرا شکوہ
اب تو تجھے کچھ مجھ سے کدورت نہیں اصلا
کر عفو میرے روضہ میں پہنچی تجھے ایذا
زائر نے یہ کی عرض خجل کیجیے نہ مولا
وہ رنج کہاں اب تو یہ دولت ہوئی حاصل
اس طرح سے حضرت کی زیارت ہوئی حاصل
 اللہ اللہ زوار کے منہ پر طمانچہ لگنے سے،اور وہ بھی اس بے ادبی کی وجہ سے جناب شاہؑ خراسان کے قلب پر ایسا صدمہ گزرا۔لیکن بعد شہادت سید الشہداؑ  ظالموں نے معصوم سکینہ کے کانوں کے بندے اس طرح کھینچے کہ کان زخمی ہو گئے۔لویں چاک ہو گئیں۔اور پھر اس یتیم بچی کے نازک رخسار طمانچوں سے زخم کر دیے۔ رونے والو اس وقت روح امام مظلومؑ پر کیسی اذیت ہوئی ہو گی۔اور کس قدر صدمہ ہوا ہو گا۔کہ نظم
 زوار رضا کا جو قلق سے ہوا گریاں
تھرا گئی اس دم لحد شاہ خراسان
اور جب کہ سکینہؑ پہ ہوئے ظلم فراواں
لکھا ہے کہ تھرانے لگا قتل کا میدان
رخسار سکینہؑ پہ طمانچہ جو لگا تھا
تب لاشہ شاہ شہدا کانپ رہا تھا
الغرض زواروں کے لیے مقام فخر ہے کہ
دنیا پہ زواروں کا تو ھے یہ کرم شاہؑ
اور حشر میں رتبہ یہ عطا ہوئوئے گا واللہ
جب خلد میں شبیرؑ رواں ہو نگے بصد جاہ
زوار وعزادار بھی سب ہوئیں گے ہمراہ
غل ہو گا کہ تھامے ہوئے دست شاہ دیں کو
شبیرؑ کے زوار چلے خلد بریں کو
ناگاہ رضا ہوئیں گے آگے سے نمودار
اک ناقہ نورانی فرس پہ اسوار
ہوئے گا گروہ ملک وحور جلوہ دار
اور ناقہ مولا کو لیے حلقہ میں زوار
بولے گا منادی یہ سواری ہے رضاؑ کی
آمد ہے یہ مظلومؑ غریب الغربا کی
 کی اعجب اس وقت ناقہ سے اتر کر جناب شاہ ؑ خراسان اپنے جد بزرگوار سے عرض کریں۔ کہ اے جد مظلوم جنت میں اپنے زواروں کو لے کر پہلے میں جائوں گا۔
نظم
ہو کر متبسم یہ کہیں گے شاہ مظلوم
تقدیم کا باعث تو بھلا ہو مجھے معلوم
تب عرض کریں گے یہ رضاؑ سید معصوم
میں خورد ہوں اور آپ بزرگ اے شاہ مغموم
گو آپؑ کے بیٹوں میں میں غریب الغربا ہوں
مظلومی وتنہائی میں لیکن میں سوا ہوں
فرمائیں گے تب سید مظلومؑ کہ کیونکر
تم پر تو نہیں ظلم ہوئے میرے برابر
تم قتل اکیلے ہوئے اے جان پیمبرؑ
اک دن میں ہو ئے قتل میرے دوست بہتر
تم کو تو فقط زہر ہی قاتل نے دیا تھا
قاتل تو نہ بیٹا ترے سینے پہ چڑھا تھا
اکبرؑ سا پسر کون ہوا قتل تمہارا
بچہ کوئی اصغرؑ سا گیا ہاتھوں پہ مارا
پیارے مرے کیا پوچھتے ہو حال ہمارا
مر جانے پہ لاشہ ہوا پائمال ہمارا
تم کو تو پس از مرگ ہوئی قبر میسر
چالیسویں تک ہم رہے بے گور زمین پر
روئیں گے رضاؑ واقعہ شبیرؑ کا سن کر
اور عرض کریں گے کہ بجا کہتے ہیں سرور
