﷽
اکیسویں مجلس
جناب عبد اللہ پسر امام حسنؑ علیہ السلام کی شہادت
دشمن کو بھی نہ اپنی کمائی سے یاس ہو
عسرت رہے پہ دولت اولاد پاس ہو
جنا ب صادق علیہ السلام سے کتب احادیث میں منقول ہے کہ جو مومن امام حسینؑ مظلوم کے مصائب سن کر روئے اس نے نیکی اور احسان کیا۔ جناب فاطمہؑ زہرا سیدۃ النسا العالمین پر اور احسان کیا جناب رسول خدا پر اور احسان کیا علیؑ مرتضےٰ پر،اور اس مومن نے اہل بیت رسول خدا کے حقوق ادا کیے۔سبحان اللہ کیا مرتبہ ہے حسینؑ پر رونے والوں کا کہ مجلس عزا میں صعوبت اٹھا کر آتے ہیں،اور اس مظلوم کے مصائب پر روتے ہیں۔جس کا کوئی رونے والا نہیں تھا۔ چاہنے والی بہنیں اسیر تھیں۔رونے والا بیٹا قید تھا۔ بے کس وغریب کی لاش بے گور وکفن پڑی تھی۔رویات ہے کہ جب روز عاشور امام مظلومؑ کے تمام یارو انصار وبھائی بھتیجے اور بیٹے شہید ہو چکے،اس وقت مولا یک وتنہا تشنہ وگرسنہ میدان کار زار میں کھڑے تھے،اور چاروں طرف سے فوج اشقیا گھیرے ہوئے تھی۔نظم
کوئی نہ تھا اجل کے سوا اس ولی کے پاس
دشمن چھ لاکھ اور تن تنہا وہ حق شناس
وہ بے کسی وہ عالم غربت وہ غم ویاس
وہ دکھ وہ سوز قلب وہ داغ جگر وہ پیاس
صحرا پہ تھی نگاہ کبھی گاہ نہر پر
نرغہ تھا مورچوں کا سلیمان دہر پر
تھے سامنے کلیجے کے ٹکڑے جو خون میں تر
روتے تھے بار بار لہو شاہ بحر وبر
ٹوٹا ہوا تھا بازوئے پر نور سر بسر
خم ہو گئی تھی صدمہ جانکاہ سے کمر
ریش سیاہ سفید تھی فرط ملال سے
سیدھا ہوا نہ جاتھا زہراؑ کے لالؑ سے
لب خشک دھوپ سے عرق افشاں جبین پاک
داماں وآستین پہ لہو گیسوں پہ خاک
جان حزین فراق میں بھائی کے درد ناک
غم میں جواں پسر کے گریبان تھا چاک چاک
سنگ جفا سے شیشہ دل چور چور تھا
طاقت نہ قلب میں تھی نہ آنکھوں میں نور تھا
اور فوج اشقیا کے جوان وپیر نہر فرات سے سیراب اور حسینؑ مظلوم کو دیکھ دیکھ کر وہ ملعون خوش ہو رہے تھے۔ اور کہتے تھے کہ اے حسینؑ اب بھی بیعت کر لو تو جان بچ جائے ۔ امامؑ عالی مقام فرماتے تھے کہ اے گمراہو، اے فاسقو میں رسول خدا کا جگر ہوں۔ اسد اللہ کا نور نظر ہوں۔ میں اور یزید لعین سے فاسق وفاجر کی بیعت کروں، محال ہے۔ نظم
اب جلد سر کٹے کہ ہے دل زندگی سے سیر
پیاروں کے ہجر میں ہمیں دشوار ہے یہ دیر
سوتا ہے جلتی ریت پہ عباسؑ میرا شیر
ہے گرم کنکروں سے تن قاسمؑ دلیر
میداں کی دھوپ پڑتی ہے اکبرؑ کی لاش پر
رومال تک نہیں علیؑ اصغرؑ کی لاش پر
روتے تھے درد دل سے یہ کہہ کر شہ امم
منہ پیٹتے تھے خیمہ عصمت میں سب حرم
کفار بڑھتے آتے تھے کعبہ پہ دم بہ دم
چھائی تھی یہ گھٹا کہ کھلے تھے سیہ عالم
تاکید کوفیوں کی تھی یہ فوج شام لعیں پر
برسائو تیر پانی کے بدلے امامؑ پر
چلا رہا تھا شمرلعیں کہ ہاں برچھیاں چلائو
سبط نبیؑ کی تشنہ لبی پر نہ رحم کھائو
میدان میں اب حسینؑ اکیلے کھڑے ہیں جائو
سولہ پہر کے پیاسے کا ریتی پہ خوں بہائو
سر پیٹنے دو فاطمہؑ زہرا کی جائی کو
مارو بہن کے سامنے تلواریں بھائی کو
اب ڈر ہے کیا خویش وبرادر گزر گئے
تیغوں میں جو سپر تھے وہ صفدر گزر گئے
دل جن سے تھا قوی وہ دلاور گزر گئے
قاسمؑ گزر گئے علیؑ اکبرؑ گزر گئے
چھوڑا نمازیوں نے شہ تشنہ کام کو
بس اب کوئی نہیں جو بچائے امامؑ کو
کہتا تھا شیث سبط پیمبرؑ کو گھیر لو
چاروں طرف سے خیمہ اطہر کو گھیر لو
سب مل کے ابن فاتح خیبر کو گھیر لو
نیزے اٹھا اٹھا کے دلاور کو گھیر لو
مہلت نہ دو دعا کی امامؑ دلیر کو
جیتا پکڑ لو شیر الہیٰ کے شیر کو
اور اہل نار کرتے تھے آپس میں یہ کلام
جا کر عقب سے پھونک دو شبیرؑ کے خیام
مر جائیں گھٹ کے خیمہ میں اطفال تشنہ کام
جل جائیں گھر کے آگ میں سیدانیاں تمام
بے کس پسر پہ باپ کے آگے ستم کرو
عابدؑ کا سر بھی تیغ دو دم سے قلم کرو
کہتا تھا سب سے یہ پسر سعد بد خصال
یارو حسینؑ ہے اسد کبریا کا لال
اس کا جلال ہے بخدا قہر ذوالجلال
ہاتھ آئے وہ کسی کے یہ سب خام ہے خیال
ایسا دلیر فوج میں زندہ اسیر ہو
دیکھا نہیں کہ شیر درندہ اسیر ہو
اہل شر تو آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے،اور شاہ بحر وبر یکہ وتنہا کھڑے تھے۔ یہ حال دیکھ کر اہل حرم خیمہ میں دھاڑیں مار مار کر روتے تھے۔اور کبھی مدینہ کی طرف اور کبھی نجف کی طرف منہ کرکے فریاد کرتے تھے۔کہ یا رسول ؑ اللہ یا علیؑ مرتضےٰ اپنے فرزند کی مدد کیجیے۔ اہل بیت کے اضطراب وبے چینی کا حال کیا عرض کروں۔ہر ایک بی بی سینہ وسر پیٹتی تھی۔
