Skip to main content

چونتیسویں مجلس زندان شام میں دختر امام مظلومؑ کی وفات

چونتیسویں مجلس زندان شام میں دختر امام مظلومؑ کی وفات
 چین زنداں میں سکینہؑ کو نہیں آتا ہے
باپ کی یاد میں دل غم سے پھٹا جاتا ہے
 راویان مصائب آل عبا بیان کرتے ہیں۔ کہ جب جناب امام مظلومؑ کی شہادت کے بعد اہل بیت اطہار
شام میں آئے۔اور یزید کے مصائب اٹھانے کے بعد ایک تنگ وتاریک قید خانے میں مقید کیے گئے۔ تو منہال بیان کرتے ہیں۔ کہ ایک روز جناب سید الساجدین امام زین العابدینؑ کو میں نے دیکھا کہ با جسم نخیف وزار ایک عصا پر سہارا دے کر زندان کے دروازے پر کھڑے ہیں۔میری نگاہ حضرت کے پیروں پر جا پڑی تو دیکھا کہ مثل خشک لکڑی کے سوکھے ہوئے ہیں۔اور آنحضرت کی پنڈلیوں سے متصل خون جاری ہے۔اور چہرہ اقدس مثل زعفران کے مانند زرد ہے۔ یہ دیکھ کر مجھ کو تاب نہ رہی،اور اس قدر رویا کہ ہچکی لگ گئی۔پھرمیں نے مزاج پرسی کی تو ارشاد فرمایا کہ اے منہال کیا پوچھتے ہو۔اس شخص کا حال کیا پوچھتے ہو۔ جس کا باپ ،چچا، عزیز اور بھائی دوپہر میں قتل کیے گئے ہوں۔اور بیماری کی حالت میںکربلا سے شام تک زنجیروں میں جکڑا ہوا  پیدل آیا ہو۔اور اس کی ماں بہنیں شتران بے کجاوہ پر سر برہنہ کوچہ وبازار میں تشہیر ہوئی ہو۔اور اس کو کھانا اور پانی نہ ملتا ہو۔ بلکہ عزیزوں کے غم میں رونے کی بھی ممانعت ہو۔ اس کے اہل بیت ایسے تنگ وتاریک قید خانہ میں مقید کیے گئے ہوں۔ جس کی دیواریں شق ہوں۔اور چھت ایسی ہو کہ دن کی دھوپ اور رات کی اوس نہ رک سکے۔اور نہ کسی طرف سے ہوا کا گزر ہو۔اگر چہ میں گھبرا کے نکل آیا ہوں۔ مگر یہ نکلنا بھی ناگوار ہے۔ کیونکہ تمام سیدانیاں اور بچے تو اسی گرمی میں گھٹ رہے ہیں۔منہال کہتے ہیں کہ ابھی حضرت یہ فرمارہے تھے۔ کہ ناگہاں ایک معظمہ کے رونے کی آواز قید خانہ سے آئی،کہ اے نور نظر اے پارہ جگر تم کہاں ہو؟ جلد آئو۔ تمہاری مفارقت کی اتنی بھی تاب نہیں ہے۔ سمجھے حضرات وہ آواز کس کی تھی۔ وہ آواز آپ کی شاہزادی حضرت زینبؑ کی تھی۔ کہ اپنے بھتیجے کے فراق میں بے چین ہو کر پکار رہی تھیں۔ جس کو سن کر جناب بیمار کربلا زندان میں چلے گئے۔اور کتاب منتخب وغیرہ میں تحریر ہے کہ اسی قید خانہ میں جناب امام حسینؑ کی کم سن بیٹی بھی قید تھی۔ جس کا نام سکینہ مشہور ہے۔ اس وقت آپ کا سن چار سال کا تھا۔جناب امام حسینؑ حضرت سکینہؑ کو بہت پیار کرتے تھے۔اور وہ شاہزادی بھی اپنے پدر بزرگوار سے بہت مانوس تھی۔اور امام مظلوم اس کو اپنے سینہ اقدس پہ سلایا کرتے تھے۔مگر افسوس ہے کہ دس محرم سے اس بچی کو سونے کے لیے وہ سینہ نصیب نہ ہوا۔اور اس قید خانہ میں گھبرا  گھبرا کر سب سے پوچھتی تھی کہ بابا کہاں گئے ہیں۔ بلادو،مجھ سے تو اس مکان میں رہا نہیں جاتا؛اور روتی تھی۔ اس کی گریہ وزاری سے اور نالہ وبےقراری سے کسی کو چین نہ تھا۔  نظم
 کرتے سے منہ کو ڈھانپ کے کرتی تھی یہ بیان
کس بن میں چھپ کے بیٹھگئے ہائے بابا جان
سوئے ہیں در میں قفل لگا کر نگہابان
ڈھونڈوں نکل کے تم کو کہاں یا شاہؑ زمان
جو آپ سے ہلا ہو اسے لے کے جاتے ہیں
 جاتے ہیں گر کہیں تو پتا دے کے جاتے ہیں
آرام اب مجھے نہیں دم بھر میں کیا کروں
مجھ کو تو کاٹے کھاتا ہے یہ گھر میں کیا کروں
غم کے جگر پہ چلتے ہیں خنجر میں کیا کروں
نیند آئے قید خانے میں کیوںکر میں کیا کروں
