Skip to main content

بائیسویں مجلس شب عاشور کے حالات اور اہل بیت سے امامؑ کی رخصت


بائیسویں مجلس
 شب عاشور کے حالات اور اہل بیت سے امامؑ کی رخصت
 شب قتل حسینؑ بے گناہ است
فلک سر گشتہ وعالم سیاہ است
سر پیٹو مومنو یہ بکا کا مقام ہے
 اب رخصت حسینؑ علیہ السلام ہے
جناب مخبر صادق فرماتے ہیں کہ روز قیامت عجیب ہولناک روز ہوگا۔اس روز تمام خلائق کی آنکھیں گریاں ہوں گی۔سوائے اس آنکھ کے جو امامؑ مظلوم کی مصیبت میں روئی ہوگی۔اور رونے والا بادیدہ خندان داخل جنت ہوگا۔ احادیث میں وارد ہے کہ جب محرم کی نویں تاریخ شام کو اشقیا نے حملہ کیا،اور امام حسینؑ نے اشقیا سے ایک شب کی مہلت لی تو سر جھکائے ہوئے مغموم ومحزون حرم محترم میں تشریف لائے۔چونکہ جناب زینبؑ اپنے برادر عالی مقدار کی عاشق زار تھیں۔ بے تاب ہو کر پوچھنے لگیں ،نظم
پوچھا زینبؑ نے کہ کیا اے میرے بھائی ٹھہری
 شہ نے فرمایا بہن تم سے جدائی ٹھہری
صبح عاشور محرم کو لڑائی ٹھہری
چاہا سب کچھ پر اعدا سے نہ صفائی ٹھہری
آج پیاروں کی ملاقات غنیمت جانو
 اے بہن آج کی یہ رات غنیمت جانو
حضرات اس شب کی کیفیت کیا بیان ہو۔ جس کے سامنے شب فردائے قیامت خجل وشرمندہ ہے۔میدان کربلا میں ایک ہو کا عالم تھا۔ جنگل اداس،چرندپرند بدحواس،فلک زمین پر جھکا آتا تھا۔اور سینہ زمین کا پھٹا جاتا تھا۔ کہ کاش صبح کی نوبت نہ آئوے،اور ساری خاک پانی ہو کر بہہ جاوئے۔ساتویں محرم سے اہل بیت اطہار کو پانی کا ایک قطرہ میسر نہ ہوا تھا۔ننھے ننھے بچوں کی آواز العطش سے سننے والوں کے دل ٹکڑے ہو رہے تھے۔اس شب کو امام حسینؑ نے تمام انصار واعزا کو جمع کرکے فرمایا،کہ تمہیں معلوم ہے کہ میں کس بلائے عظیم میں گھر گیا ہوں۔ زمانہ مجھ سے پھر گیا ہے۔ مگر یہ قوم لعین بجز میری جان کے کسی کی دشمن نہیں ہے۔لہذا میں تم سب کو چلے جانے کی بخوشی اجازت دیتا ہوں۔ یہ رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے۔تم مجھ کو چھوڑ کر چلے جائو اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو،بلکہ تم میں سے ہر ایک میرے اہلبیت میں سے بھی ایک ایک کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اس میدان بلا سے نکال لے جائے۔ یہ سن کر اصحاب ورفقا بے چین ہو گئے۔اور سب نے متفق ہو کر عرض کی کہ اے مولا  واللہ ہم سے یہ ہرگز نہ ہوگا۔۔آپؑ نے فرمایا کہ صبح تم سب مارے جائوگے۔ اور کوئی نہ بچے گا۔ سب نے عرض کی کہ خوشا حال ہمارا کہ ہم فرزند رسولؑ پر نثار ہوں۔ پس آخر حضرت نے دعائے خیر دے کر ارشاد فرمایا کہ یہ شب اگر چہ کمال ہولناک اور پر از اندوہ ہے۔لیکن لیلتہ القدر سے کم نہیں ہے۔ اور ہم سب کے لیے  آج کی  شب شب معراج ہے۔لہذا ہم سب پر لازم ہے کہ تمام رات پرور دگار عالم کی تسبیح وتہلیل میں بسر کریں۔ یہ فرما کر دست راست کو تکیہ کرکے فرش زمین پر لیٹ گئے۔اور کچھ غنودگی سی طاری ہو گئی کہ دفعتا آپ مغموم اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ میں نے   ابھی ابھی  یہ خواب دیکھا ہے کہ چند سگہائے ناپاک مجھ پر حملہ کرتے ہیں،اور خصوصا ایک سگ ابلق سب سے زیادہ حملہ کرتا ہے۔مجھ کو گمان ہے کہ میرا قاتل وہی مبروص ہوگا۔اور پھر دیکھا کہ میرے جد بزرگوار مع فوج ملائکہ وارواح انبیا تشریف لائے ہیں۔اور مجھ سے فرماتے ہیں کہ اے فرزند دلبند اور اے مظلوم حسینؑ سب انبیا و اولیا ومقربان ملاء اعلیٰ تیرے استقبال کو آئے ہیں۔ اور تیری روح مطہر کے منتظر ہیں۔ جونہی حضرت نے یہ خواب سنا تمام اقربا وانصار ڈاڑ ھیں مار مار کر رونے لگے۔ جب آواز گریہ وبکا کی حرم محترم میں پہنچی تو حشر بر پا ہو گیا۔ ہر بی بی پچھاڑیں کھانے لگی۔ حالت یہ تھی کہ ایک طرف بانوئے حجلہ نشیں کی آنکھوں سے سیلاب خون رواں تھا۔اور کوئی سکتے  میں خاموش تھی۔ بچے سہمے ہوئے آغوش مادر میں رو رہے تھے۔ غرضیکہ اہل بیت رسول ؑ پر وہ شب اذیت وتکلیف اور رنج وغم میں گزری۔
نظم
جب تھوڑی رات قتل کی میدان میں رہ گئی
اور الفراق آکے قضا سب سے کہہ گئی
ہمشیرؑ شاہؑ کی جو فلک پر نگاہ گئی
ندی لہو کی دیدہ گریاں سے بہہ گئی
جوں جوں گھڑی جدائی کی نزدیک ہوتی تھی
 منہ ڈھانپ ڈھانپ زینبؑ دلگیر روتی تھی
 آخر روتے روتے جناب زینبؑ کو غش آگیا۔ اور دیر تک سکتہ کا عالم طاری رہا۔ ناگاہ اسی عالم بے ہوشی میں ،نظم
 دیکھتی کیا ہے کہ اک صاحب عصمت بی بی
رن کے میدان میں سر پیٹتی روتی ہے کھڑی
جھاڑتی خاک پڑی پھرتی ہے اس جنگل کی
آستین سے کبھی داماں سے پلکوں سے کبھی
اپنے بالوں سے بہارے ہے زمین کرکے یہ بین
کل اسی خاک پہ سوئوئے گا مرا ہائے حسینؑ
آہ آہ اسی عالم خواب میں نظم
 جب سنی زینب ؑ بے کس نے یہ آہ و زاری
رو اٹھی خواب میں بے چین ہوئی یک باری
پھر لگی پوچھنے رو رو کہ اے دکھیاری
مجھ سی کچھ تو بھی نظر آتی ہے غم کی ماری
کیا تیرا نام ہے اور کس لیے چلاتی ہے
تیرے رونے سے میری چھاتی پھٹی جاتی ہے
بولی کیا پوچھتی ہے نام تو گمناموں کا
داغ فرزند سے جلتا ہے کلیجہ میرا
باغ جنت سے یہ داغ مجھے ہے لے آیا
ماں ہو ں شبیرؑ کی میں نام مرا ہے زہراؑ
کیا نہیں جانتی زینبؑ تیری مادر ہوں میں
 زوجہ ء شیر خدا بنت پیمبرؑ ہوں میں
جب سے اس دشت میں آیا ہے میرا نور العین
میں بھی جنت سے چلی آئی ہوں ہو کر بے چین
ہیں مرے ساتھ علیؑ اور رسول الثقلین
لب پہ ہے ورد زباں     صبح ومسا ہائے حسینؑ
زینبؑ اٹھ بیٹھ خبر لے کہ قیامت آئی
شب اندوہ گئی صبح شہادت آئی
زینبؑ اس واقعہ کو دیکھ کر بہت گھبرائی
ناگہاں چونک پڑی خواب سے اور چلائی
لب پہ فریاد تھی اور ہائے حسیناؑ بھائی
کوس رحلت کی صدا کان میں ناگہ آئی
غل تھا لڑنے کو شہنشاہ زمن جاتے ہیں
گھر میں رخصت کے لیے سبط نبیؑ آتے ہیں
الغرض قریب صبح امام مظلومؑ خیمہ اطہر میں تشریف لے گئے۔ حضرت زینبؑ کو دیکھا کہ چہرہ زرد ہے۔آنکھیں اشک بار ہیں اور نہایت بے قراری سے روتی ہیں۔ حضرتؑ بھی جناب زینبؑ کے پاس کھڑے ہو کر رونے لگے۔ جناب زینبؑ نے اپنے بھائی کے رونے کی آواز سنی تو اٹھ کر لپٹ گئیں۔ اور دونوں بہن بھائی ایسا پھوٹ  پھوٹ کر روئے کہ سننے والوں کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔آخر آنحضرتؑ نے صبر وشکر کی تلقین فرمائی۔اسی اثنا ء میں جناب سکینہؑ باپ کے دامن سے لپٹ کر رونے لگیں۔ کہ بابا جان آج کی رات عجیب ہولناک تھی۔ تمام رات تڑپ تڑپ کر کاٹی ہے۔ اور آپؑ نے میری خبر نہ لی۔ امام ؑ نے فرمایا جان پدر ہر حال میں خدا کا شکر ہے۔ انسان کو اس کی مرضی پر راضی رہنا چاہیئے۔ یکایک سفیدہ صبح شہادت نمودار ہوا۔ آپؑ نے حضرت سکینہؑ کو بٹھایا،اور عبادت پروردگار میں مشغول ہوئے۔حضرت زینبؑ نے آواز اذان سن کر باگریہ وزاری فرمایا نظم
آہ  کیوں کر غم جانکاہ کا ہوئے درماں
آخری ہے یہ محمدؑ کے نواسے کی اذاں