حضرتؑ کے برابر کسی درجہ میں تو کب ہوں
اب اپنی غریبی پہ میں انصاف طلب ہوں
ہاں آپؑ بڑے ظلم وستم سے گئے مارے
پر آپؑ کے لاشے پہ حرم روتے تھے سارے
اور ہم تو عجیب وقت میں دنیا سے سدھارے
رونے کو بھی تھا کوئی نہ لاشہ پہ ہمارے
زینبؑ نے تمہارے لیے سر کھولا تھا رن میں
میں قتل ہوا جب میری خواہر تھی وطن میں
میرا تو وطن دور تھا ناموس بھی تھے دور
تنہائی وغربت میری حاکم کو تھی منظور
جس وقت کریں گے رضا شاہ سے مذکور
لکھا ہے کہ روئیں گے نہایت ملک وحور
شبیرؑ کو ہوئے گا قلق حال رضاؑ پر
وہ روئیں گے مظلومی شاہ شہدا پر
اس وقت وہاں آکے کہیں گے یہ پیمبرؑ
اے پیارو جو ہم فیصلہ کردیں وہ ہے بہتر
تو دست رضا تھام لے اے کشتہ خنجر
تا داخلہ جنت میں ہو دونوں کا برابر
تم دونوں کے زائر بھی اسی طرح رواں ہوں
یکبارگی سب داخل گلزار جناں ہوں
ارشاد پیمبرؑ پہ رضاؑ ہوں گے رضا مند
اور دست رضا تھامے گا زہراؑ کا جگر بند
ایک ایک کا رخ روشنی میں چاند سے دو چند
زائر بھی یونہی جائیں گے بس خرم وخورسند
معنی ہیں محبوں پہ یہی لطف وعطا کے
قربان میں شبیرؑ  کے صدقے میں رضاؑ کے
کیوں شفقت مولا پہ نہ زوار کریں ناز
محسن جسے اپنا کہے وہ شاہ سرفراز
زائر تو زیارت کو ادھر کرتا ہے آغاز
دیتے ہیں رضاؑ قبر سے لبیک کی آواز
شبیرؑ کو جس طرح عزادار ہیں پیارے
ان کو بھی اسی طرح سے زوار پیارے
 آپ نے امام اور رسول خدا کی شفقت ومرحمت سماعت کی۔ اب کچھ اپنے آٹھویں امامؑ کی غربت و مصیبت بھی  سنیے۔اس میں شک نہیں کہ جناب امام حسینؑ پر جو مصائب گزرے،ابتدائے آفرینش سےاس وقت تک کسی نبیؑ اور کسی وصی پر نہیں گزرے۔لیکن جناب امام رضاؑ کے مصائب بھی قریب قریب اپنے جد بزرگوار کے مصائب سے ملتے جلتے ہیں۔چنانچہ سید الشہداؑ کا مدینہ سے نکلنا،سفر کی مصبتیں اٹھانا،حضرت زینبؑ سے جدا ہونا،حضرت زین العابدین کا کربلا میں بہ اعجاز آکر لاشہائے شہداؑ کو دفن کرنا۔پھر حضرت زینبؑ کا ایک باغ میں بعالم غربت دفن ہونا، ابتدا سے انتہا تک جو مصائب گزرے،بعینہ آپ کے آٹھویں امام پر بھی گزرے من مولئف
 شبیرؑ پہ جو ظلم ہوئے سب پہ عیاں ہیں
حالات رضا ؑ کے بھی مگر نشتر جاں ہیں
چنانچہ رویت ہے نظم
 ماموں نے جب شاہؑ خراساں کو بلایا
تاریک دروں نے ماہ تاباں کو بلایا
گمراہ نے خضر رہ ایماں کو بلایا
ناچیز نے شہنشاہ دوراں کو بلایا
آپس میں سخن تھا یہی محتاج وغنی کا
ویران ہوا چاہتاتھا شہر نبیؑ کا
کرتے ہیں بیاں راوی اخبار مصیبت
مانوس تھی حضرت سے بہت خواہر حضرت