ڈھونڈو کہاں نکل کے شاہؑ مشرقین کو
کس نے چھپا رکھا ہے مرے بابا حسینؑ کو
 اس کو جناب زینب  ؑ آغوش میں لے کر فرماتی تھیں۔کہ اے نور دیدہ حسینؑ سو رہو۔ اب عنقریب ترے بابا سفر سے آئیں گے۔ مگر وہ معصوم کب مانتی تھی۔پھر حضرت امام زین العابدینؑ کے پاس آکر فرماتی تھیں۔کہ بیٹا تم امام ہو، تم سکینہ  ؑ کو سمجھائو۔ وہ اپنی جان ہلاک کیے ڈالتی ہے۔یہ سن کر سید سجاد اس بچی کے قریب تشریف لاتے،اور کلمات تسلی وتشفی دے کر فرماتے کہ اے سکینہ  ؑ تم صابرہ کی پوتی ہو۔
تم کو صبر چاہیئے۔ بی بی سو رہو۔ نظم
 وہ کہتی تھی دھڑکتا ہے دل ہائے کیا کروں
کس سے کہوں جو شاہ کی خبر لائے کیا کروں
کس طرح سے بتایئے چین آئے کیا کروں
یہ در کسی طریق سے کھل جائے کیا کروں
بابا نہ آئیں گے نہ مجھے نیند آئے گی
بھیا یہ رات جان میری لے کے جائے گی
 یہ سن کر جناب امام زین العابدینؑ فرماتے تھے کہ اے سکینہؑ خدا کے کارخانہ میں بندہ کا دخل نہیں۔ جو مالک کی رضا، بیت۔
غربت میں اک تم ہی نہیں بچھڑی حسینؑ سے
ہم بھی تو چھٹ گئے شاہ مشرقین سے
نظم
صغراؑ کو دیکھو وہ مرض اور وہ اجاڑ گھر
کیسا پٹکتی ہو گی وہ گھٹ گھٹ کے پنا سر
اکبار سارے کنبے سے چھوٹی وہ نوحہ گر
 ماں ہے تمہارے پاس جو سر پر نہیں پدر
 نعمت ہے قرب مادر عالی وقار کا
رونے کے بدلے شکر کرو کردگار کا
 اب تم پھوپھی جان کی گود میں لیٹو،ہم طوق وزنجیر کی گرانی سے ناچار ہیں۔ورنہ ہم خود اپنے سینہ پر لٹاتے۔ اگر تم خاموش ہو کر سنو تو ہم وہاں کی باتیں بیان کریں۔جہاں تمہارے بابا جان تشریف لے گئے ہیں۔ امام عالی مقام کا یہ ارشاد سن کر ھناب سکینہؑ  فورا" اپنی  پھو  پھی جان کی گود میں لیٹ گئیں۔
اور جناب سجادؑ سے کہا کہ بھیا اب مرے بابا جان کا حال سنایئے۔ نظم
سجادؑ نے کہا کہ جہاں ہیں شاہ امم
نام اس مکان پاک کا ہے گلشن ارم
 یاقوت سرخ کا ہے وہ قصر فلک حشم
 ہے جس کے آگے عرش بریں مرتبہ میں کم
ہے واں کی چاندنی میں ضیا آفتاب کی
سب مشک کی زمیں ہے تو نہریں گلاب کی
ہے سلسبیل وچشمہ وکوثر ادھر ادھر
پانی ہے جس کا مشک سے خوشبو زیادہ تر
 برف اس کے آگے گرم ہے کچھ سرد اس قدر
لذت میں فوق ہے شکر وشہد شیر پر
آب گہر سے بھی ہے صفا آب وتاب میں
حق نے اسی کا وصف لکھا ہے کتاب میں
ہے بیچ میں مکان رسولؑ فلک حشم
قصر جنابؑ شیر خدا اس کے ہے بہم
اس کے قریب منزل زہراؑ ئے باکرم
ہیں اس طرف حسنؑ تو ادھر قبلہ امم
ایذا بہت اٹھائی تھی دنیائے زشت میں
پانچوں خدا کے نور بہم ہیں بہشت میں
وہ نعمتیں بہشت کی ہیں شاہ کے رو برو
بہتر ہے باغ خلد  کے پھولوں سے جن کی بو
لبریز جام دیکھتے ہیں جب کنارے جو
روتے ہیں سر جھکا کے شہشاہ نیک خو
پانی کو دیکھ کر نفس سرد بھرتے ہیں
 ہر وقت بابا جان تمہیں یاد کرتے ہیں
جس وقت حوریں لاتی ہیں کوثر کے بھر کے جام
فرماتے ہیں کہ آہ سکینہؑ ہے تشنہ کام
دادی کے پاس رہتے ہیں اصغرؑ تو صبح وشام
واں دخل کیا کسی کا تمہارا ہے جو مقام
ایسا ہو عشق جس سے اسے بھول جائیں گے
 چھاتی پہ بابا جان تمہیں کو سلائیں گے
ہمشکل مصطفےؑ ہو کہ اصغر ؑ سا گلعذار
گو سب تھے نور چشم امام فلک وقار
 تم پر رہے عنایت شبیرؑ بے شمار
 ہاں سچ کہو کسی پہ بھی تھا اس طرح کا پیار
اس پیار سے کسی کو بھی گودی میں لیتے تھے
 تم پر تو قبلہ دوجہان جان دیتے تھے