پھر سنوں گی نہ میں اس صورت حسن کے قرباں
حلق سے پیاسے کے دم بھر میں لہو ہوگا رواں
ادھر خیمہ کے دروازے پر میدان میں امام مظلومؑ مع اصحاب واعز ا  مشغول نماز ہوئے،ادھر خیمہ میں اہل بیت نبوی بھی دعا وعبادات میں مصروف ہو گئے۔ نظم
 تھی صرف نماز آل نبیؑ خیمہ کے اندر
ہر سجدہ پہ زینبؑ یہ دعا کرتی تھی رو کر
تو فاطمہ کی کوکھ بچا لیجیو داور
 شبیرؑ کے آ گے نہ مریں اکبرؑ واصغرؑ
ہر دم شاہ زیشان پہ ہے قربان سکینہؑ
 ہے چار برس کی میری نادان سکینہؑ
 فریضہ سحری سے امامؑ فارغ ہو کر اوراد  و  وظائف پڑھتے ہوئے پھر خیمہ میں تشریف لائے۔ حضرتؑ کو دیکھتے ہی جناب سکینہؑ بابا سے لپٹ گئیں۔ نظم
مشغول وظائف تھے شہنشاہؑ مدینہ
سر گودی میں رکھے ہوئے روتی تھی سکینہؑ
اس پیاری کا شبیرؑ نے چوما سر وسینہ
پھر صبح عاشور کا دیکھا جو قرینہ
رو کر کہا کیا جان کو یوں کوتی رہو گی
ہم جاتے ہیں رخصت کرو یا روتی رہو گی
اب مل لو گلے سے یہ گلا آج کٹے گا
سر اپنا اٹھائو کہ مجھے ہوتی ہے ایذا
 تھا آج تلک تم کو میرے سینے پہ سونا
اب آگے یہ آرام نہیں بخت میں بیٹا
 ہم صبر کریں تم کو ہمیں صبر کرو تم
 سل صبر کی ننھے سے کلیجے پہ دھرو تم
 الغرض اما م مظلومؑ نے سب کو جدا جدا تشفی دی۔ اور حضرت زینبؑ سے فرمایا کہ بہن تبرکات کا صندوق لائو۔ یہ سن کر حضرت زینبؑ بے اختیار ہو کر رونے لگیں۔حضرتؑ نے فرمایا کہ ابھی تو ہم کئی مرتبہ خیمہ میں لاشیں لے کر آئیں گے۔ یہ وداع آخری نہیں ہے۔ پھر بہن کو سمجھا کر صندوق پوشاک منگوایا،اور پہلے ہی لباس بوسیدہ زیب تن فرمایا،اوپر اس کے پوشاک فاخرہ پہن کر سلاح حرب سے مسلح ہوئے۔اور خیمہ سے روانہ ہوئے۔ اس وقت خیمہ اہل حرم میں طلاطم برپا تھا۔ ہر ایک بی بی بصد درد والم سر وسینہ پیٹتی تھی۔ الغرض جناب امام حسینؑ اہل حرم سے رخصت ہو کر باہر تشریف لائے،تو جملہ یار وانصار کو جنگ کے لیے تیار پایا۔ نظم
پہلے سے مسلح تھا یہاں لشکر جرار
نکلے علم فوج خدا لے کے علمدار
گھوڑے پہ چڑھے پڑھ کے دعا سیدؑ ابرار
پیدل ہوئے ہمراہ فرس یاور وانصار
 بوسہ دیا نصرت نے قریب آکے قدم پر
 اقبال نے سر رکھ دیا مولا کے قدم پر
 خورشید صفت جلوہ نما تھے علم آگے
عباسؑ تو پیچھے تھے سپاہ حشم آگے
عباسؑ یہ دیتے تھے صدا دم بدم آگے
 سر بازو چلے جائو قدم با قدم آگے
گرد اڑنے نہ پائے فرسوں کی تگ ودو میں
 سر کھولے ہوئے فاطمہ زہراؑ ہے جلو میں
اس شان سے پہنچے سر میداں جو وہ جانباز
جنگل کو لگے چاند زمین ہو گئی ممتاز
برسانے لگے تیر ہزاروں قدر انداز
پہلے حر غازی سے لڑائی ہوئی آغاز
انجام ہوا یہ کہ سفر کر گئے اکبرؑ
سینے پہ سناں کھا کے جواں مر گئے اکبرؑ
 جس وقت امام یک وتنہا رہ گئے بیت
سب نذر کو دربار پیمبرؑ میں گئے تھے۔
رخصت کو اکیلے شاہ دیں گھر میں گئے تھے
نظم
خیمہ میں مسافر کا وہ آنا تھا قیامت
ایک ایک کو چھاتی سے لگانا تھا قیامت
آنا تو غنیمت تھا پہ جانا تھا قیامت
تھوڑا سا وہ رخصت کا زمانہ تھا قیامت
دونوں میں ادھر صبر وشکیبائی کی باتیں
افسانہ ماتم تھیں بہن بھائی کی باتیں
حضرت کا وہ کہنا کہ بہن صبر کرو صبر
امت کے لیے والدہ صاحبہ نے سہے جبر
وہ کہتی تھی کیوں کر نہ میں روں صفت ابر
تم پہنو کفن اور نہ بنے ہائے میری قبر
لٹتا ہوا گھر اماں کا ان آنکھوں سے دیکھوں
ہے ہے تہہ خنجر تمہیں کن آنکھوں سے دیکھوں