نظم
زانو پہ سر رکھے کوئی روتی تھی زار زار
بسمل کی طرح لوٹتی تھی کوئی سوگوار
منہ ڈھانپے بین کرتی تھی کوئی جگر فگار
پڑھتی تھی کوئی نوحہ جاں سوز بار بار
برپا تھا شور بیبیوں کے شور وبین سے
گھر ہو گیا تھا مجلس ماتم حسینؑ سے
الغرض امام حسینؑ یہ حال دیکھ کر خیمہ اطہر میں تشریف لائے اور ہر ایک بی بی کو تسلی وتشفی دے کر فرمایا بیت
فرماتے تھے قلق ہے دل پر ملال کو
دے صبر اے کریم محمدؑ کی آل کو
پھر جناب زینبؑ سے فرمایا کہ اے بہن صبر کرو۔ میں اپنے نانا رسولؑ خدا اور پدر بزرگوار علی مرتضےٰ سے تو افضل نہیں ہوں۔آخر ان کو بھی تو صبر کیا۔ یہ سن کر ، نظم
زینبؑ نے عرض کی کہ بجا ہے یہ کلام
کیونکر میں اپنے دل کو سمجھائوں یا امامؑ
انصاف کیجیے یہ بکا کا نہیں مقام
کس گھر پہ ایک دن میں ہو اتھا یہ قتل عام
آنکھوں سے جوئے اشک نہ کیونکر رواں رہے
بچے رہے نہ پیر رہے نے جواں رہے
نکلے تھے گھر سے چار جنازے نہ ایک بار
تھا میرے سر پہ ایک کے بعد ایک غمگسار
اب تو فقط ہیں آپ ہی اے شاہ نامدار
ناناؑ کے ماں کےباپ کے بھائی کے یادگار
اولاد قتل ہو گئی ماں باپ اٹھ گئے
پھر کون سر پرست ہے جب آپؑ اٹھ گئے
دنیا میں مجھ سا کوئی نہ ہوئے گا سخت جان
مجھ کو اجل بھی بھول گئی یا شاہ زمان
دنیا سے اٹھ گیا علی اکبرؑ سا نوجوان
اب تک جہاں میں جیتی ہے یہ پیر ناتواں
سب میری عمر آہ وبکا میں گزر گئی
اماں کا گھر اجڑ گیا اور میں نہ مر گئی
بابا نے ماں نے بھائی نے ہنگام اختضار
حضرت سے یہ کہا تھا کہ زینبؑ سے ہوشیار
شبیرؑ ہے حوالے تمہارے یہ سوگوار
اب مجھ کو سونپتے ہیں کسے یا شاہ نامدار
اماں جو کہہ گئی ہیں اسے یاد کیجیے
کچھ تو بہن کے باب میں ارشاد کیجیے
بیٹھوں کہاں جو فوج ستم لوٹنے کو آئے
اتنا تو ہو کوئی کہ یہ کہنہ ردا بچائے
الٹے میرے نصیب بڑھاپے میں ہائے ہائے
اماں کو آج ڈھونڈ کے زینبؑ کہاں سے لائے
چادر اوڑھائے کون جو یاں ننگے سر پھروں
قسمت میں یہ لکھا ہے کہ میں در بدر پھروں
جناب ا مام حسینؑ علیہ السلام نے فرمایا کہ راہ خدا میں اسیری باعث افتخار ہے۔ اس خالق کون ومکاں کی ذات رحیم وکریم ہے۔ میں اس کے سپرد کرتا ہوں جو کل کا مختار ہے۔ یہ کہہ کر فرمایا، نظم
لو الوداع جا کے بس اب ہم نہ آئیں گے
اس تین دن کی پیاس میں تلواریں کھائیں گے
سر دے کے عاصیوں کی خطا بخشو ائیں گے
اب بعد عصر ناناؑ کی خدمت میں جائیں گے
ہشیار ان سے جو مرے نازوں کے پالے ہیں
زینبؑ یہ سب یتیم تمہارے حوالے ہیں
شب کو جو مجھ کو ڈھونڈ کے روئے سیکنہ جان
زینبؑ خدا کے واطے تم رکھنا اس کا دھیان
لو بیبیوں کریم تمہارا ہے نگہبان
لو بانو آئو ہوتا ہے رخصت یہ مہمان
کبریؑ کدھر ہے دلبر زہراؑ کو دیکھ لے
سجادؑ جگا دو کہ بابا کو دیکھ لے
یہ فرما کر جناب زین العابدینؑ کے پاس تشریف لائے۔اور تمام اسرار امامت تعلیم فرما کر صبر کی تاکید فرمائی،اور کہا کہ اے بیٹا تمہارا جہاد یہی ہے کہ طوق وزنجیر پہنو، ماں بہنو کو سر برہنہ اسیر دیکھو۔ بیٹا سجاد میری محنتوں کا خیال رہے۔ اشقیا کے مظالم پر غیظ میں نہ آنا۔ امت کے حق میں بدعا نہ کرنا۔ایسا نہ ہو کہ میری محنت برباد ہو جائے۔ الغرض جناب سجادؑ نے امام کی وصیتیں سن کر ان کی بجا آوری کا اقرار کیا۔پھر جناب امام حسینؑ نے اہل بیت سے فرمایا نظم
لو الوداع موت ہمیں لینے آئی ہے
اب ہم سے تم سے تا بہ قیامت جدائی ہے
تنہائی میں چھ لاکھ کی ہم پر چڑھائی ہے
آفت کا معرکہ ہے غضب کی لڑائی ہے
اک جان کے لیے ادھر انبوہ خلق ہے
خنجر ہزار تیز ہیں اور ایک حلق ہے
لو بیبیوں بچھڑتا ہے تم سے یہ مہمان
خیمے سے ننگے سر نہ نکلیو رہے دھیان
لو شاہ بانو خالق اکبر ہے نگہبان
لو اب پدر کی چھاتی سے لپٹو سکینہ جان
ڈھونڈو گی عمر بھر تو یہ سینہ نہ پائو گی
بابا کو تا بہ حشر سکینہ ؑ نہ پائو گی
یہ کہہ کر آپ میدان کارزار کو روانہ ہوئے۔اثنائے راہ میں نظم
حضرت ؑ نے سامنے جو کیا اس گھڑی خیال
دیکھا کہ روتے جاتے ہیں محبوب ذوالجلال
مڑ کر سوئے عقب جو نظر کی بصد ملال
دیکھا بتولؑ آتی ہے بکھرائے سر کے بال
رخت سیاہ بر میں اور لب پہ نالے ہیں دو حوریں ان کو ہاتھوں سے اپنے سنبھالے ہیں
داہنی طرف جو مڑ کے لگے دیکھنے امام
خم ہو گیا جنود ملائک پے سلام
با ئیں طرف پھری جو نگاہ شہ انام
مجرے کو تھم کے لشکر جن جھک گیا تمام