 یہ سن کر جناب سکینہ ؑ پر پھر گریہ طاری ہوا۔اور جناب امام زین العابدین سے عرض کی جب بابا میرے ایسے مکان میں ہیں، تو مجھ کو کیوں کر یاد کریں گے۔ بھائی اصغر ؑ و محمدؑ وعبداللہ سب ان کے دل بہلانے کو موجود ہیں۔ یہ سن کر جناب زینبؑ نے فرمایا کہ میری راحت جان سکینہ  ؑ سنو میں ایک کہانی سناتی
ہوں۔جناب سکینہؑ نے عرض کی کہ پھوپھی اماں کس کا قصہ کس کی کہانی۔میں اپنی مصیبت میں ہوں۔میرے دادا علی مرتضے  ؑ شہید ہوئے۔حسن  ؑ مجتبیٰ کو زہر دیا گیا۔  جناب فاطمہؑ ورسولؑخدا نے اس دنیا سے رحلت فرمائی۔ ایسے ستم رسیدہ کو کہانی کب خوش آتی ہے۔ ہاں اگر ایسی کہانی ہو جس کو سن کر اشک بہائوں تو سنایئے۔ نظم
بولی زینبؑ کہ میں وہ قصہ سنائوں تم کو
بھول جائیں تجھے یہ حادثے سب اے خوشخو
کہا رو رو کے سکینہ نے کہ اب جلد کہو
پر وہی قصہ مطابق جو میرے حال کے ہو
کہنے والے کا  تودل غم سے ادھر ٹکڑے ہو
سننے والے کا ادھر سن کےجگر ٹکڑے ہو
پھر تو افسانہ یہ کہنے لگی حضرتؑ کی بہن
بیٹی اک شہر ہے یثرب شرفا کا مسکن
رو کے بولی یہ سکینہؑ جو ہمارا ہے وطن
جس مدینہ سے نکل کر ہوئے محبوس رسن
 باپ کے سینے پہ واں چین سے میں سوتی تھی
بھائی اکبر ؑ کی وہیں سال گرہ ہوتی تھی
 کہا زینبؑ مدینہ وہی ہاں میں واری
 اب سنو اک شہنشاہ تھا واں اے پیاری
حق نے بخشی اسے کونین کی تھی مختاری
رات دن کرتا تھا وہ یاد جناب باری
ہر سحر عید تھی ہر شب کو نئی شادی تھی
اس کے دم سے عجب اس شہر کی آبادی تھی
بیٹی اس شہر کی تعریف کروں تم سے میں کیا
بخدا خلق خدا کے لیے تھا لطف خدا
گھر میں کچھ اس کے نہ تھا دولت ایمان کے سوا
رحم دل اہل کرم پشت پناہ غربا
 ذات سے اس کی کسی شخص کو آزار نہ تھا
اپنے دشمن کی بھی ایذا کا روادار نہ تھا
 الغرض اس کے دشمنوں نے مکر وفریب سے خط بھیج کر مہمان بلایا۔اس کی تین بیٹیاں تھیں۔ ایک کبریٰ، دوسری صغراؑ، تیسری سکینہؑ یہ نام سن کر حضرت سکینہؑ نے عرض کی کہ اے پھوپھی یہ نام ہم تینوں بہنوں کے ہیں۔ تب حضرت زینبؑ نے یہ ارشاد کیا۔ کہ اے لخت جگر ایک نام کے بہت سے بشر ہوتے ہیں۔ یہ تشفی دے کر پھر فرمایا کہ اس شہنشاہ نے مدینہ سے کوچ کیا۔ فرزند ورفقا ساتھ لیے۔ اہل حرم کو محملوں میں بٹھا کر جس وقت وہ شہنشاہ وطن سے چلا،ایک حشر برپا تھا۔ بیت
 جس نے پوچھا کہ وطن کب تلک آنا ہو گا
بولے سر کٹ کے سوئے شام روانہ ہوگا

نظم
 کہہ کے یہ بنت علیؑ بولی بہ آہ و زاری
اب تو آرام کر اے میری سکینہؑ پیاری
یہ کہانی ہے بڑی ضعف ہے مجھ پہ طاری
اتنی تو آج کہی کل میں کہوں گی ساری
چھاتی اس شاہ کی غربت پہ پھٹی جاتی ہے
 اپنے بھائی کی مصیبت مجھے یاد آتی ہے
جوڑ کر ننھے سے ہاتھوں کو پکاری نادان
ناز بردار پھوپھی تم پہ بھتیجی قربان
میں تو کہلائوں گی پوری یہ کہانی اس آن
دل نہ توڑو میں اک شب کی ہوں تمہاری مہمان
صبح لینے کو میرے باپ کا سر آئے گا
کل کوئی تم سے کہانی نہیں کہلائے گا
 غرض جناب زینبؑ  بچشم اشکبار پھر حضرت سکینہؑ کے بہلانے میں مشغول ہوئیں اور ارشاد کیا۔ کہ اے بی بی وہ بادشاہ اپنے وطن سے نکل کر ایک دہشت ہولناک میں پہنچا۔ اور فوج اشقیا نے آکر اسے گھیر لیا۔ ساتویں محرم سے آب ودانہ بند کیا۔ اور دہم محرم کو اس کے بھائی بھتیجے بیٹے ورفیق سب مارے گئے۔ اس امام کا ایک بھائی عباسؑ علمدار تھا۔اور دو بیٹے تھے۔ ایک کا نام اکبر  ؑ تھا۔ اور دوسرا لڑکا شیر خوار تھا۔ اصغرؑ۔ ایک بھتیجا قاسم۔ اسی طرح جملہ عزیزوں کے نام جناب زینبؑ نے بیان کیے۔ جن کو سنتے ہی نظم