تھی حضرت زینبؑ کی طرح بھائی کی الفت
چھائی تھی شب صبح سفر غم کی جو ظلمت
شام اجل اس رات کی ایک ایک گھڑی تھی
آئی نہ انہیں نیند کہ تشویش بڑی تھی
اللہ سے کرتی تھی دعا کھولے ہوئے سر
بھائی کو مبارک ہو سفر خالق اکب
محفوظ رہیں خیر سے پھر آئے برادر
تاحشر رہے بھائی کا سایہ میرے سر پر
اس نور نظر حیدرؑ وزہراؑ کو بچانا
مظلوم میرے بھائی کو تنہا کو بچانا
 جس طرح ثانی زہراؑ حضرت زینبؑ سلام اللہ علیھا کو صبح عاشور جناب سید الشہدا کا رنج وملال تھا۔اسی طرح فاطمہ خواہر امام رضاؑ کو بھی بے قراری تھی۔چنانچہ روایت ہے کہ  جب تمام رات سر برہنہ صحن خانہ میں کھڑی ہوئی رو رو کر دعا کرتے کرتے بے ہوش ہو گئیں۔نظم
سب عورتیں کہتی تھیں کہ غم آپؑ نہ کھائیں
وسواس کریں رات کو آنسو نہ بہائیں
بی بی جو خدا چاہے تو جاتے ہی پھر آئیں
ضائع نہ کہیں جائیں گی ہم سب کی دعائیں
جو لوگ جدا ہوتے ہیں پھر کیا نہیں ملتے
پردیس کو جو جاتے ہیں کیا پھر نہیں ملتے
خواہر امامؑ ان بیبیوں سے فرماتی تھیں کہ اے بیبیو اس گھر پر عجیب اداسی سی چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔بہار جا رہی ہے۔ اور خزاں آرہی ہے۔در ودیوار سے نالہ وفریاد کی آوازیں ہیں۔میرے نصیب برے ہیں۔ تم سے کیا بیان کروں۔میرا بھائی یک وتنہا بے یار ومددگار عازم سفر ہے۔ بیت
ہیں یاس کے آثار عیاں ارض وسما سے
دل ٹکڑے ہوا جاتا ہے آواز بکا سے
 الغرض اسی حزن  ملال میں وہ شب آخر ہوئی۔اور مسجدوں میں اذان کی آوازیں بلند ہوئیں۔ نظم
 تھا صبح کا آغاز اندھیرا تھا ابھی آہ
جاتا تھا کوئی در پہ کوئی کھڑا تھا ذیجاہ
گردوں کی طرف دیکھ کے بھرتا تھا کوئی آہ
کہتا تھا کوئی رو کے یہ با حالت جانکاہ
غم چھایا ہے دل پہ کہ اب جاتے ہیں آقا
ہے دور بہت دیکھیے کب آتے ہیں آقا
پھر راہروں نے کہا ہر اک سے یہ بڑھ کر
آمد ہے ابھی تک مگر آئے نہیں باہر
ہے منتظر ایک ایک کی بس چشم سوئے در
ترتیب سے موجود ہیں سب اپنی جگہ پر
محشر ہے محل میں کہ حرم غش میں پڑے ہیں۔
جو لوگ مقرب ہیں وہ ڈیوڑھی پہ کھڑے ہیں
 الغرض وظیفہ سے فارغ ہو کر امامؑ عالی وقار کا مصلےٰ سے اٹھنا تھا۔ کہ آنحضورؑ کی ہمشیرہ قریب آکر بلائیں لینے لگیں۔اور رو رو کر اپنے بھائی سے عرض کی کہ نظم
 اس گھر سے نہ جائو کہ میں گھبرائوں گی بھائی
تم کو جو نہ دیکھوں گی تو مر جائوں گی بھائی
کیونکر دل ناشاد کو بہلائوں گی بھائی
موت آئی تو کس سے تمہیں بلوائوں گی بھائی
آمادہ ہیں گر اہل ستم بے ادبی پر