 جناب زینبؑ کی گریہ وزاری،حضرت سکینہؑ کی بے قراری ننھے سے دل کا سینہ میںدھڑکنا،یاس سے بابا کا منہ تکنا، باپ بیٹی کی اس وقت کی گفتگو کیا بیان کروں نظم
 وہ کہتی تھی بابا ہمیں چھاتی سے لگائو
فرماتے تھے یہ شاہ کہ جان پدر آئو
ہم کڑھتے ہیں لو آنکھوں سے آنسو نہ بہائو
خوشبو تو ذرا گیسوئے مشکیں کی سنگھائو
کوثر پہ بھی تم بن نہیں آرام چچا کو
ہم جاتے ہیں کچھ دیتی ہو پیغام چچا کو
 بی بی کہو کیا حال ہے اماں کا تمہاری
کس گوشہ میں بیٹھی ہیں کہاں کرتی ہیں زاری
 جب سے سوئے جنت گئی اکبرؑ کی سواری
 دیکھا نہ انہیں گھر میں ہم آئے کئی باری
تھی سب سے محبت انہیں بیٹے ہی کے دم تک
کیا آخری رخصت کو بھی نہ آئیں گی ہم تک
غش میں سنی جو بانوئے بے کس نے یہ تقریر
 ثابت ہوا مرنے کو چلے حضرت شبیرؑ
سر ننگے اٹھی چھوڑ کے گہوارا بے شیرؑ
 چلائیں مجھے ہوش نہ تھا یا شاہ دلگیر
جاں تن سے کوئی آن میں اب جاتی ہے آقا
 یہ خادمہ رخصت کے لیے آتی ہے آقا
یہ سن کے بڑھے چند قدم شاہ خوش اقبال
قدموں پہ گری دوڑ کے وہ کھولے ہوئے بال
تھا قبلہ عالم کا بھی اس وقت عجب حال
روتے تھے غضب آنکھوں  پہ رکھے ہوئے رومال
 فرماتے تھے جاں کاہ جدائی کا الم ہے
 اٹھو تمہیں روح علیؑ اکبرؑ کی قسم ہے
 یہ سن کر نور دیدہ رسول الثقلین ابی عبد اللہ الحسینؑ خود قریب آکر نظم
 وہ کہتی تھی کیوں کر میں اٹھوں  اے میرے سرتاج
والی انہی قدموں کی بدلت ہے میرا راج
سر پر جو نہ ہوگا پسر صاحب معراج
چادر کے لیے خلق میں ہو جائوں گی محتاج
چھوٹا جو قدم مرتبہ گھٹ جائے گا میرا
قربان گئی تخت الٹ جائے گا میرا
آپ نے فرمایا کہ اے بانو امتحان کا وقت ہے۔ دنیا میں کسی کا ساتھ ہمیشہ نہیں رہا ہے۔
نظم
زینبؑ کو تو دیکھو ہیں کس دکھ میں گرفتار
ایسا نہیں اس گھر میں کوئی بے کس و لاچار
تنہا ہیں وہ کہ بے جان ہوئے چاند سے دلدار
دنیا سے گیا اکبرؑ ناشاد سا جرار
 بیٹے بھی نہیں گود کا پالا بھی نہیں ہے
ان کا تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے
 یہ باتیں سن کر حضرت سکینہؑ بے تاب ہو گئیں،اور سمجھ گئیں کہ بابا جان ہمیشہ کے لیے رخصت ہو رہے ہیں۔ بے قرار ہو کر عرض کرنے لگیں نظم
منظور آپؑ کو نہیں گر موت کے سوا
میں روکتی نہیں کبھی اے شاہؑ کربلا
لیکن نہ ہو تباہ یہ رانڈوں کا قافلہ
بھجوادیںآپ ہم کو وطن میں پے خدا
بٹھلا کے ہم کو قبر پہ نانا رسولؑ کی
پھر آکے یاں لٹایئے دولت بتولؑ کی
یہ سنتے ہی تڑپ گئے سلطان بحر وبر
اور یہ کہا کلیجہ کو ہاتھوں سے تھام کر
بس اے سکینہؑ بس کے تڑپنے لگا جگر
ہم جس بلا میں ہیں مری بی بی کو کیا خبر
کنبے کی قید کیا ہمیں بی بی پسند ہے
پر کیا کریں کہ راہ مدینہ کی بند ہے
یہ کہہ کے پھر تڑپنے لگے سبط مصطفےٰ  ؑ
روئے گلے لگا کے سکینہؑ کو خوب سا
پھر گود میں بہن کے دیا اور یوں کہا
زینبؑ یہ ہے امانت مظلوم کربلا
صدمے اٹھائیو غم وایذا اٹھائیو
پر اس کے سر سے ہاتھ نہ اپنا اٹھائیو
قدموں پہ گر کے دختر زہراؑ نے یہ کہا
بیٹی کو تو بہن کے سپرد آپؑ نے کیا
سونپا کسے بہن کو بتائیں مجھے ذرا
مجھ کو فقط حضور کے دم کا ہے آسرا
 بیٹے بھی داغ دے گئے اکبرؑ بھی دے گئے
اب کون ہے جو آپؑ بھی تشریف لے گئے
بولے لرز لرز کے شہنشاہ کربلا
ہاں ہاں بہن یہ آپ کو باتیں نہیں روا
امت کی مغفرت نہیں مدنگاہ کیا
 وہ بات تم کو چاہیئےخوش جس میں ہو خدا
الفت ہے اس قدر تمہیں اس دل ملول کی
امت ہے یاد اور وصیت رسولؑ کی