ننھے ہاتھوں سے منہ پیٹ کے شاہ کی دختر
عرض یوں کرنے لگی بنت علیؑ سے رو کر
کیوں پھوپھی میرے بھی تو بھائی تھے اکبرؑ اصغرؑ
بولی زینبؑ کہ یہ تم مجھ سے نہ پوچھو دلبر
قصہ بالطف خموشی میں سنا جاتا ہے
بول اٹھنے میں کہانی کا مزہ جاتا ہے
نیند میں آپ کو ڈالو پھوپھی تم پہ قربان
کٹ گئی رات سفیدی ہوئی مشرق سے عیاں
قصہ آخر ہوا تم سوئیں نہ اے راحت جاں
 کہا رو رو کے سکینہ نے کہ اب نیند کہاں
گر کہانی کوئی سنتا ہے تو نیند آتی ہے
اس کہانی سے تو نیند اور اڑی جاتی ہے
اب یہ فرمایئے جب وہ شاہ رہا تنہا
رحم اس پہ کیا بے رحموں نے یا ظلم کیا
بوند پانی بھی ترس کھا کے دیا یا نہ دیا
رو کے زینبؑ نے کہا پیاسے کو پیاسا مارا

بس کہ جلاد نے باندھی تھی کمر کینے پر
تیغ کھینچے ہوئے بے رحم چڑھا سینے پر
بیٹی وہ شاہ بھی تھا بندہ مقبول خدا
ذبح جب ہونے لگا وہ تو فلک کانپ گیا
اور سورج کو گہن چار گھڑی دن سے لگا
آیا روتا ہوا بالین پہ نانا اس کا
ننگے سر خیمے سے منہ پیٹتی خواہر نکلی
پیاس سے روح بھی اس شاہؑ کی باہر نکلی
 یہ فرما کر حضرت زینبؑ کو فرط الم سے غش آگیا۔تب اس معصوم نے دونوں ہاتھوں سے سر پیٹ لیا۔اور اس طرح چلانے لگی کہ اے پھوپھی ابھی تو کہانی کہتی تھیں۔ ابھی بے ہوش ہو گئیں۔ للہ ہوش میں آئو میرے اوپر رحم کھائو۔یہ کہانی پوری کہہ سنائو۔الغرض  نظم
ہوش میں آئی جو ہمشیر امامؑ دو جہان
 دے کے کرتے کی ہوا بولی سکینہؑ ناداں
پھوپھی اس قصہ کے آخر میں غضب کا ہے بیاں
کہیے اس شاہ کے ناموس گئے رن سے کہاں
سر بھی وارث کا کٹا لاشہ بھی پامال ہوا
آخر ان پردہ نشیں رانڈوں کا کیا حال ہوا
کوئی ان بیوائوں کو پردیس سے گھر لے کے گیا
بولی زینبؑ کہ میں قربان گئی گھر کیسا
ننگے سر شہر میں انہیں اپنے لائے اعدا
لو مری جان اب خاتمہ قصہ کا ہوا
اب تلک ظالموں کے ہاتھ سے آزار میں ہیں
کبھی زندان میں اور کبھی دربار میں ہیں
تب سکینہؑ نے کہا بس مجھے معلوم ہوا
ہم ہی قیدی ہیں وہ جن کا کہ مقدر ہے برا
وہ شہنشاہ میرا باپ ہے سر جس کا کٹا
واہ کیا خوب فسانہ کہا میں تم پہ فدا
قصہ حضرت کا ہے روداد یہ سادات کی ہے
یہ کہانی تو میرے قبلہ حاجات کی ہے
کہہ کے یہ خون بھرے کرتے کا گریبان پھاڑا
بال گو بکھرے تھے  اور ان کو پریشان کیا
کرکے منہ باپ کے مقتل کو پکاری دکھیا
کل کی یہ بات ہے تم زندہ تھے اے شاہ ہدیٰ
آج تو حال کہانی میں کہا جاتا ہے
اور نیزے پہ سر پاک نظر آتا ہے
 یہ بین کرتے کرتے جناب سکینہ  ؑ کو غش آگیااور اہل حرم میں ایک کہرام برپا ہوا۔ادھر یہ شور سن کر یزید پلید بیدار ہوا۔اور ایک خواص سے کہا کہ ڈیوڑھی پر جا کر معلوم تو کر کہ قیدیوں کا کیا حال ہے۔ شاید ایک لڑکا نحیف وزار  زنجیر میں گرفتار تھا۔ اس کو غش آگیا ہوگا۔اور خازن سے یہ بھی کہہ دینا، بیت
کھولو رسن گلے سے جو غش سے نڈھال ہو
کٹوائو بیڑیاں بھی  اگر غیر حال ہو
 یہ حکم سن کر وہ خواص ڈیوڑھی پر آئی اور زندان کا حال دریافت کرکے فورا" پھر یزید کو جا کر خبر دی کہ ایک بچی اپنے باپ کی یاد میں بے چین تھی۔اس کے بہلانے کو اس کی پھوپھی نے معرکہ کربلا بطور سرگزشت کہنا شروع کیا۔ چونکہ وہ لڑکی امامؑ کی بیٹی ہے،سمجھ گئی کہ یہ حالات تو من وعن میرے ہی باپ اور بھائی کے ہیں۔اور یہ قصہ سن کر اس کو اپنے باپ کی شفقت اور یاد آئی۔اب وہ ضد کرتی اور روتی ہے کہ میرے بابا کو بلا دو۔ بیت