اقبال کہتا جاتا تھا سب سے بڑے چلو
باہم ملاحظہ سے ادب سے بڑھے چلو
حضرت سے عرض کرتے تھے قدسی یہ بار بار
دے حکم جنگ اے خلف شیر کردگار
ہو جائیں آج ہم بھی تری راہ میں نثار
فرماتے تھے یہ امر ہے خاطر کو ناگوار
بڑھنے دو غول فوج ضلالت شعار کے
خواہاں ہیں ہم فقط مدد کردگار کے
کس زیست پر میں دوں تمہیں تکلیف کارزار
اک دم میں ا ب یہ حلق ہے اور تیغ آبدار
گھبرا رہی ہے خلد میں جانے کو جان زار
مرنے کی آرزو ہے اجل کا ہے انتظار
زینبؑ کے اب نکلنے کی ساعت قریب ہے
رخصت ہو تم کہ وقت شہادت قریب ہے
فرما کے یہ بدل گئے تیور جناب کے
جولاں کیا سمند کو رانوں میں داب کے
قربان حسینؑ سبط رسالت مآب کے
منہ پر ہوائیاں سی چھٹیںآفتاب کے
جنگل قدم کے فیض سے شاداب ہو گیا
پر تو سے رخ کے دن شب مہتاب ہو گیا
الغرض امامؑ نے فوج اشقیا پر شیرانہ حملے کیے۔اور دم کے دم میں ہزاروں بد شعاروں کو تہہ تیغ فرمایا۔میدان کارزار میں کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ آخر ہر طرف سےالامان کا شور بلند ہوا۔ اور اشقیا جناب رسولؑ خدا کا واسطہ دینے لگے۔امامؑ نے ناناؑ کا نام سنا تو درود پڑھ کر ذوالفقار روک لی۔ تلوار کا رکنا تھا کہ اشقیا نے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اور تبر وتیر اور نیزہ وشمشیر کے وار کرنے لگے۔ جب آپؑ کو کثرت جراحت سے ذ والجناح پر ٹھہرنے کی طاقت نہ رہی تو زمین پر آئے۔ نظم
لشکر میں غل ہوا کہ زمیں پر گرے حسینؑ
یاں عرش کو ہلانے لگے بیبیوں کے بین
اک شور تھا کہ ہائے محمدؑ کے نور عین
کیونکر زمین گرم پہ آئے گا تجھ کو چین
سب منحرف ہیں آگ لگی ہے زمانے کو
بھیجیں حرم کسے تیرا لاشہ اٹھانے کو
ہے ہے کسے مدد کو پکاریں یہ سوگوار
اس وقت میں نہ دوست نہ کوئی ہے غمگسار
سجادؑ ہے تو غش میں پڑا ہے وہ دلفگار
اے جان فاطمہؑ تیری تنہائی کے نثار
لٹتا ہے گھر سروں پہ نہ کیوں خاک اڑائیں ہم
قدموں پہ آنکھیں ملنے کو کس طرح آئیں ہم
اہل بیت اطہار میں تو یہ نالہ وشیون برپا تھا۔اس وقت معصوم بچے گھبرا کر خیموں سے باہر نکل آئے۔جناب سکینہؑ سر پیٹتی تھیں کہ میرے بابا پہ جفائیں ہوتی ہیں۔ کوئی بچہ کہتا تھا کہ چچا جان نرغہ اعدا میں مجروح پڑے ہیں۔الغرض اس وقت سب معصوموں کی آنکھوں میں دنیا اندھیر تھی۔ نظم
لکھتا ہے یہ اب راوی غمگین وہاں کا حال
ہمراہ تھا سکینہؑ کے چھوٹا حسنؑ کا لال
سن کر صدائے بانوئے شبیرؑ خوشخصال
نکلا تڑپ کے خیمہ سے باہر وہ خورد سال
گھبرا کے بنت فاطمہؑ مضطر نکل پڑی
بیٹے کے ساتھ ماں بھی کھلے سر نکل پڑی
تصویر اس صغیر کی کھینچے اگر قلم
پھر جائے ہر کلیجہ پر شمشیر درد وغم
نو دس برس کا ہو گا ابھی تو وہ ذی حشم
پہلے پہل چلا ہے سوئے لشکر ستم
پیک اجل کے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ ہے
سایہ کی طرح روح حسنؑ ساتھ ساتھ ہے
ماتھا ضیائے آئینہ مہہ سے سرفراز
دونوں بھنویں ملی ہوئیں پلکوں سے صف دراز
چشم سیاہ نرگس بستان حسن ناز
پتلی ہے نور دیدہ شاہنشہ حجاز
عارضوں میں ہے یہ ضو کہ ستارے بھی ماند ہیں
دن کو تو آفتاب ہیں راتوں کو چاند ہیں
دو پھول نسترن کے ہیں رخسار نازنین
تھی جس کی رنگ وبو پہ فدا جان شاہ ؑدین
لب سرخ سرخ لعل یمن کے ہیں دو نگیں
اور پیارے پیارے دانت ہیں سلک در ثمیں
ملتی ہے شان کشتہ الماس شان میں
یا در چمک رہا ہے زمرد کا کان میں
چھوٹا ابھی ہے قد پہ ہیں گیسو بڑے بڑے
گردن میں چند طوق بھی منت کے ہیںپڑے
ہیکل گلے میں ہاتھوں میں منت کے ہیں کڑے
سر پیٹتے ہیں ڈیوڑھی پہ اہل حرم کھڑے
ڈر ہے کہ کوئی تیر نہ لگ جائے آن کے
لالے پڑے ہیں رانڈوں کو اس گل کی جان کے
جس وقت کہ حضرت عبد اللہ بقصد میدان کارزار میں اپنے چچا کی خدمت میں جانے کے لیے خیمہ سے باہر نکلے تو ساتھ ہی آپ کی والدہ معظمہ بھی بے تاب ہو کر نکل آئیں،اور اس معصوم کو پکڑ کر ہر چند سمجھاتی تھیں، کہ جان مادر میدان میں نہ جائو،ایسا نہ ہو کہ کوئی شقی تجھے قتل کردے،میرے بڑھاپے پر رحم کھائو، بھاوج کے رنڈاپے پر نظر کرو،تمہام گھر بے چین ہے۔ اے عبد اللہ نظم
غربت میں تم بغیر ہمارا نہیں کوئی
مجھ رانڈ کا اب اور سہارا نہیں کوئی
کہتا تھا وہ کہ دل سے اٹھا دو ہماری آس
خوں جوش میں ہے اب نہیں مجھ کو کسی کا پاس
میداں میں قتل ہوتے ہیں عموئے حق شناس
زیبا ہمارے تن پہ ہے اماں پھٹا لباس
اب پیرہن بھی خاک ہے جینا بھی خاک ہے