پھر حضرت روتے ہوئے سید سجادؑ کے پاس تشریف لے گئے۔ دیکھا کہ بستر پر شدت تپ سے بے ہوش پڑے ہیں۔شانہ ہلا کر ارشاد فرمایا نظم
بحر ظلم وستم کی موج آگئی بیٹا
بستر پہ سنبھل بیٹھو کہ فوج آگئی بیٹا
چونکے جو یہ سن کر تو بھرا ایک نفس سرد
سر ضعف سے تکیہ پہ رہا دل میں اٹھا درد
خون اور گھٹا جسم کا رخ اور ہوا زرد
کی عرض کہ خادم بھی چلے دم تا ورد
 تپ ہے تو اتر جائے گی مولا کے جلو میں
 جو دم ہے غنیمت ہے مسیحا کے جلو میں
 یہ کہہ کے جو اٹھنے لگا بستر سے وہ بیمار
تب سر کی قسم دے کے یہ بولے شاہؑ ابرار
ہم قتل ہوں تم فوج ستم میں ہو گرفتار
آزادی امت ہے اسی میں مرے دلدار
ہاں صبر میں ہمت نہ کبھی ہاریو بیٹا
دم پر بھی بنے تو نہ دم ماریو بیٹا
سجادؑ نے قدموں پہ ملے دیدہ خون بار
کی عرض کہ ارشاد بجا لائے گا بیمار
ہر چند کہ طاقت نہیں  ہوں صاحب آزار
گردن میں پہن لوں گا مگر طوق گرانبار
ہے مرضی حق بہر پسر باپ کی مرضی
واجب ہے اطاعت ہمیں جو آپؑ کی مرضی
روئے سخن یاس یہ سن کر شاہ ذی جاہ
 فرمایا کہ مشکل تیری آسان کرے اللہ
اٹھے جو دعا پڑھ کے تو بیمار نے کی  آہ
غش آگیا صدمہ سے اسی آہ کے ہمراہ
کیا ہوش رہے شدت درد جگری تھا
یاں پھر وہی غفلت تھی وہی بے خبری تھی
 جناب امام حسینؑ نے اپنے بیمار فرزند کا بازو پکڑ کر سورۃ الحمد پڑھی۔ اور خیمہ سے باہر تشریف لے جانے کو تیار ہوئے تھے، کہ جناب زینبؑ کو سرراہ بے قرار دیکھا۔آپ نے پھر بہن کو تسکین ودلاسہ اور صبر کی تلقین وتاکید فرمائی اور روانہ ہوئے۔نظم
زینبؑ تو گئی خیمہ میں شاہؑ جانب جنگاہ
دو چار قدم واں سے بڑھے ہو ںگے ابھی شاہؑ
فضہ نے پکارا در خیمہ سے یہ ناگاہ
گھوڑے کی عناں روکیے اے سید ذی جاہ
روکے سے نہیں رکتی ہے غش کھاتی ہے زینبؑ
پاس آپ کے پھر روتی ہوئی آتی ہے زینبؑ
یہ سنتے ہی شہہ نے فرس تیز کو روکا
زینبؑ بھی قریب آگئی کرتی ہوئی نوحہ
شہہ بولے کہ کیا حال ہے اے دختر زہراؑ
 بے آپ کی مرضی تو نہیں رن کو چلا تھا
برباد نہ حرمت کرو اس رنجو محن میں
 فرق آئے نہ مر کر بھی بزرگوں کے چلن میں
حضرت زینبؑ نے عرض کی کہ اے بھائی جان میں دختر حیدر ؑ  کرار ہوں اور بیٹی فاطمہؑ زہرا کی ہوں۔پابند صبر اور رضائے الہیٰ ہوں۔اماں جان کی ایک وصیت یاد آگئی،اس کا بجا لانا ضروری تھا۔ نظم
شاہ بولے کیا ہے وہ اماں کی وصیت
 کی عرض کہ ارشاد کیا تھا دم رحلت
بھائی جو طلب تجھ سے کرے رن کی اجازت
اس وقت میری تو  یہ بجا لانا نیابت
بھائی کا گلا چومیو مادر کی طرف سے
 اور ہو جائیو رخصت پسر شاہؑ نجف سے
جھک جائو گریبان قبا کھول دو واری
بے ساختہ خم ہو گیا وہ عاشق باری
زینبؑ نے لیے حلق کے بوسے کئی باری
پھر مڑ کے سوئے فضہ  یہ رورو کے پکاری
یاد آیا تو پردے سے نکل آئی میں فضہ
کہنا تری بی بی کا بجا لائی میں فضہ
القصہ جناب امام حسینؑ میدان کارزار میں تشریف لائے۔ اور فوج اشقیا کو بہت کچھ پند ونصیحت کی،لیکن ظالموں نے آنحضرت کی کوئی بات نہ مانی،اور نیزہ وشمشیر سے مجروح کرنا شروع کیا۔یہاں تک کہ تمام جسم  مطہر چور چور ہو گیا۔ ادھر جناب زینبؑ خیمہ کے در پر بے تاب کھڑی تھیں۔ کہ ایک بار اقتلو الحسینؑ کا شور سنا۔بے تاب ہو گئیں اور بقیع کی جانب منہ پھیر کر بولیں، نظم
یا فاطمہؑ مزار سے نکلو برہنہ سر
نرغہ میں ہیں حسینؑ تم اس وقت ہو کدھر
یا مجتبےٰ تمہیں نہیں بھائی کی کچھ خبر
یا مصطفےٰ ؑ گھرا ہوا ہے آپ کا پسرؑ