 تم بیٹھ رہو روضہ رسولؑ عربی پر
حضرت نے کہا کیا کروں یارا نہیں خواہر
میں جائوں یہاں سے یہ گوارا نہیں  خواہر
کیا شاق مجھے ہجر تمہارا نہیں خواہر
پر خواہش تقدیر سے چارہ نہیں خواہر
جانے میں کروں عذر تو حق سے نہ ڈریں گے
ظالم اسی حیلے سے مجھے قتل کریں گے
 یہ سن کر آپؑ کہ بہن بے تاب ہو گئیں۔کثرت اندوہ والم سے دل پر قابو نہ رہا۔نگاہ حسرت ویاس سے روئے برادر کو دیکھ کر فرمایا، نظم
جانے کا قصد ہے جو ذیجاہ برادر
اچھا مجھے لیتے چلو ہمراہ برادر
فرمانے لگا رو کے وہ کونین کا مخدوم
سب حال حسینؑ ابن علیؑ ہے تمہیں معلوم
 ہمراہ تھے ناموس بھی بچے بھی تھے معصوم
آفت میں پھنسے سب وہ پس سید مظلومؑ
کوئی میرے آرام کا طالب نہیں خواہر
لے جائوں تمہیں ساتھ مناسب نہیں خواہر
گویا ہوئیں جس دم یہ سنی درد کی تقریر
کیا واں بھی اسی طرح سے پیش آئیں گے بے پیر
 دھیاں آپؑ کو یہ ہے کہ نہ بے پردہ ہو ہمشیر
قسمت میں اسیری ہے تو جو خواہش تقدیر
ہے فکر کہ محبوس نہ میں زار وحزیں ہوں
کچھ حضرت زینبؑ سے زیادہ تو نہیں ہوں
ابھی امام رضاؑ سے آپ کی ہمشیر یہ کہہ رہی تھی کہ  امام محمدؑ  تقی علیہ سلام روتے ہوئے پدر بزرگوار کے پاس آئے اور عرض کی کہ اے بابا اگر پھوپھی جان کی ہمراہی مناسب نہیں ہے تو میں ہمراہ چلوں گا۔ تاکہ سفر میں خدمت  کی سعادت حاصل کر سکوں۔ نظم
بے جرم وخطا دشمن جاں ایک جہاں ہے
رستے میں بھلا چین کا سامان کہاں ہے
لٹنے کا تردد کبھی یاں ہے کبھی واں ہے
ہر وقت تہہ دام بلا طائر جاں ہے
راحت نہیں ملتی مسافر کو سفر میں
دن کٹتا ہے تکلیف میںاور رات خطر میں
اس کے علاوہ اے پدر بزرگوار آپ کی جدائی بھی مجھ پہ بہت شاق ہے۔آپ کی فرقت میں کیونکر صبر آئے گا۔حضرت نے فرمایا کہ اے فرزند دل بند انسان کو ہر وقت صبر کرنا چاہیئے۔اور ہر حال میں راضی بہ رضا رہنا چاہیئے۔ ہراس واضطرار میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔خدا وند کریم حافظ ہے۔ نظم
 ہم جائیں سوئے طوس کہ تدبیر یہی ہے
تم گھر میں رہو خواہش تقدیر یہی ہے
آئیں گے ادھر اور کدھر جائیں گے پیارے
خود ہو گی خبر تم کو جو مر جائیں گے پیارے
ہر طور سے دن غم کے گزر جائیں گے پیارے
واں سے سوئے فردوس اگر جائیں گے پیارے
آنے میں ذرا دیر نہ پھر کیجیو بیٹا
واں آکے ہمیں غسل وکفن دیجیو بیٹا
لکھوں گا تمہیں خط پس از قطع منازل
رکھے تمہیں محفوظ میرا خالق عادل
تم ہو گے میرے بعد امام اے ماہ کامل
کی عرض انہوں نے کہ تڑپتا ہے میرا دل