اس کے پدر کو سوگ نشیں پائے کس طرح
دنیا سے جو گیا ہے اسے دکھلائیں کس طرح
نظم
 وہ سنگدل بھی رونے لگا سن کے یہ خبر
کہنے لگا خواص سے آخر وہ بد گہر
پہنچا خزانہ دار کو یہ حکم دوڑ کر
زنداں میں بھیج دے جو ہے طشت طلا میں سر
ڈوبے لہو میں چاند سے رخسار دیکھ لے
بیٹی پدر کی شکل پھر اک بار دیکھ لے
 لیکن تاکید اس امر کی کرنا کہ سر دکھانے کے بعد فورا" واپس لے آئے۔کیونکہ جب تمام خزانہ خالی کیا۔ تب فرزند فاطمہ  ؑ کا سر پایا۔ یہ سن کر خزانہ دار نے صندوق آہنی سے سر اقدس نکالا،اور ایک خوان میں خوان پوش سے پو شیدہ کرکے زندان کو لے چلا۔ اور ادھر کہرام برپا تھا۔ نظم
نظم
برپا تھا واں حسینؑ کا رانڈوں میں غل ادھر
پہنچا وہ سر کو سر کے لے کے جو خازن قریب در
کھلوا کے قفل کو وہ پکارا بچشم تر
بھیجو کسی کو اے حرم سیدؑالبشر
پہنچا ہے یاں کے رونے کا غل اس کے کان میں
حاکم نے کچھ سکینہؑ کو بھیجا ہے خوان میں
فضہ قریب در گئی بدرد ویاس
 وہ خوان لا کے رکھ دیا اہل حرم کے پاس
کہنے لگی یہ بنت رسولؑ فلک اساس
غم سے بھرے ہیں دل نہ ہمیں بھوک ہے نہ پیاس
گر فاقہ کرتے کرتے لبوں پر دم آئیں گے
چھوئیں گے ہم نہ اسے بچے ہی کھائیں گے

 اور آج ہم پر حاکم کی اس قدر مہربانی کا سبب کیا ہے۔ جو یہ خوان بھیجا ہے۔ حضرت زینبؑ کا یہ کلام سن کر جناب امام زین العابدین نے فرمایا ،نظم
 چپکے سے تب پھوپھی سے یہ کہنے لگے امامؑ
 جانے دو پر غضب نہ  کہیں ہو امیر شام
کھلا جائے گا یہ سر نہاں آپؑ پر تمام
ہر گز طعام اس میں اے فلک مقام
بھیجے جو کچھ کہاں یہ ظرف اس ذلیل کا
 سر خوان میں ہے وارث خوان خلیلؑ کا
 اے پھوپھی یہ شب سلطان کربلا کے سر کی زیارت کی شب ہے۔ خدا جانے پھر وہ لعین سر اقدس کو کہاں بھیجے۔آج جی بھر کے زیارت کر  لیجیے گا۔ یہ خوف ہے کہ اگر سکینہؑ نادان اپنے پدر بزرگوار کا سر دیکھ لے گی تو اپنے آپؑ کو ہلاک کر ڈالے گی۔ابھی ابھی روتے روتے شاید سوگئی ہے۔ یا اسپر غشی طاری ہو گئی ہے۔اگر وہ ہوشیار ہو کر امامؑ کا سر دیکھ لے تو ایسا نہ ہو کہ نہ چھوڑے۔تو یزید لعین اور غضب ناک ہوگا،یہ سن کر بیت۔
زینبؑ قرین خوان گئیں سن کے یہ کلام
کانپے جو ہاتھ پائوں گری خواہر امامؑ
نظم
فضہ نے بڑھ کے خوان جو کھولا بچشم تر
 سمجھے یہ اہل بیت کہ طالع ہوا قمر
 دیکھا لہو میں تر پسر فاطمہ کا سر
رانڈیں جھکیں حسینؑ کی تسلیم کے لیے
 سجاد اٹھ کھڑے ہوئے تعظیم کے لیے
بولی بلائیں لے کے یہ زینبؑ جگر  فگار
 بھیا تمہارے چہرہ پر خون کے میں نثار
چلائی گرد پھر کے یہ بانوئے سوگوار
 صدقے کنیز آپؑ پہ یا شاہ نامدار
 راحت گئی حیات کی دل کی ہوس گئی
 صاحب کے دیکھنے کو یہ لونڈی ترس گئی
 گریہ وماتم کا یہ شور سن کر جناب سکینہؑ کی آنکھ کھل گئی۔اس وقت وہ ناشاد یہ کہتی ہوئی اٹھی۔ لوگو بابا کی خوشبو آتی ہے۔ بیت
ثابت ہوا یہ سید والا قریب ہیں
اماں ضرور آتے ہیں بابا قریب ہیں
اس وقت کا حال کیا عرض کروں۔ زندان میں عاشورہ کی طرح ا یک کہرام برپا ہو گیا۔ جانب زینبؑ دم بدم سرمبارک پر صدقہ ہوتی تھیں۔حضرت کلثومؑ اور جناب بانو بلائیں لے کر اپنی جانیں نثار کرتی تھیں۔کوئی سرا قدس کو اٹھا کر چھاتی سے لگاتی تھیں۔کوئی خون سے بھرے حلقوم کے بوسے لیتی تھیں۔جناب امام زین العابدینؑ زیارت پڑھ کر بے ہوش ہو گئے۔ نظم