تیغوں سے واں چچا کا بدن چاک چاک ہے
بتلائو زندہ رہ کے کسے منہ دکھائیں گے
تم مر بھی جائو گی تو نہ ہم گھر کو جائیں گے
قاسمؑ کی طرح برچھیاں سینے پہ کھائیں گے
پیاسے تڑپ تڑپ کے لہو میں نہائیں گے
اب لطف زندگی نہیں دنیائے زشت میں
اصغرؑ کے پاس جائیں گے ہم بھی بہشت میں
پھر یوں مچل کے ماں سے وہ بولا بچشم تر
چھوڑو خدا کے واسطے پھٹتا ہے اب جگر
خنجر سے کٹ نہ جائے کہیں واں چچا کا سر
کہتی ہے رو کے ماں کہ میں صدقے چلو تو گھر
ساتھ اپنے لے لو حربہ جنگ وجدال بھی
چھوٹی سی دوں گی تیغ بھی چھوٹی سی ڈھال بھی
تیغیں علم کریں گے جو حضرت پہ اہل شام
وار ان پہ تم بھی کیجیو لے کر علیؑ کا نام
کہتا تھا سر ہلا کے ماں سے وہ تشنہ کام
کچھ ڈھال سے غرض ہے نہ ہے نیمچے سے کام
تیغوں کے نیچے اپنا گلا دھرنے جاتے ہیں
ہم تو چچا پہ سینہ سپر کرنے جاتے ہیں
نرغہ میں قاتلوں کے اکیلے ہیں واں پہ شاہ
اور تم لپٹ لپٹ کے ہمیں روکتی ہو واہ
بازو پکڑ کے ماں نے کہا تب با چشم وآہ
اچھا مجھے بھی لیتے جائو سوئے قتل گاہ
جا کر پھروں گی گرد شاہ مشرقین کے
تلواریں میں بھی کھائوں گی بدلے حسینؑ کے
جب کچھ نہ بس چلا تو حسنؑ کا وہ دلربا
ان ننھے ننھے ہاتھوں سے سر پیٹنے لگا
شبرؑ نے دی صدا نہ رکے گا یہ مہہ لقا
ہونے دو تم اسے بھی میرے بھائی پہ فدا
نرغہ ہے آج فاطمہؑ کے نور عین پر
دونوں حسنؑ کے لال تصدق حسینؑ پر
الغرض بچے نے ماں سے اپنا ہاتھ چھوڑا لیا،اور مقتل کی طرف پا پیادہ روانہ ہوا۔ جب امامؑ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ بیت
گھیرے ہیں اہل ظلم شاہؑ مشرقین کو
کوئی نہیں جو آکے بچائے حسینؑ کو
لپٹا وہ طفل ہائے چچا کہہ کے جب
رو رو کے ہاتھ ملنے لگے شاہ تشنہ لب
فرمایا ہم تو ذبح کوئی دم میں ہونگے اب
ان آفتوں میں تم بھی چھٹے ماں سے ہے غضب
اصغر کے بعد رنج والم سے فراغ تھا
قسمت میں وقت مرگ تمہارا بھی داغ تھا
حضرتؑ سے رو کے کہنے لگا تب وہ خرد سال
اے عمو جان آپ کا یہ کیا ہوا ہے حال
تیغوں سے جسم ٹکڑے ہے کپڑے ہیں خوں سے لال
خیمہ میں اٹھ کے چلیے بس اب بہر ذوالجلال
رو رو کے اپنے سر پہ چچی خاک آڑاتی ہیں
خیمہ سے ننگے پائوں پھوپھی نکلی آتی ہے
الٹی پڑی ہے مسند شاہنشہؑ زمن
اٹھ اٹھ کے تپ میں گرتے ہیں سجادؑ خستہ تن
منہ اپنا پیٹتی ہے بڑے بھائی کی دلہن
بسمل سی لوٹتی ہے سکینہؑ میری بہن
کہتی ہے شکل دیکھوں گی زہراؑ کے جائے کی
سن لیجیے آرہی ہے صدا ہائے ہائے کی
آنکھوں میں بھر کے اشک یہ بولے شاہ امم
بیٹا اٹھیں گے حشر کو اب اس زمیں سے ہم
دیکھو علم ہیں چار طرف خنجر ستم
مہلت کہاں جو چلیں سوئے خیمہ حرم
مقتل کی خاک پکڑے ہے داماں حسینؑ کا
ہے پنجہ اجل میں گریبان حسینؑ کا
حضرتؑ یہ کہتے تھے کہ بڑھے قتل کو لعیں
خنجر کوئی لیے ہوئے اور کوئی تیغ کیں
بولا یہ شاہ کی گود سے اٹھ کے وہ مہہ جبیں
بہر خدا نہ آئو قریب امام دیں
زخمی تو ہیں پھر اور جفا کیا ضرور ہے
سارا مرے چچا کا بدن چور چور ہے
اے ظالمو نہ سید لو لاک کو رلائو
خاتون حشر ننگے سر آئی ہیں یاں سے جائو
بے کس پہ بے وطن پہ مسافر پہ رحم کھائو
حاضر ہوں ان کے بدلے مجھے برچھیاں لگائو
ہر عضو تن پہ ظلم کی تلوار پھیر دو
میرے گلے پہ خنجر خونخوار پھیر دو
سنتے تھے کب یتیم کی زاری وہ نابکار
چلنے لگے قریب سے حضرتؑ پہ ان کے وار
تلوار مارنے جو لگا اک ستم شعار
ہاتھ اپنے بس اٹھا دیئے بچے نے ایک بار
کیوں آسماں نہ ٹوٹ پڑا پھٹ کے فلک پر
بچے کے دونوں ہاتھ گرے کٹ کے خاک پر
زخمی کلائیوں سے جو بہنے لگا لہو
گر کر چچا کی گود میں تڑپا وہ ماہ رو
ہاتھوں سے پیٹنے لگے سر شاہ نیک خو
چلہ کمان کرکے بڑھا شیث کینہ خو
مارا وہ تیر ظلم کہ بچہ دہل گیا
پیکاں گلے کو توڑ کے باہر نکل گیا
آنکھیں پھیرائیں اس نے گلے میں رکا جو دم
بائیں پٹک کے خاک پہ پھیلا دیئے قدم
ہچکی جو آئی مر گیا معصوم ہے ستم
منہ اس کے منہ پہ رکھ کے پکارے شاہ امم
باتیں بھی کچھ چچا سے نہ کیں ہاتھ جوڑ کے
تنہا چلے گئے ہمیں جنگل میں چھوڑ کے
اے لال ماں تڑپتی ہے لو اٹھ کے گھر کو جائو
خوں میں بھرے ہوئے یہ کٹے ہاتھ اسے دکھائو
کرتے کی آستیں میری جاں چڑھا کے آئو
تلوار پھر لگاتے ہیں ظالم ہمیں بچائو
آنکھیں پھرائے سوتے ہو کیا منہ ادھر کرو
پھر ننھے ننھے ہاتھ چچا پر سپر کرو
عبداللہ صغیر کے صدقے میں اے حسنؑ
جاتے رہیں وزیر کے سارے غم ومحن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیسویں مجلس