ہر بات میں دل یاس سے بھر دیتے ہو بابا
کیا مجھ کو یتیمی کی خبر دیتے ہو بابا
 الغرض باصد رنج ومحن آپ اہل بیت کو سمجھا کر باہر تشریف لائے۔ در دولت پر اصحاب باوفا کا مجمع تھا۔حضرت نے سب سے کلمات تسلی وتشفی  ارشاد  فرمائے۔بیت
لو اہل عزا وارث قرآن کا سفر ہے
ہے حشر بپا شاہ خراسان کا سفر ہے
اے ماتمیو مالک ایماں کا سفر ہے
ویراں ہے مدینہ شاہ ذی شاں کا سفر ہے
ہے کوچ گرفتار بلا ہوتے ہیں آقا
اب قبر محمدؑ سے جدا ہوتے ہیں آقا
ہلتی ہے ضریح لحد احمدؑ مختار
سر پیٹتے ہیں اہل مدینہ سر بازار
تاثیر غم ہادی ہشتم ہے نمودار ہے
سینوں میں تڑپ جاتے ہیں دل شیعوں کے ہر بار
ہر صاحب دیں خاک اڑاتا ہے جہاں میں
عاشور کا عالم نظر آتا ہے جہاں میں
ہاں بہر امام دوجہاں خاک اڑائو
آنکھوں سے کرو اشک رواں خاک اڑائو
شیعو ہے دم آہ وفغاں خاک اڑائو
روتے ہیں ملک آکے یاں خاک اڑائو
فریاد جگر زہر سے چھانیں گے رضاؑ کا
ماتم میں ہو غل ہائے غریب الغربا کا
 الغرض وہ امام اہل مدینہ سے رخصت ہوئے۔اور صعوبات سفر برداشت کرتے ہوئے یک وتنہا نظم
داخل ہوئے جب طوس میں شہنشاہ ابرار
غل پڑ گیا ہر ایک محلے میں یہ اک بار
لو آئے رضاؑ خالق مختار کے مختار
ماموں کا مکاں ہو گیا اک تختہ گلزار
قصر ستم ایجاد میں تصویر علیؑ تھے
بت خانہ میں شمع حرم لم یزلی تھے
ہے ہیبت حق چہرہ مولا سے نمودار
ہوتا تھا برآمد جو وہ کونین کا مختار
مجرے کے لیے اٹھتا تھا دربار کا دربار
پردے کو اٹھاتے تھے رئیسان خوش اطوار
جب دیکھتے تھے شوکت واجلال محمدؑ
کہتے تھے بہم صل علیٰ آل محمد
 جب امام مظلوم کی یہ شان وشوکت ان لوگوں نے دیکھی،تو اس ملعون وبے دین کے سردار اور  روسا نے باہم مشورہ کیا،کہ اب جس وقت آپؑ باہر تشریف لائیں کوئی تعظیم وتکریم نہ کرے اور نہ کوئی پردہ اٹھائے۔اگرچہ یہ مشورہ کرکے آپس میں طے کر لیا تھا،نظم
پر وقت طلوع قمر دین کا جو آیا
پس رعب جگر بند ید اللہ کا چھایا
بے ساختہ پردہ انہی لوگوں نے اٹھایا
غل تھا کہ ہمیشہ رہے اللہ کا سایہ
معلوم ہوا نور خدا پیر وجواں کو
ہاتھ اٹھ گئے تسلیم امام دوجہاں کو
اس وقت وہ مردود ازلی منفعل ہو کر ایک دوسرے کو اشارہ کرتے تھے کہ کیوں کچھ نہ ہو سکا۔ بے شک  یہ اعجاز امامت ہے۔الغرض نظم
 تھا تیسرا دن جمع تھے مامون کے انصار
معمور تھا دربار یہ تھی کثرت حضار
موجود تھے ہتھیار سجے فوج کے سالار
ظالم کے محل میں تھے شہنشاہ خوش اطوار
سرداروں کو یاں فکر تھی بے ادبی کی
آمد ہوئی فرزند امام عربی کی