بے جرم قتل کرتے ہیں اس بھوکے پیاسے کو
نانا بچائو تیغوں سے اپنے نواسےؑ کو
ناگہ فرس سے دوش  نبیؑ کا مکیں گرا
گویا زمین پہ خاتم دیں کا نگیں گرا
قدسی پکارے خاک پہ عرش بریں گرا
 چلائی فاطمہؑ کہ میرا نازنیں گرا
ایذا ہوئی سوا جو شہہ تشنہ کام کو
جنبش ہوئی مزار رسولؑ انام کو
 امام مظلومؑ نے زمیں پر پہنچتے ہی سجدہ معبود میں سر رکھ دیا۔اس وقت کا حال کیا عرض کروں شمر لعین ناہنجار خنجر کمر سے کھینچ کر حضرت کے قریب آیا۔ہنوز سجدہ ختم نہ ہوا تھا کہ نظم
گردن پہ پھیرنے لگا خنجر وہ بد گہر
نکلیں رسولؑ زادیاں خیمہ سے ننگے سر
 ماتم کا غل یہ تھا کہ لرزتے تھے دشت ودر
اک شور تھا کہ لٹتا ہے شیر خدا کا گھر
رانڈوں کے تھے یہ بین کہ اب در بدر ہوئے
بچے پکارتے تھے کہ ہم بے پدر ہوئے
چلا رہی تھی پیٹ کے سر بنت مرتضےٰؑ
 ہے ہے شہید ہوتا ہے زہراؑ کا لاڈلا
کیونکر بچائوں بھائی کو میں غم کی مبتلا
فریاد ظالموں کی کروں کس سے اے خدا
کیا ضد ہے ان کو فاطمہؑ زہرا کی جان سے
 ہے ہے یہ کیا سلوک کیا مہمان سے
کہتی تہی ڈیوڑھی پہ زینبؑ جگر فگار
 واں حلق سے گزر گئی تیغ ستم کی دھار
نیزے پہ سر لیے جو چلا شمر لعیں نابکار
آئی صدا یہ بہن کو سرور کی ایک بار
ہم نے گلا کٹایا ہے خالق کی راہ میں
 زینبؑ ہو تم سپرد اسی کی پناہ میں
شمر لعیں تو لے گیا فرق امام دیں
تڑپا کیا زمیں پہ ادھر جسم نازنیں
رنگ آسماں کا سرخ تھا جنبش میں تھی زمیں
روتے تھے انبیا سلف بادل حزیں
پیٹا سروں کو آدمؑ ونوحؑ وخلیلؑ نے
تاج اپنا سر سے پھینک دیا جبرائیل نے
زینبؑ نے سر حسینؑ کا دیکھا جو خوں میں تر
پھیلا کے دونوں ہاتھوں کو دوڑی برہنہ سر
دی شمر لعیں کو صدا کہ ستم گر ذرا ٹھہر
بھائی کا میرے سر تو لیے جاتا ہے کدھر
تھم جا کہ شاہؑ کو بانوئے نادار دیکھ لے
بالی سکینہ باپ کا دیدار دیکھ لے
حضرت زینبؑ کے سوال کے جواب میں شمر لعین نے جو  شقاوت دکھائی،کیا عرض کروں
نظم
ٹھہرا یہ سن کے قاتل ابن شاہؑ عرب
 کس منہ سے میں کہوں جو شقی لعیں نے کیا غضب
نوک سناں پہ رکھ کے سر شاہؑ تشنہ لب
بولا کہ مل کے دیکھ لو دیدار ان کا سب
پانا ہے اب محال امام شہیدؑ کو
یہ سر روانہ ہوتا ہے نذر یزید لعین کو
 جس وقت سر امام مظلومؑ کا اس شقی لعین نے نوک نیزہ پر بلند کیا تو نظم
بلوئے میں ننگے سر بہن آئی جو سامنے
آنکھوں کو بند کر لیا اپنی امامؑ نے
چلائی سر کو پیٹ کے زینبؑ جگر فگار
بھیا ابھی تو قید نہیں ہے یہ سوگوار
نامحرموں میں دیکھ کے خواہر کا حال زار
بند آنکھیں کر لیں آپؑ کی غیرت کے میں نثار
دیکھو گے کس طرح مجھے اس اژدہا م میں
جائوں گی جب بندھی ہوئی دربار عام میں
نظم
اے عاشقان شاہ ہداؑ پیٹو اپنا سر
روز نہم ہے خاک اڑائو بچشم تر
عالم کے بادشاہ کا ہوتا ہے اب سفر
اب تعزیے اٹھیں گے چلے شاہ بحر وبر
رخصت ہے شہہؑ کی اہل عزا بے حواس ہیں
دیکھو تو کیسے تعزیے خانے اداس ہیں
واحسرتا کہ شاہؑ کا ماتم ہوا تمام
آئی خزاں بہار کا موسم ہوا تمام
جس کی خوشی دلوں کو تھی وہ غم ہوا تمام
سر پیٹو مومنو کہ محرم ہوا تمام
آئی اگر اجل تو یہ ماتم یہ غم کہاں
یہ مجلسیں تو حشر تلک ہیں پہ ہم کہاں
پیٹو سروں کو جاکے قریب ضریح پاک
اب ہوگا بوتراب کا دلبر سپرد خاک
محبوبؑ حق ہیں غم میں نواسے کے دردناک
دامن تلک علیؑ کا گریباں ہے چاک چاک
حوروں کو ساتھ روضہ ء رضواں سے لائی ہیں
زہراؑ پسر کے رونے کو مجلس میں آئی ہے
لو رونے والو ختم ہوئی آج بزم غم