جناب عبد اللہ پسر امام حسنؑ علیہ السلام کی شہادت
دشمن کو بھی نہ اپنی کمائی سے یاس ہو
عسرت رہے پہ دولت اولاد پاس ہو
جنا ب صادق علیہ السلام سے کتب احادیث میں منقول ہے کہ جو مومن امام حسینؑ مظلوم کے مصائب سن کر روئے اس نے نیکی اور احسان کیا۔ جناب فاطمہؑ زہرا سیدۃ النسا العالمین پر اور احسان کیا جناب رسول خدا پر اور احسان کیا علیؑ مرتضےٰ پر،اور اس مومن نے اہل بیت رسول خدا کے حقوق ادا کیے۔سبحان اللہ کیا مرتبہ ہے حسینؑ پر رونے والوں کا کہ مجلس عزا میں صعوبت اٹھا کر آتے ہیں،اور اس مظلوم کے مصائب پر روتے ہیں۔جس کا کوئی رونے والا نہیں تھا۔ چاہنے والی بہنیں اسیر تھیں۔رونے والا بیٹا قید تھا۔ بے کس وغریب کی لاش بے گور وکفن پڑی تھی۔رویات ہے کہ جب روز عاشور امام مظلومؑ کے تمام یارو انصار وبھائی بھتیجے اور بیٹے شہید ہو چکے،اس وقت مولا یک وتنہا تشنہ وگرسنہ میدان کار زار میں کھڑے تھے،اور چاروں طرف سے فوج اشقیا گھیرے ہوئے تھی۔نظم
کوئی نہ تھا اجل کے سوا اس ولی کے پاس
دشمن چھ لاکھ اور تن تنہا وہ حق شناس
وہ بے کسی وہ عالم غربت وہ غم ویاس
وہ دکھ وہ سوز قلب وہ داغ جگر وہ پیاس
صحرا پہ تھی نگاہ کبھی گاہ نہر پر
نرغہ تھا مورچوں کا سلیمان دہر پر
تھے سامنے کلیجے کے ٹکڑے جو خون میں تر
روتے تھے بار بار لہو شاہ بحر وبر
ٹوٹا ہوا تھا بازوئے پر نور سر بسر
خم ہو گئی تھی صدمہ جانکاہ سے کمر
ریش سیاہ سفید تھی فرط ملال سے
سیدھا ہوا نہ جاتھا زہراؑ کے لالؑ سے
لب خشک دھوپ سے عرق افشاں جبین پاک
داماں وآستین پہ لہو گیسوں پہ خاک
جان حزین فراق میں بھائی کے درد ناک
غم میں جواں پسر کے گریبان تھا چاک چاک
سنگ جفا سے شیشہ دل چور چور تھا
طاقت نہ قلب میں تھی نہ آنکھوں میں نور تھا
اور فوج اشقیا کے جوان وپیر نہر فرات سے سیراب اور حسینؑ مظلوم کو دیکھ دیکھ کر وہ ملعون خوش ہو رہے تھے۔ اور کہتے تھے کہ اے حسینؑ اب بھی بیعت کر لو تو جان بچ جائے ۔ امامؑ عالی مقام فرماتے تھے کہ اے گمراہو، اے فاسقو میں رسول خدا کا جگر ہوں۔ اسد اللہ کا نور نظر ہوں۔ میں اور یزید لعین سے فاسق وفاجر کی بیعت کروں، محال ہے۔ نظم
اب جلد سر کٹے کہ ہے دل زندگی سے سیر
پیاروں کے ہجر میں ہمیں دشوار ہے یہ دیر
سوتا ہے جلتی ریت پہ عباسؑ میرا شیر
ہے گرم کنکروں سے تن قاسمؑ دلیر
میداں کی دھوپ پڑتی ہے اکبرؑ کی لاش پر
رومال تک نہیں علیؑ اصغرؑ کی لاش پر
روتے تھے درد دل سے یہ کہہ کر شہ امم
منہ پیٹتے تھے خیمہ عصمت میں سب حرم
کفار بڑھتے آتے تھے کعبہ پہ دم بہ دم
چھائی تھی یہ گھٹا کہ کھلے تھے سیہ عالم
تاکید کوفیوں کی تھی یہ فوج شام لعیں پر
برسائو تیر پانی کے بدلے امامؑ پر
چلا رہا تھا شمرلعیں کہ ہاں برچھیاں چلائو
سبط نبیؑ کی تشنہ لبی پر نہ رحم کھائو
میدان میں اب حسینؑ اکیلے کھڑے ہیں جائو
سولہ پہر کے پیاسے کا ریتی پہ خوں بہائو
سر پیٹنے دو فاطمہؑ زہرا کی جائی کو
مارو بہن کے سامنے تلواریں بھائی کو
اب ڈر ہے کیا خویش وبرادر گزر گئے
تیغوں میں جو سپر تھے وہ صفدر گزر گئے
دل جن سے تھا قوی وہ دلاور گزر گئے
قاسمؑ گزر گئے علیؑ اکبرؑ گزر گئے
چھوڑا نمازیوں نے شہ تشنہ کام کو
بس اب کوئی نہیں جو بچائے امامؑ کو
کہتا تھا شیث سبط پیمبرؑ کو گھیر لو
چاروں طرف سے خیمہ اطہر کو گھیر لو
سب مل کے ابن فاتح خیبر کو گھیر لو
نیزے اٹھا اٹھا کے دلاور کو گھیر لو
مہلت نہ دو دعا کی امامؑ دلیر کو
جیتا پکڑ لو شیر الہیٰ کے شیر کو
اور اہل نار کرتے تھے آپس میں یہ کلام
جا کر عقب سے پھونک دو شبیرؑ کے خیام
مر جائیں گھٹ کے خیمہ میں اطفال تشنہ کام
جل جائیں گھر کے آگ میں سیدانیاں تمام
بے کس پسر پہ باپ کے آگے ستم کرو
عابدؑ کا سر بھی تیغ دو دم سے قلم کرو
کہتا تھا سب سے یہ پسر سعد بد خصال
یارو حسینؑ ہے اسد کبریا کا لال
اس کا جلال ہے بخدا قہر ذوالجلال
ہاتھ آئے وہ کسی کے یہ سب خام ہے خیال
ایسا دلیر فوج میں زندہ اسیر ہو
دیکھا نہیں کہ شیر درندہ اسیر ہو
اہل شر تو آپس میں یہ گفتگو کرتے تھے،اور شاہ بحر وبر یکہ وتنہا کھڑے تھے۔ یہ حال دیکھ کر اہل حرم خیمہ میں دھاڑیں مار مار کر روتے تھے۔اور کبھی مدینہ کی طرف اور کبھی نجف کی طرف منہ کرکے فریاد کرتے تھے۔کہ یا رسول ؑ اللہ یا علیؑ مرتضےٰ اپنے فرزند کی مدد کیجیے۔ اہل بیت کے اضطراب وبے چینی کا حال کیا عرض کروں۔ہر ایک بی بی سینہ وسر پیٹتی تھی۔