 سب سینہ زن تھے گرد سر شاہ بحر وبر
 اس حشر میں رہی نہ سکینہؑ کی کچھ خبر
 دیکھا جو اس نے روئے شاہ دیں کو جلوہ گر
لپٹی سر پدر سے وہ معصوم دوڑ کر
چلائی دیکھو خالق اکبر کی شان کو
لو اماں جان پا گئی میں بابا جان کو
روتے تھے اس کی باتوں پہ ناموس شاہؑ سب
 وہ مل رہی تھی آنکھوں سے آنکھیں لبوں سے لب
ماں روکتی تھی ننھا سا بازو پکڑ کے جب
کہتی تھی مجھ کو سر سے چھڑائو نہ ہے غضب
زنداں سے پھر کے سید والا چلے نہ جائیں
ڈر ہے مجھے کہ پھر کہیں بابا چلے نہ جائیں
یہ کہہ کے جھک گئی سر شاہ پہ وہ خستہ جان
نے پھر ٹرپ رہی نہ وہ زاری نہ وہ فغاں
غش ہو گئی یتیم ہوا سب کو یہ گمان
بےتاب ہو کے گود میں لینے لگی جو ماں
زینبؑ پکاری باپ کی عاشق گزر گئی
 گودی میں کس کو لو گی سکینہؑ تو مر گئی
بازو ہلا کے بانوئے ناشاد نے کہا
بی بی پدر کے سر سے اٹھائو تو منہ ذرا
باتیں ابھی تو کرتی تھی آنسو بہا بہا
ساقط ہے نبض ہائے غضب سرد دست وپا
 منہ دیکھتے ہی زیست کا نقشہ بدل گیا
کس وقت سانس رک گئی کب دم نکل گیا
قربان جائوں مرنے کی ماں کو خبر نہ کی
واری میری غریبی پہ تم نے نظر کی
 یہ رات ماں کے ساتھ تڑپ کر بسر نہ کی
جی بھر کے بھی زیارت روئے پدر نہ کی
چوتھے برس میں ہائے سدھاری جہان سے
دکھ قید کے نہ اٹھ سکے ننھی سی جان کے
ماں صدقے جائے آج تڑپتی تھی شام سے
 روٹھی ہوئی تھی مادر ناشاد کام سے
مر کر ملیں حسین علیہ السلام سے
بی بی کہو گلے ہوئے کیا کیا امامؑ سے
 چھوڑو جو ہم کو یاں یہ محبت سے دور ہے
قربان جائوں ماں کا بھلا کیا قصور ہے
بچی یہ ماں اب تجھے کدھر ڈھونڈنے کو جائے
اے نور دیدہ تم نے قیامت کے دکھ اٹھائے
چھٹ کر پدر سے گھرکیاں کھائیں طمانچے کھائے
واری رسن بندھی تری گردن میں ہائے ہائے
جو سختیاں فلک نے دکھائیں وہ سہہ گئی
 بندے جو چھن گئے مرا منہ تک کے رہ گئی
اس رانڈ ماں کو چھوڑ کے بیٹا کدھر گئیں
دنیا میں رہ کے چار برس کوچ کر گئیں
ناشاد ونامراد جہاں سے گزر گئیں
 زنداں سے چھوٹنے بھی نہ پائیں کہ مر گئیں
پیدا ہوئیں مدینہ خیر الانام میں
اس کی خبر نہ تھی کہ لحد ہو گئی شام میں
 اے سکینہؑ اس مادر   غمگین کو اس زندان ستم میں چھوڑ کر چلی گئیں۔قربان ہو جان مادر کی، میرا شکوہ اپنے پدر بزرگوار سے نہ کرنا۔ بی بی میں بے کس ومجبور ہوں۔تمہارے لیے کفن کہاں سے لائوں۔سر پر چادر بھی تو نہیں ہے۔جو اس کا کفن دے دوں۔ یہی خون آلود کرتا تمہارا کفن ہے۔اللہ اللہ جس کی دادی کے واسطے چادر   تطہیر آئی ہو۔اس کی معصوم پوتی دو گز کفن کے واسطے محتاج ہو۔الغرض نظم
 میت کے گرد حشر تھا بسمل تھے نوحہ گر
لایا تھا جو وہ لے گیا پچھلے کو شاہ کا سر
ناگاہ آسمان پہ ہویدا ہوئی سحر
حاکم کو جا کے دی یہ خبردار نے خبر
بے وارثوں پہ اور مصیبت گزر گئی
لڑکی جو روز روتی تھی وہ آج مر گئی
 جس وقت یزید لعین نے اہل بیت کی یہ مصیبت سنی،تو اس کو باوجود شقاوت اور سنگ دلی کے افسوس ہوا۔اور جناب سید الساجدین امام زین العابدین  علیہ السلام کو یہ پیغام بھیجا کہ سکینہؑ کی تجہیز وتکفین کے لیے جو ضرورت ہو وہ آپؑ منگا لیجیے۔اور چونکہ آپؑ بیمار ہیں،لہذا  میت کی تجہیز وتکفین کے لیے
آدمیوں کی جو ضرورت ہو بھیج دوں۔اور اس معصوم بچی کی قبر کے لیے جو مقام پسند ہو،وہاں دفن کا انتظام کردوں بیت۔