اس روز بھی باہم قسم کھا کے بیٹھے تھے ۔ مگر خود بخود بہ اعجاز امامت پردہ اٹھ گیا۔جس وقت یہ  حال ان ملعونوں نے دیکھا،تو اپنا وعدہ توڑ کر تعظیم کو اٹھ کھڑے ہوئے۔ نظم
 تھے محو دعا چاروں طرف بے کس و محتاج
قائل تھے عدو بھی کہ نہیں ان کا جواب آ ج
تھا سبز عمامہ صفت صاحب معراج
اللہ نے سید کو زمرد کا دیا تاج
کرسی پہ جو بیٹھے تو عجب جلوہ گری تھی
شمشیر دو دم زانوئے اقدس پہ دھری تھی
ارشاد کیا آپ نے العزۃ للہ
رخصت ہوئے کچھ دیر میں واں سے شاہ ذی جاہ
اس عالم حیرت میں یہ گویا ہوئے گمراہ
خود حکم الہیٰ سے اٹھا پردہ در وا
کہتے نہیں اعجاز تو کیا کہتے ہیں اس کو
قائل تھے عدو فضل خدا کہتے ہیں اس کو
اس واقعہ سے جب ہوئے ملعون پشیمان
پھر دوسرے دن کیا کہوں کہ کیا کیا سامان
اے مومنو اب چاک کرو اپنے گریبان
 لو جاتے ہیں مولا طرف روضہ رضوان
کچھ حق سے کیا خوف نہ اس دشمن دین نے
 انگوروں میں حضرت کو دیا زہر لعیں نے
سینہ میں جگر کر دیا اس زہر نے پارا
احوال دگرگوں ہوا مولا کا قضا را
مجلس سے اٹھا موسیٰ کاظم کا جو پیارا
فرماتے تھے مامون ستمگار نے مارا
دم لینا بھی دشوار ہے اب ٹکڑے جگر ہے
بس اب کوئی دم میں میرا دنیا سے سفر ہے
یہ  کہتے ہوئے آپؑ اس مجلس ناہنجار سے اٹھے۔اور فرمایا کہ اے ملعون اس کا عوض قیامت میں میرے جد بزرگوار جناب رسولؑ مقبول اور میری جدہ  ماجدہ بتولؑ عذرا لیں گی،نظم
  وہ بولا کہاں جاتے ہو اے سید خوش خو
شاہؑ نے کہا واں تونے جہاں بھیجا ہے ہم کو
داخل ہوئے پھر گھر میں شہنشاہ رضاؑ جو
فرمایا یہ ابو الصلت سے مولا نے یہ رو رو
تو روئے گا میرے لیے میں آج مروں گا
لا طشت کہ اب خون جگر قے میں کروں گا
 اب آگے قلب کو بیاں کا یارا نہیں،سینہ شق ہوا جاتا ہے۔کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ المختصر نظم
 حاضر کیا جو طشت ابوالصلت نے لا کر
قے کرنے لگے جھک کے شاہ بے کس و مضطر
ٹکڑے کئی سینہ کے ہوئے جگر سے باہر
حجرے کا کیا بند ابوالصلت نے تب در
صدمہ یہ ہوا بادشاہ کون ومکاں کو
تیاری آقا ہوئی گلزار جناں کو
غش کھا کے ابوالصلت گرے خاک پہ اک بار
کہتے تھے ہے  ہے میرے مالک میرے مختار
ناگاہ وہ کیا دیکھتے ہیں بے کس و ناچار
 اک طفل ہوا نور کی صورت میں نمودار
 زنہار نہ تھا کام اسے عیش وفرح سے
روتا تھا وہ معصوم یتیموں کی طرح سے
کی عرض ابو الصلت نے با نالہ وفغاں
تم کون ہو بتلائو مجھے نام میں قربان
تب رو کے ابو الصلت سے بولا یہ وہ ذیشان
میں وہ ہوں یتیمی نے کیا ہے جسے حیران