نظم
زانو پہ سر رکھے کوئی روتی تھی زار زار
بسمل کی طرح لوٹتی تھی کوئی سوگوار
منہ ڈھانپے بین کرتی تھی کوئی جگر فگار
پڑھتی تھی کوئی نوحہ جاں سوز بار بار
برپا تھا شور بیبیوں کے شور وبین سے
گھر ہو گیا تھا مجلس ماتم حسینؑ سے
الغرض امام حسینؑ یہ حال دیکھ کر خیمہ اطہر میں تشریف لائے اور ہر ایک بی بی کو تسلی وتشفی دے کر فرمایا بیت
فرماتے تھے قلق ہے دل پر ملال کو
دے صبر اے کریم محمدؑ کی آل کو
پھر جناب زینبؑ سے فرمایا کہ اے بہن صبر کرو۔ میں اپنے نانا رسولؑ خدا اور پدر بزرگوار علی مرتضےٰ سے تو افضل نہیں ہوں۔آخر ان کو بھی تو صبر کیا۔ یہ سن کر ، نظم
زینبؑ نے عرض کی کہ بجا ہے یہ کلام
کیونکر میں اپنے دل کو سمجھائوں یا امامؑ
انصاف کیجیے یہ بکا کا نہیں مقام
کس گھر پہ ایک دن میں ہو اتھا یہ قتل عام
آنکھوں سے جوئے اشک نہ کیونکر رواں رہے
بچے رہے نہ پیر رہے نے جواں رہے
نکلے تھے گھر سے چار جنازے نہ ایک بار
تھا میرے سر پہ ایک کے بعد ایک غمگسار
اب تو فقط ہیں آپ ہی اے شاہ نامدار
ناناؑ کے ماں کےباپ کے بھائی کے یادگار
اولاد قتل ہو گئی ماں باپ اٹھ گئے
پھر کون سر پرست ہے جب آپؑ اٹھ گئے
دنیا میں مجھ سا کوئی نہ ہوئے گا سخت جان
مجھ کو اجل بھی بھول گئی یا شاہ زمان
دنیا سے اٹھ گیا علی اکبرؑ سا نوجوان
اب تک جہاں میں جیتی ہے یہ پیر ناتواں
سب میری عمر آہ وبکا میں گزر گئی
اماں کا گھر اجڑ گیا اور میں نہ مر گئی
بابا نے ماں نے بھائی نے ہنگام اختضار
حضرت سے یہ کہا تھا کہ زینبؑ سے ہوشیار
شبیرؑ ہے حوالے تمہارے یہ سوگوار
اب مجھ کو سونپتے ہیں کسے یا شاہ نامدار
اماں جو کہہ گئی ہیں اسے یاد کیجیے
کچھ تو بہن کے باب میں ارشاد کیجیے
بیٹھوں کہاں جو فوج ستم لوٹنے کو آئے
اتنا تو ہو کوئی کہ یہ کہنہ ردا بچائے
الٹے میرے نصیب بڑھاپے میں ہائے ہائے
اماں کو آج ڈھونڈ کے زینبؑ کہاں سے لائے
چادر اوڑھائے کون جو یاں ننگے سر پھروں
قسمت میں یہ لکھا ہے کہ میں در بدر پھروں
جناب ا مام حسینؑ علیہ السلام نے فرمایا کہ راہ خدا میں اسیری باعث افتخار ہے۔ اس خالق کون ومکاں کی ذات رحیم وکریم ہے۔ میں اس کے سپرد کرتا ہوں جو کل کا مختار ہے۔ یہ کہہ کر فرمایا، نظم
لو الوداع جا کے بس اب ہم نہ آئیں گے
اس تین دن کی پیاس میں تلواریں کھائیں گے
سر دے کے عاصیوں کی خطا بخشو ائیں گے
اب بعد عصر ناناؑ کی خدمت میں جائیں گے
ہشیار ان سے جو مرے نازوں کے پالے ہیں
زینبؑ یہ سب یتیم تمہارے حوالے ہیں
شب کو جو مجھ کو ڈھونڈ کے روئے سیکنہ جان
زینبؑ خدا کے واطے تم رکھنا اس کا دھیان
لو بیبیوں کریم تمہارا ہے نگہبان
لو بانو آئو ہوتا ہے رخصت یہ مہمان
کبریؑ کدھر ہے دلبر زہراؑ کو دیکھ لے
سجادؑ جگا دو کہ بابا کو دیکھ لے
یہ فرما کر جناب زین العابدینؑ کے پاس تشریف لائے۔اور تمام اسرار امامت تعلیم فرما کر صبر کی تاکید فرمائی،اور کہا کہ اے بیٹا تمہارا جہاد یہی ہے کہ طوق وزنجیر پہنو، ماں بہنو کو سر برہنہ اسیر دیکھو۔ بیٹا سجاد میری محنتوں کا خیال رہے۔ اشقیا کے مظالم پر غیظ میں نہ آنا۔ امت کے حق میں بدعا نہ کرنا۔ایسا نہ ہو کہ میری محنت برباد ہو جائے۔ الغرض جناب سجادؑ نے امام کی وصیتیں سن کر ان کی بجا آوری کا اقرار کیا۔پھر جناب امام حسینؑ نے اہل بیت سے فرمایا نظم
لو الوداع موت ہمیں لینے آئی ہے
اب ہم سے تم سے تا بہ قیامت جدائی ہے
تنہائی میں چھ لاکھ کی ہم پر چڑھائی ہے
آفت کا معرکہ ہے غضب کی لڑائی ہے
اک جان کے لیے ادھر انبوہ خلق ہے
خنجر ہزار تیز ہیں اور ایک حلق ہے
لو بیبیوں بچھڑتا ہے تم سے یہ مہمان
خیمے سے ننگے سر نہ نکلیو رہے دھیان
لو شاہ بانو خالق اکبر ہے نگہبان
لو اب پدر کی چھاتی سے لپٹو سکینہ جان
ڈھونڈو گی عمر بھر تو یہ سینہ نہ پائو گی
بابا کو تا بہ حشر سکینہ ؑ نہ پائو گی
یہ کہہ کر آپ میدان کارزار کو روانہ ہوئے۔اثنائے راہ میں نظم
حضرت ؑ نے سامنے جو کیا اس گھڑی خیال
دیکھا کہ روتے جاتے ہیں محبوب ذوالجلال
مڑ کر سوئے عقب جو نظر کی بصد ملال
دیکھا بتولؑ آتی ہے بکھرائے سر کے بال
رخت سیاہ بر میں اور لب پہ نالے ہیں دو حوریں ان کو ہاتھوں سے اپنے سنبھالے ہیں
داہنی طرف جو مڑ کے لگے دیکھنے امام
خم ہو گیا جنود ملائک پے سلام
با ئیں طرف پھری جو نگاہ شہ انام
مجرے کو تھم کے لشکر جن جھک گیا تمام
اقبال کہتا جاتا تھا سب سے بڑے چلو