گھبرایئے نہ رنج والم کے ہجوم سے
اٹھوایئے بہن کے جنازے کو دھوم سے
 یزید پلید کا یہ پیغام سن کر جناب امام زین العابدینؑ نے جواب دیا،کہ ہم کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔میں خود سکینہؑ کی میت اٹھائوں گا۔اس صاحب عفت کی یہ پوتی ہے۔ جس کے گھر میں بلا اجازت فرشتے نہیں آتے تھے۔ جس کا جنازہ پردہ شب میں اٹھا تھا۔اس کی میت کو نامحرم ہاتھ نہیں لگا سکتے۔کسی اہتمام کی ضرورت نہیں۔ صرف وہ سامان بھیج دے جو ہم اہل بیت کے کربلا میں تیرے لشکر نے لوٹے تھے۔ نظم
لوٹی ہوئی جو حضرت زینبؑ کی ہے ردا
گر اس کو بھیج دے تو کفن ہو یتیم کا
اس بے کفن کے پدر کی بیٹی ہے مہہ لقا
حلے بہشت کے جسے بھیجا کیا خدا
بے کس نہ جان دلبر شاہ انام کو
آئے ہیں آسمان سے ملک اہتمام کو
بخشا ہے کبریا نے ہمیں رتبہ جلیل
ہم جس کے عبد ہیں وہ بہر حال ہے کفیل
بھیجے گا بہر غسل خدا آپ سلسبیل
ہوں گے محافظت کے لیے ساتھ جبرائیل
زندان ہمارے واسطے دنیائے زشت ہے
جا پہنچے قبر تک تو پھر آگے بہشت ہے
پہنچا جواب لے کے ملازم جو اس کے پاس
بھیجا شقی نے رانڈوں کا لوٹا ہوا لباس
مصروف غسل میں ہوئے سجاد حق شناس
آخر کفن پہنا کے پکارے بدرد ویاس
لو بیبیو وداع ہو اس نور عین سے
 ملنے چلی ہے آج سکینہؑ حسینؑ سے
ہمشیر کو اٹھانے لگے جب بچشم تر
 سب بیبیاں لپٹ گئیں میت سے دوڑ کر
زینبؑ پکارتی تھیں کہ واری چلی کدھر
لے کر بلائیں کہتی تھی ماں سوختہ جگر
اماں کو چھوڑے جاتی ہو رونے کے واسطے
بی بی چلیں مزار میں سونے کے واسطے
پھر ایک بار چاند سی صورت دکھاتی جائو
دل ہل رہا ہے چھاتی سے چھاتی لگاتی جائو
صدقے گئی کفن میں نہ منہ کو چھپاتی جائو
پھر ماں کے پاس آئو گی کب یہ بتاتی جائو
پہلو میں تم نہ ہو گی تو ماں بلبلائے گی
پھر یاں تمہارے بن نہ مجھے نیند آئے گی
گھٹ گھٹ کے یاں اندھیرے میں کہتی تھی بار بار
اماں چراغ ہو تو ٹھہر جائے جان زار
اب شام میں ملے گی تمہیں قبر تنگ وتار
بی بی کو نیند آئے گی کیوں کر یہ ماں نثار
تڑپو گی تم تو ماں کو خبر ہو گی کس طرح
پہلی یہ شب لحد میں بسر ہو گی کس طرح
القصہ جب اس معصوم کا جنازہ لے کر
 نکلے جو قید خانے سے سجاد نوحہ گر
صندوق چوب خلد تھا حوروں کے دوش پر
تھے شامیانے حضرت روح الامین کے پر
پیچھے نواسیاں تھیں نبیؑ کی برہنہ سر
 زنداں کی خاک بیبیاں بالوں پہ ڈالے تھیں
سیدانیاں علیؑ کی بہو کو سنبھالے تھیں
 الغرض امامؑ نے مضافات شام میں ایک چھوٹی سی قبر تیار کرکے اس شاہزادی کو دفن کر دیا۔اور اہل بیت اطہار اسی زنداں میں تڑپتے رہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ط
 صدقہ میں اپنی بیٹی کے یا شاہ کربلا
فردوس میں وزیر کو جاگیر ہو عطا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

انتیسویں مجلس امام حسین کی دعا سے خدا وند کا راہب کو سات فرزند عطا فرمانا