بس اب ہوں امام اور میں عاشق ہوں خدا  کا
ہے نام محمدؑ میرا بیٹا ہوں رضاؑ کا
 اگر چہ امامؑ نے رخصت کے وقت امام محمد تقیؑ کو مدینہ منورہ میں چھوڑا تھا۔مگر حدیث میں وارد ہے کہ امام کی تجہیز وتکفین امامؑ ہی کرتا ہے۔لہذا آپ بہ اعجاز امامت اپنے پدر بزرگوار کی   آخری خدمت انجام دینے تشریف لائے۔جس طرح راہ شام سے سید الشہداؑ کو دفن کرنے جناب سید الساجدینؑ آئے تھے۔الغرض جناب محمد تقیؑ جب آئے تو نظم
 پھر پاس پدر کے گیا وہ عاشق غفار
مولا نے نظر کی رخ فرزند پہ اک بار
چھاتی سے لگا روئے انہیں سید ابرارؑ
تعلیم کیے علم امامت کے سب اسرار
بالائے فلک شور ہوا آہ وفغاں کا
دنیا سے ہوا کوچ امامؑ دوجہاں کا
نہلانے لگا شاہ کو پھر باپ کا جایا
اور قدرت اللہ سے تابوت اٹھایا
شاخ شجر سدرہ سے تھا حق نے بنایا
کفنا کے اسی میں شاہ بے کس کو لٹایا
تھی دھوم رسولوں میں ملائک میں بکا کی
میت پہ نماز آپؑ نے جس وقت ادا کی
 الغرض امامؑ غریب الدیار کوامام محمد  ؑ تقی ؑ نے دفن کیا۔اور بے اعجاز مدینہ   واپس تشریف لے گیے۔
 کیا غم جو  سر پہ بار گناہ کثیر ہے
اولاد میں امام رضاؑ کی وزیر ہے

Comments

Popular posts from this blog

انتیسویں مجلس امام حسین کی دعا سے خدا وند کا راہب کو سات فرزند عطا فرمانا

﷽ انتیسویں مجلس امام حسین علیہ السلام کی دعا سے خدا وند قدیر کا راہب کو سات فرزند عطا  فرمانا،پھر بعد شہادت امامؑ کے سر اقدس کا خانہ راہب میں پہنچنا،راہب کا سیدانیوں کے لیے چادریں نذر کرنا،اور اشقیا کا وہ بھی چھین لینا  اعجاز ابن فاطمہؑ سے وہ نوید ہو واللہ ناامید کے دل کو امید ہو  اے عاشقان سید الشہدا فخر ومباہات کا مقام ہے،کہ ہم سب امام مظلومؑ کے ماتم میں شریک ہیں۔ اس جناب کی ماتم داری اور گریہ وزاری کے سبب اس سوگواروں کو خدا نے کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔کہ جس قدر ہم فخر ومباہات کریں کم ہے۔ بیت  دربار سخی کا ہے یہ مجلس ہے سخی کی یہ بزم عزا مومنو ہے سبط نبیؑ کی نظم پس حضرت صادق سے یہ مضمون عیاں ہے سامان غم سیدؑ مظلوم جہاں ہے  اس شخص کی آنکھوں سے اگر اشک رواں ہے ہر فرد کے اوپر قلم عفو رواں ہے اس پر بھی ترقی ہوئی یہ رحمت رب کو گر ایک بھی روئے گا تو ہم بخشیں گے سب کو خالق کاتو وہ حکم محمدؑ کی یہ گفتار کیا اپنے نواسے کے فضائل کروں اظہار جو اس سے ہے بےزار خدا اس سے ہے بیزار جو اس کا مددگار خدا اس کا مددگار بیٹھے گا جو یاں بزم عزائے شاہ دیں میں ہمس...

ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات

پینتسویں مجلس ذکر ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور  ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات  ذکر چہلم ہو جیے مغموم دفن ہوتے ہیں سید مظلومؑ عزا داران جناب سیدؑ ا  لشہدا آگاہ ہوں کہ جس قدر مصائب وآلام حسینؑ مظلوم پر گزرے نہ کسی نبیؑ پر گزرے نہ کسی وصی پر۔اور بضعتہ الرسولؑ جناب سیدہؑ کے بعد جناب ثانی زہراؑ نے جو مصائب برداشت کیے۔دنیا میں کسی بی بی کا جگر نہیں جو سہہ سکے ، رباعی  ناناؑ کو روئی ماں کا جنازہ دیکھا بابا کا بڑے بھائی کا لاشہ دیکھا  زینبؑ کی غرض حیات روتے ہی کٹی ہے عاشور کو کیا کہوں کہ کیا کیا دیکھا  اور جس طرح اس مخدومہ کائنات کے بھائی امام مظلومؑ کی ولادت کے وقت تہنیت کےساتھ تعزیت کا بھی شور تھا۔اسی طرح جناب زینبؑ کی ولادت کے  وقت خوشی کے ساتھ رنج و ملال کا بھی ہجوم تھا۔چنانچہ شاہزادی کی ولادت کے وقت کا حال کتب تواریخ وسیر میں مرقوم ہے کہ جب حضرت زینبؑ پیدا ہوئیں،تو کنیز جناب فاطمہ زہراؑ نہایت خوش ومسرور ہو کر جناب رسولؑ مقبولؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کی    شعر۔  ہووئے یہ نواسی تمہیں ...

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ شیریں میں پہنچنا

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ   شیریں میں پہنچنا  اے مومنو ہاں دیکھو کہ کیا کرتے ہیں شبیرؑ دو وعدوں کو اک سر سے وفا کرتے ہیں شبیرؑ راویان روایت رنج  و ملال تحریر کرتے ہیں، کہ جس وقت بانوئے محترم شاہزادی عجم جناب امام حسینؑ علیہ السلام کی خدمت با برکت میں آئیں،تو آپ کے ہمراہ اکثر کنیز یں بھی تھیں،منجملہ ان کے اس شاہزادی کی شیریں ایک کنیز خاص بھی تھی۔ جناب بانو نے شیریں کے سوا سب کنیزوں کو آزاد کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ شیریں بہت خوش چشم تھیں۔ایک روز جناب امام حسینؑ نے حضرت شہر بانو سے حمد پروردگار کرتے ہوئے شیریں کی آنکھوں کی مدح کی۔آپ نے بھی امام کی تائید میں ثنا فرمائی۔اور عرض کی، بیت  سب خاک ہیں تم فاطمہؑ کے نور نظر ہو ہے عین خوشی میری جو منظور نظر ہو نظم شیریں تو ہے کیا چیز بھلا تم پہ میں واری ہے جان جو شیریں وہ نہیں آپؑ سے پیاری شیریں میری لونڈی ہے میں لونڈی ہوں تمہاری لو نذر یہ میں کرتی ہوں اے عاشق باری مظلب تو ہے خوشنودی شاہ دوجہاں سے بخشا دل وجاں سے اسے بخشا دل وجاں سے  حضرت شہر بانو کا یہ کلام سن کر سلطان کونین امام...