باہم ملاحظہ سے ادب سے بڑھے چلو
حضرت سے عرض کرتے تھے قدسی یہ بار بار
دے حکم جنگ اے خلف شیر کردگار
ہو جائیں آج ہم بھی تری راہ میں نثار
فرماتے تھے یہ امر ہے خاطر کو ناگوار
بڑھنے دو غول فوج ضلالت شعار کے
خواہاں ہیں ہم فقط مدد کردگار کے
کس زیست پر میں دوں تمہیں تکلیف کارزار
اک دم میں ا ب یہ حلق ہے اور تیغ آبدار
گھبرا رہی ہے خلد میں جانے کو جان زار
مرنے کی آرزو ہے اجل کا ہے انتظار
زینبؑ کے اب نکلنے کی ساعت قریب ہے
رخصت ہو تم کہ وقت شہادت قریب ہے
فرما کے یہ بدل گئے تیور جناب کے
جولاں کیا سمند کو رانوں میں داب کے
قربان حسینؑ سبط رسالت مآب کے
منہ پر ہوائیاں سی چھٹیںآفتاب کے
جنگل قدم کے فیض سے شاداب ہو گیا
پر تو سے رخ کے دن شب مہتاب ہو گیا
الغرض امامؑ نے فوج اشقیا پر شیرانہ حملے کیے۔اور دم کے دم میں ہزاروں بد شعاروں کو تہہ تیغ فرمایا۔میدان کارزار میں کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ آخر ہر طرف سےالامان کا شور بلند ہوا۔ اور اشقیا جناب رسولؑ خدا کا واسطہ دینے لگے۔امامؑ نے ناناؑ کا نام سنا تو درود پڑھ کر ذوالفقار روک لی۔ تلوار کا رکنا تھا کہ اشقیا نے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اور تبر وتیر اور نیزہ وشمشیر کے وار کرنے لگے۔ جب آپؑ کو کثرت جراحت سے ذ والجناح پر ٹھہرنے کی طاقت نہ رہی تو زمین پر آئے۔ نظم
لشکر میں غل ہوا کہ زمیں پر گرے حسینؑ
یاں عرش کو ہلانے لگے بیبیوں کے بین
اک شور تھا کہ ہائے محمدؑ کے نور عین
کیونکر زمین گرم پہ آئے گا تجھ کو چین
سب منحرف ہیں آگ لگی ہے زمانے کو
بھیجیں حرم کسے تیرا لاشہ اٹھانے کو
ہے ہے کسے مدد کو پکاریں یہ سوگوار
اس وقت میں نہ دوست نہ کوئی ہے غمگسار
سجادؑ ہے تو غش میں پڑا ہے وہ دلفگار
اے جان فاطمہؑ تیری تنہائی کے نثار
لٹتا ہے گھر سروں پہ نہ کیوں خاک اڑائیں ہم
قدموں پہ آنکھیں ملنے کو کس طرح آئیں ہم
اہل بیت اطہار میں تو یہ نالہ وشیون برپا تھا۔اس وقت معصوم بچے گھبرا کر خیموں سے باہر نکل آئے۔جناب سکینہؑ سر پیٹتی تھیں کہ میرے بابا پہ جفائیں ہوتی ہیں۔ کوئی بچہ کہتا تھا کہ چچا جان نرغہ اعدا میں مجروح پڑے ہیں۔الغرض اس وقت سب معصوموں کی آنکھوں میں دنیا اندھیر تھی۔ نظم
لکھتا ہے یہ اب راوی غمگین وہاں کا حال
ہمراہ تھا سکینہؑ کے چھوٹا حسنؑ کا لال
سن کر صدائے بانوئے شبیرؑ خوشخصال
نکلا تڑپ کے خیمہ سے باہر وہ خورد سال
گھبرا کے بنت فاطمہؑ مضطر نکل پڑی
بیٹے کے ساتھ ماں بھی کھلے سر نکل پڑی
تصویر اس صغیر کی کھینچے اگر قلم
پھر جائے ہر کلیجہ پر شمشیر درد وغم
نو دس برس کا ہو گا ابھی تو وہ ذی حشم
پہلے پہل چلا ہے سوئے لشکر ستم
پیک اجل کے ہاتھ میں بچے کا ہاتھ ہے
سایہ کی طرح روح حسنؑ ساتھ ساتھ ہے
ماتھا ضیائے آئینہ مہہ سے سرفراز
دونوں بھنویں ملی ہوئیں پلکوں سے صف دراز
چشم سیاہ نرگس بستان حسن ناز
پتلی ہے نور دیدہ شاہنشہ حجاز
عارضوں میں ہے یہ ضو کہ ستارے بھی ماند ہیں
دن کو تو آفتاب ہیں راتوں کو چاند ہیں
دو پھول نسترن کے ہیں رخسار نازنین
تھی جس کی رنگ وبو پہ فدا جان شاہ ؑدین
لب سرخ سرخ لعل یمن کے ہیں دو نگیں
اور پیارے پیارے دانت ہیں سلک در ثمیں
ملتی ہے شان کشتہ الماس شان میں
یا در چمک رہا ہے زمرد کا کان میں
چھوٹا ابھی ہے قد پہ ہیں گیسو بڑے بڑے
گردن میں چند طوق بھی منت کے ہیںپڑے
ہیکل گلے میں ہاتھوں میں منت کے ہیں کڑے
سر پیٹتے ہیں ڈیوڑھی پہ اہل حرم کھڑے
ڈر ہے کہ کوئی تیر نہ لگ جائے آن کے
لالے پڑے ہیں رانڈوں کو اس گل کی جان کے
جس وقت کہ حضرت عبد اللہ بقصد میدان کارزار میں اپنے چچا کی خدمت میں جانے کے لیے خیمہ سے باہر نکلے تو ساتھ ہی آپ کی والدہ معظمہ بھی بے تاب ہو کر نکل آئیں،اور اس معصوم کو پکڑ کر ہر چند سمجھاتی تھیں، کہ جان مادر میدان میں نہ جائو،ایسا نہ ہو کہ کوئی شقی تجھے قتل کردے،میرے بڑھاپے پر رحم کھائو، بھاوج کے رنڈاپے پر نظر کرو،تمہام گھر بے چین ہے۔ اے عبد اللہ نظم
غربت میں تم بغیر ہمارا نہیں کوئی
مجھ رانڈ کا اب اور سہارا نہیں کوئی
کہتا تھا وہ کہ دل سے اٹھا دو ہماری آس
خوں جوش میں ہے اب نہیں مجھ کو کسی کا پاس
میداں میں قتل ہوتے ہیں عموئے حق شناس
زیبا ہمارے تن پہ ہے اماں پھٹا لباس
اب پیرہن بھی خاک ہے جینا بھی خاک ہے
تیغوں سے واں چچا کا بدن چاک چاک ہے
بتلائو زندہ رہ کے کسے منہ دکھائیں گے