﷽ انتیسویں مجلس امام حسین علیہ السلام کی دعا سے خدا وند قدیر کا راہب کو سات فرزند عطا  فرمانا،پھر بعد شہادت امامؑ کے سر اقدس کا خانہ راہب میں پہنچنا،راہب کا سیدانیوں کے لیے چادریں نذر کرنا،اور اشقیا کا وہ بھی چھین لینا  اعجاز ابن فاطمہؑ سے وہ نوید ہو واللہ ناامید کے دل کو امید ہو  اے عاشقان سید الشہدا فخر ومباہات کا مقام ہے،کہ ہم سب امام مظلومؑ کے ماتم میں شریک ہیں۔ اس جناب کی ماتم داری اور گریہ وزاری کے سبب اس سوگواروں کو خدا نے کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔کہ جس قدر ہم فخر ومباہات کریں کم ہے۔ بیت  دربار سخی کا ہے یہ مجلس ہے سخی کی یہ بزم عزا مومنو ہے سبط نبیؑ کی نظم پس حضرت صادق سے یہ مضمون عیاں ہے سامان غم سیدؑ مظلوم جہاں ہے  اس شخص کی آنکھوں سے اگر اشک رواں ہے ہر فرد کے اوپر قلم عفو رواں ہے اس پر بھی ترقی ہوئی یہ رحمت رب کو گر ایک بھی روئے گا تو ہم بخشیں گے سب کو خالق کاتو وہ حکم محمدؑ کی یہ گفتار کیا اپنے نواسے کے فضائل کروں اظہار جو اس سے ہے بےزار خدا اس سے ہے بیزار جو اس کا مددگار خدا اس کا مددگار بیٹھے گا جو یاں بزم عزائے شاہ دیں میں ہمس...

ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات

پینتسویں مجلس ذکر ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور  ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات  ذکر چہلم ہو جیے مغموم دفن ہوتے ہیں سید مظلومؑ عزا داران جناب سیدؑ ا  لشہدا آگاہ ہوں کہ جس قدر مصائب وآلام حسینؑ مظلوم پر گزرے نہ کسی نبیؑ پر گزرے نہ کسی وصی پر۔اور بضعتہ الرسولؑ جناب سیدہؑ کے بعد جناب ثانی زہراؑ نے جو مصائب برداشت کیے۔دنیا میں کسی بی بی کا جگر نہیں جو سہہ سکے ، رباعی  ناناؑ کو روئی ماں کا جنازہ دیکھا بابا کا بڑے بھائی کا لاشہ دیکھا  زینبؑ کی غرض حیات روتے ہی کٹی ہے عاشور کو کیا کہوں کہ کیا کیا دیکھا  اور جس طرح اس مخدومہ کائنات کے بھائی امام مظلومؑ کی ولادت کے وقت تہنیت کےساتھ تعزیت کا بھی شور تھا۔اسی طرح جناب زینبؑ کی ولادت کے  وقت خوشی کے ساتھ رنج و ملال کا بھی ہجوم تھا۔چنانچہ شاہزادی کی ولادت کے وقت کا حال کتب تواریخ وسیر میں مرقوم ہے کہ جب حضرت زینبؑ پیدا ہوئیں،تو کنیز جناب فاطمہ زہراؑ نہایت خوش ومسرور ہو کر جناب رسولؑ مقبولؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کی    شعر۔  ہووئے یہ نواسی تمہیں ...

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ شیریں میں پہنچنا

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ   شیریں میں پہنچنا  اے مومنو ہاں دیکھو کہ کیا کرتے ہیں شبیرؑ دو وعدوں کو اک سر سے وفا کرتے ہیں شبیرؑ راویان روایت رنج  و ملال تحریر کرتے ہیں، کہ جس وقت بانوئے محترم شاہزادی عجم جناب امام حسینؑ علیہ السلام کی خدمت با برکت میں آئیں،تو آپ کے ہمراہ اکثر کنیز یں بھی تھیں،منجملہ ان کے اس شاہزادی کی شیریں ایک کنیز خاص بھی تھی۔ جناب بانو نے شیریں کے سوا سب کنیزوں کو آزاد کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ شیریں بہت خوش چشم تھیں۔ایک روز جناب امام حسینؑ نے حضرت شہر بانو سے حمد پروردگار کرتے ہوئے شیریں کی آنکھوں کی مدح کی۔آپ نے بھی امام کی تائید میں ثنا فرمائی۔اور عرض کی، بیت  سب خاک ہیں تم فاطمہؑ کے نور نظر ہو ہے عین خوشی میری جو منظور نظر ہو نظم شیریں تو ہے کیا چیز بھلا تم پہ میں واری ہے جان جو شیریں وہ نہیں آپؑ سے پیاری شیریں میری لونڈی ہے میں لونڈی ہوں تمہاری لو نذر یہ میں کرتی ہوں اے عاشق باری مظلب تو ہے خوشنودی شاہ دوجہاں سے بخشا دل وجاں سے اسے بخشا دل وجاں سے  حضرت شہر بانو کا یہ کلام سن کر سلطان کونین امام...