کل ہوگی یہ ضریح نہ منبر نہ یہ علم
عاشور کو تو ذبح ہوئے شاہ باکرم
چالیس دن کے بعد ہوئے دفن ہے ستم
غربت برس رہی ہے اجل دست بوس ہے
لاشے پہ دن کی دھوپ ہے اور شب کی اوس ہے
کل ہوں گی مجلسیں نہ یہ شیون نہ یہ فغاں
 سنسان ہو نگے تعزیہ داری کے سب مکاں
عشرہ ہوا تمام چلے شاہ انس وجاں
رخصت طلب ہے تم سے تمہارا یہ مہمان
رخصت کرو علم سے لپٹ کر حسینؑ کو
 پائو گے کل نہ فاطمہؑ کے نور عین کو
رو کر کہو کہ اے شاہ ذی جاہ الوداع
بے کس حسینؑ کل کے شہنشاہ الوداع
دیں کے چراغ فاطمہؑ کے ماہ الوداع
اے امت نبیؑ کے ہوا خواہ الوداع
مولا اجل کے ہاتھ سے مہلت جو پائیں گے
پھر اگلے سال بزم میں رونے کو آئیں گے
اے نور چشم احمد مختار الوداع
 اے یاد گار حیدرؑ کرار الوداع
اے سیدہ بتولؑ کے دلدار الوداع
اے امت رسول کے غم خوار الوداع
آداب تعزیت نہ ادا ہم سے ہو سکے
حسرت رہی کہ ہائے نہ جی بھر کے رو سکے
اے بے دیار وبے سر وسامان الوداع
اے شیعیان پاک کے مہمان الوداع
اے دو جہاں کے سید و سردار الوداع
اے بنت مصطفےٰ ؑ کے دل وجان الوداع
آہ وبکا سے ہم کبھی غافل نہ ہو ئیں گے
جب تک جیئں گے آپؑ کی غربت پہ روئیں گے
سر پیٹو مومنو کہ بکا کا مقام ہے
تاریخ یہ نویں ہے محرم تمام ہے
اب رخصت حسین علیہ السلام ہے
رو لو کہ مجلسوں کا بھی اب اختتام ہے
موت آئی تو شریک عزا کون ہوئو ے گا
جو سال بھر جیئے گا وہ پھر شاہ کو روئے گا
رو لو کہ اب امام غریباں کا کوچ ہے
ماتم کرو کہ دین کے سلطاں کا کوچ ہے
رونق کے دن چلے شاہ ذی شاں کا کوچ ہے
واحسرتا حسینؑ سے مہماں کا کوچ ہے
عشرہ تمام ہو چکا روئو امامؑ کو
رخصت کرو حسین علیہ السلام کو
آقا تیرے قربان خدا حافظ وناصر
اے دین کے سلطان خدا حافظ وناصر
اے شیعوں کے مہمان خدا حافظ وناصر
افسوس کہ فریاد وفغاں کر کےنہ روئے
حسرت ہے کہ ہم آپؑ کو جی بھر کے نہ روئے
اے سبط مصطفےٰ ؑ تیرا ماتم نہ ہو سکا
اے کشتہ جفا تیرا ماتم نہ ہو سکا
مظلومؑ کربلا تیرا ماتم نہ ہو سکا
 مذبوح نینوا تیرا ماتم نہ ہوسکا
گر مر گئے تو قبر میں ہم لوگ  ہوئیں گے
 جیتے رہے تو اگلے برس تم کو روئیں گے
اے بے دیار وبے کس ومظلوم الوداع
اے تشنہ کام مضطر ومغموم الوداع
 غسل وکفن سے قبر سے محروم الوداع
ہر گھر میں الوداع کی ہے دھوم الوداع
عرصہ اب ایک شب کا ہے جانے میں آپؑ کے
کل خاک اڑے گی تعزیہ خانے میں آپ کے
ہاں حاضرین مجلس ا ٓپ کے ساتھ غم حسینؑ میں ارواح آئمہ اطہار شریک گریہ وماتم ہیں۔جی بھر کے روح جناب سیدہؑ کو پرسہ دیجیے۔ نظم
شیعوں میں بے سبب نہیں یہ شور وشین ہے
زہراؑ شریک بزم عزائے حسینؑ ہے
موجود یاں پہ روح شاہ مشرقین ہے
سبط نبیؑ کے غم میں بکا فرض عین ہے
عشرہ ہوا تمام شاہ مشرقین کا
 دو فاطمہ ؑ کی روح کو پرسہ حسینؑ کا
اب حق میں اس وزیر کے مل کرو دعا
بر آئے جلد دل کا مولف کے مدعا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

انتیسویں مجلس امام حسین کی دعا سے خدا وند کا راہب کو سات فرزند عطا فرمانا