تم مر بھی جائو گی تو نہ ہم گھر کو جائیں گے
قاسمؑ کی طرح برچھیاں سینے پہ کھائیں گے
پیاسے تڑپ تڑپ کے لہو میں نہائیں گے
اب لطف زندگی نہیں دنیائے زشت میں
اصغرؑ کے پاس جائیں گے ہم بھی بہشت میں
پھر یوں مچل کے ماں سے وہ بولا بچشم تر
چھوڑو خدا کے واسطے پھٹتا ہے اب جگر
خنجر سے کٹ نہ جائے کہیں واں چچا کا سر
کہتی ہے رو کے ماں کہ میں صدقے چلو تو گھر
ساتھ اپنے لے لو حربہ جنگ وجدال بھی
چھوٹی سی دوں گی تیغ بھی چھوٹی سی ڈھال بھی
تیغیں علم کریں گے جو حضرت پہ اہل شام
وار ان پہ تم بھی کیجیو لے کر علیؑ کا نام
کہتا تھا سر ہلا کے ماں سے وہ تشنہ کام
کچھ ڈھال سے غرض ہے نہ ہے نیمچے سے کام
تیغوں کے نیچے اپنا گلا دھرنے جاتے ہیں
ہم تو چچا پہ سینہ سپر کرنے جاتے ہیں
نرغہ میں قاتلوں کے اکیلے ہیں واں پہ شاہ
اور تم لپٹ لپٹ کے ہمیں روکتی ہو واہ
بازو پکڑ کے ماں نے کہا تب با چشم وآہ
اچھا مجھے بھی لیتے جائو سوئے قتل گاہ
جا کر پھروں گی گرد شاہ مشرقین کے
تلواریں میں بھی کھائوں گی بدلے حسینؑ کے
جب کچھ نہ بس چلا تو حسنؑ کا وہ دلربا
ان ننھے ننھے ہاتھوں سے سر پیٹنے لگا
شبرؑ نے دی صدا نہ رکے گا یہ مہہ لقا
ہونے دو تم اسے بھی میرے بھائی پہ فدا
نرغہ ہے آج فاطمہؑ کے نور عین پر
دونوں حسنؑ کے لال تصدق حسینؑ پر
الغرض بچے نے ماں سے اپنا ہاتھ چھوڑا لیا،اور مقتل کی طرف پا پیادہ روانہ ہوا۔ جب امامؑ کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ بیت
گھیرے ہیں اہل ظلم شاہؑ مشرقین کو
کوئی نہیں جو آکے بچائے حسینؑ کو
لپٹا وہ طفل ہائے چچا کہہ کے جب
رو رو کے ہاتھ ملنے لگے شاہ تشنہ لب
فرمایا ہم تو ذبح کوئی دم میں ہونگے اب
ان آفتوں میں تم بھی چھٹے ماں سے ہے غضب
اصغر کے بعد رنج والم سے فراغ تھا
قسمت میں وقت مرگ تمہارا بھی داغ تھا
حضرتؑ سے رو کے کہنے لگا تب وہ خرد سال
اے عمو جان آپ کا یہ کیا ہوا ہے حال
تیغوں سے جسم ٹکڑے ہے کپڑے ہیں خوں سے لال
خیمہ میں اٹھ کے چلیے بس اب بہر ذوالجلال
رو رو کے اپنے سر پہ چچی خاک آڑاتی ہیں
خیمہ سے ننگے پائوں پھوپھی نکلی آتی ہے
الٹی پڑی ہے مسند شاہنشہؑ زمن
اٹھ اٹھ کے تپ میں گرتے ہیں سجادؑ خستہ تن
منہ اپنا پیٹتی ہے بڑے بھائی کی دلہن
بسمل سی لوٹتی ہے سکینہؑ میری بہن
کہتی ہے شکل دیکھوں گی زہراؑ کے جائے کی
سن لیجیے آرہی ہے صدا ہائے ہائے کی
آنکھوں میں بھر کے اشک یہ بولے شاہ امم
بیٹا اٹھیں گے حشر کو اب اس زمیں سے ہم
دیکھو علم ہیں چار طرف خنجر ستم
مہلت کہاں جو چلیں سوئے خیمہ حرم
مقتل کی خاک پکڑے ہے داماں حسینؑ کا
ہے پنجہ اجل میں گریبان حسینؑ کا
حضرتؑ یہ کہتے تھے کہ بڑھے قتل کو لعیں
خنجر کوئی لیے ہوئے اور کوئی تیغ کیں
بولا یہ شاہ کی گود سے اٹھ کے وہ مہہ جبیں
بہر خدا نہ آئو قریب امام دیں
زخمی تو ہیں پھر اور جفا کیا ضرور ہے
سارا مرے چچا کا بدن چور چور ہے
اے ظالمو نہ سید لو لاک کو رلائو
خاتون حشر ننگے سر آئی ہیں یاں سے جائو
بے کس پہ بے وطن پہ مسافر پہ رحم کھائو
حاضر ہوں ان کے بدلے مجھے برچھیاں لگائو
ہر عضو تن پہ ظلم کی تلوار پھیر دو
میرے گلے پہ خنجر خونخوار پھیر دو
سنتے تھے کب یتیم کی زاری وہ نابکار
چلنے لگے قریب سے حضرتؑ پہ ان کے وار
تلوار مارنے جو لگا اک ستم شعار
ہاتھ اپنے بس اٹھا دیئے بچے نے ایک بار
کیوں آسماں نہ ٹوٹ پڑا پھٹ کے فلک پر
بچے کے دونوں ہاتھ گرے کٹ کے خاک پر
زخمی کلائیوں سے جو بہنے لگا لہو
گر کر چچا کی گود میں تڑپا وہ ماہ رو
ہاتھوں سے پیٹنے لگے سر شاہ نیک خو
چلہ کمان کرکے بڑھا شیث کینہ خو
مارا وہ تیر ظلم کہ بچہ دہل گیا
پیکاں گلے کو توڑ کے باہر نکل گیا
آنکھیں پھیرائیں اس نے گلے میں رکا جو دم
بائیں پٹک کے خاک پہ پھیلا دیئے قدم
ہچکی جو آئی مر گیا معصوم ہے ستم
منہ اس کے منہ پہ رکھ کے پکارے شاہ امم
باتیں بھی کچھ چچا سے نہ کیں ہاتھ جوڑ کے
تنہا چلے گئے ہمیں جنگل میں چھوڑ کے
اے لال ماں تڑپتی ہے لو اٹھ کے گھر کو جائو
خوں میں بھرے ہوئے یہ کٹے ہاتھ اسے دکھائو
کرتے کی آستیں میری جاں چڑھا کے آئو
تلوار پھر لگاتے ہیں ظالم ہمیں بچائو
آنکھیں پھرائے سوتے ہو کیا منہ ادھر کرو
پھر ننھے ننھے ہاتھ چچا پر سپر کرو
عبداللہ صغیر کے صدقے میں اے حسنؑ
جاتے رہیں وزیر کے سارے غم ومحن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments
Post a Comment