﷽ انتیسویں مجلس امام حسین علیہ السلام کی دعا سے خدا وند قدیر کا راہب کو سات فرزند عطا  فرمانا،پھر بعد شہادت امامؑ کے سر اقدس کا خانہ راہب میں پہنچنا،راہب کا سیدانیوں کے لیے چادریں نذر کرنا،اور اشقیا کا وہ بھی چھین لینا  اعجاز ابن فاطمہؑ سے وہ نوید ہو واللہ ناامید کے دل کو امید ہو  اے عاشقان سید الشہدا فخر ومباہات کا مقام ہے،کہ ہم سب امام مظلومؑ کے ماتم میں شریک ہیں۔ اس جناب کی ماتم داری اور گریہ وزاری کے سبب اس سوگواروں کو خدا نے کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔کہ جس قدر ہم فخر ومباہات کریں کم ہے۔ بیت  دربار سخی کا ہے یہ مجلس ہے سخی کی یہ بزم عزا مومنو ہے سبط نبیؑ کی نظم پس حضرت صادق سے یہ مضمون عیاں ہے سامان غم سیدؑ مظلوم جہاں ہے  اس شخص کی آنکھوں سے اگر اشک رواں ہے ہر فرد کے اوپر قلم عفو رواں ہے اس پر بھی ترقی ہوئی یہ رحمت رب کو گر ایک بھی روئے گا تو ہم بخشیں گے سب کو خالق کاتو وہ حکم محمدؑ کی یہ گفتار کیا اپنے نواسے کے فضائل کروں اظہار جو اس سے ہے بےزار خدا اس سے ہے بیزار جو اس کا مددگار خدا اس کا مددگار بیٹھے گا جو یاں بزم عزائے شاہ دیں میں ہمس...

ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات

پینتسویں مجلس ذکر ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور  ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات  ذکر چہلم ہو جیے مغموم دفن ہوتے ہیں سید مظلومؑ عزا داران جناب سیدؑ ا  لشہدا آگاہ ہوں کہ جس قدر مصائب وآلام حسینؑ مظلوم پر گزرے نہ کسی نبیؑ پر گزرے نہ کسی وصی پر۔اور بضعتہ الرسولؑ جناب سیدہؑ کے بعد جناب ثانی زہراؑ نے جو مصائب برداشت کیے۔دنیا میں کسی بی بی کا جگر نہیں جو سہہ سکے ، رباعی  ناناؑ کو روئی ماں کا جنازہ دیکھا بابا کا بڑے بھائی کا لاشہ دیکھا  زینبؑ کی غرض حیات روتے ہی کٹی ہے عاشور کو کیا کہوں کہ کیا کیا دیکھا  اور جس طرح اس مخدومہ کائنات کے بھائی امام مظلومؑ کی ولادت کے وقت تہنیت کےساتھ تعزیت کا بھی شور تھا۔اسی طرح جناب زینبؑ کی ولادت کے  وقت خوشی کے ساتھ رنج و ملال کا بھی ہجوم تھا۔چنانچہ شاہزادی کی ولادت کے وقت کا حال کتب تواریخ وسیر میں مرقوم ہے کہ جب حضرت زینبؑ پیدا ہوئیں،تو کنیز جناب فاطمہ زہراؑ نہایت خوش ومسرور ہو کر جناب رسولؑ مقبولؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کی    شعر۔  ہووئے یہ نواسی تمہیں ...

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ شیریں میں پہنچنا

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ   شیریں میں پہنچنا  اے مومنو ہاں دیکھو کہ کیا کرتے ہیں شبیرؑ دو وعدوں کو اک سر سے وفا کرتے ہیں شبیرؑ راویان روایت رنج  و ملال تحریر کرتے ہیں، کہ جس وقت بانوئے محترم شاہزادی عجم جناب امام حسینؑ علیہ السلام کی خدمت با برکت میں آئیں،تو آپ کے ہمراہ اکثر کنیز یں بھی تھیں،منجملہ ان کے اس شاہزادی کی شیریں ایک کنیز خاص بھی تھی۔ جناب بانو نے شیریں کے سوا سب کنیزوں کو آزاد کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ شیریں بہت خوش چشم تھیں۔ایک روز جناب امام حسینؑ نے حضرت شہر بانو سے حمد پروردگار کرتے ہوئے شیریں کی آنکھوں کی مدح کی۔آپ نے بھی امام کی تائید میں ثنا فرمائی۔اور عرض کی، بیت  سب خاک ہیں تم فاطمہؑ کے نور نظر ہو ہے عین خوشی میری جو منظور نظر ہو نظم شیریں تو ہے کیا چیز بھلا تم پہ میں واری ہے جان جو شیریں وہ نہیں آپؑ سے پیاری شیریں میری لونڈی ہے میں لونڈی ہوں تمہاری لو نذر یہ میں کرتی ہوں اے عاشق باری مظلب تو ہے خوشنودی شاہ دوجہاں سے بخشا دل وجاں سے اسے بخشا دل وجاں سے  حضرت شہر بانو کا یہ کلام سن کر سلطان کونین امام...