Skip to main content

انیسویں مجلس شہادت جناب علیؑ اصغرؑ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
انیسویں مجلس
شہادت جناب علیؑ اصغرؑ علیہ السلام
 بانو کو اے وزیر نیا داغ دے گئے
اصغر کا ماں کے سامنے سر کاٹ لے گئے
لمولفہ
یا شاہ کربلا تیری مدحت محال ہے
میں کیا زبان طوطی سدرہ کا لال ہے
دعوےٰ جو اس کا کیجیے نقص کمال ہے
تو فاطمہؑ کا ماہ ہے حیدرؑ کا لال ہے
قرآں میں وصف جب ترا رب ہدیٰ کرے
 بندہ کی کیا مجال جو مدح وثنا کرے
پر دل کے ولولے نے ہے بے تاب کردیا
رکتا ہے اب قلم ہی نہ ذہن رسا مرا
نیت سے مری آپ ہیں واقف شاہ ہدیٰ
طالب ہوں رضا کا انعام ونام کا
طاعت خدا کی آپ کی مدحت سمجھتا ہوں
مدح وثنا کو ذکر عبادت سمجھتا ہوں
اللہ اللہ کیا مرتبہ اما م حسینؑ کا تھا۔کہ کسی نبی کو بھی نہیں ملا۔چنانچہ روایت میں ہے کہ ایک روز آپ چھوٹے سے سن میں کھیلتے ہوئے ایک باغ میں چلے گئے۔اور وہاں سو گئے۔ جب عرصہ ہوا۔حضرت فاطمہ بوجہ فراق مضطر ہوئیں۔ اور جناب رسولخداؑ مع اصحاب کے تلاش کو گئے تو دیکھا کہ آپ سو رہے ہیں اور ایک اژدہا آپ کے سر پر مگس رانی کر رہا ہے۔ نظم
حضرت پہ ہے عنایت خالق کا واقعہ
ظاہر ہے سب پہ بچہ آہو کا ماجرا
شبرؑ کو مصطفےؑ نے خدا نے انہیں دیا۔
ملبوس عید ماں سے جو رو کر طلب کیا
حزن آپؑ کا ہوا نہ گوارا غفور کو
پوشاک عید بھیجی جنان سے حضور کو
دوسری روایت میں وارد ہے کہ دونوں بھائیوں کے درمیان تختی لکھنے کے بعد خط بہتر ہونے میں مباحثہ ہوا۔تو ان کی خاطر موتی کے دو حصے حکم خدا سے کیے گئے۔ اور راہب لاولد کو سات فرزند دعا کرکے دلائے۔ بہت سے ایسے امور ہیں کہ کم سنی میں وقوع میں آئے۔ اور کسی نبی اور پیغمبر ما سلف کو حاصل نہیں ہوئے۔ ایک روایت یہ ہے کہ ایک روز آپ کسی صحرا میں تشریف لے جاتے تھے۔ کہ ایک ہرنی نے آکر عرض کی،کہ اے آقا میرے بچے کو کسی صیاد نے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ سن کر آپ خانہ صیاد پر تشریف لے گئے۔اور اس حیوان کا بچہ دلا دیا۔ حضرات            مولف
 حضرت سا رحم دل بھی نہ ہووئے گا زینہار
صیاد نے جو بچہ آہو کیا شکار
ہرنی فراق نچہ میں روتی تھی زار زار
حضرت کے جب حضور میں آئی وہ اشک بار
رونے نے اس کے آپؑ کے دل کو ہلا دیا
صیاد سے حضور نے جا کر دلا دیا۔
کیوں حضرات ایسا مقبول بارگاہ رب العامین شاہ کونین روز عاشورہ میدان کربلا میں تمام اصحاب واقربا کی شہادت کے بعد فرزند نوجوان حضرت علیؑ اکبرؑ کی لاش اسی حالت تشنگی میں اپنے ہاتھ سے اٹھاتا ہے۔ جس کو کسی انسان کا لاولد رہنا تو ایک طرف جانوروں کو بھی مبتلائے غم رہنا ناگوار ہو۔ چنانچہ آپؑ بعد شہادت علیؑ اکبرؑ سکوت کے عالم میں کھڑے ہوئے اپنے پروردگار کا شکر ادا کر رہے تھے کہ گوش مبارک میں بیت
آئی ندا جو چاہتے ہو کارساز کو
 شش ماہا طفل نذر کرو بے نیاز کو
سبحان اللہ اس آواز کے سنتے ہی بکمال خوشی، نظم
 کی عرض شہ نے بار خدایا ابھی ابھی
حاضر ہے شیر خوار میں لایا ابھی ابھی
گھر میں گیا حسینؑ اور آیا ابھی ابھی
 ان کو بھی قتل گاہ میں بسایا ابھی ابھی
پر زخم کون سا ہو گلوئے صغیر میں
خنجر میں ہے ثواب زیادہ کہ تیر میں
اور اے پروردگار ایک علی اصغرؑ تو کیا،اگر تجھ کو نسل امامت کا انقطاع منظور ہو تو سجاد کو بھی تیری راہ میں قربانی کے لیے حاضر کروں، بیت
 وابستہ مشیت پروردگار ہوں
میں عین اختیار میں بے اختیار ہوں
میں بندہ ہوں تو معبود ہے،تو حاکم ہے میں محکوم ہوں۔ تو قادر ہے ،میں عاجز ہوں۔تو مالک جلیل ہے، میں عبد ذلیل ہوں۔ بیت
 چاہا بسایا، چاہا اجاڑا ملال کیا
بندہ کو اس میں چوں وچرا کی مجال کیا
اے میرے پروردگار میں تیری سرکار میں حاضر ہوں۔ لیکن تیری نذر کے قابل کوئی تحفہ پاس نہیں ہے۔ہاں تیری بندہ نوازی ہے۔ اگر اس عبد ذلیل کی نذر کو قبول فرما کر بندہ کو سرفراز کرے۔ نظم
 فرزند کو خلیل نے قربان جب کیا
تحفہ غذا کھلائی اور آب خنک دیا
اصغرؑ نے دودھ بھی کئی دن سے نہیں پیا
تڑپے یہ تیر کھا کے زہے شان کبریا
چشم قبول اس پہ ہو رب جلیل کی
 یہ نذر آخری ہے حقیر وذلیل کی
 سبحان اللہ یہ  راز ونیاز کی باتیں عاشق ومعشوق حقیقی کے درمیان ہوتی تھیں کہ خدا وند قدیر کیا فرماتا ہے۔ نظم
 آئی ندا کہ تم ہو دو عالم کے افتخار
خاتم تمہارے نانا تھے آدم کے افتخار
 تم ہو خدا کے فضل سے عالم کے افتخار
کرسی کے زیب عرش معظم کے افتخار
بندے مرے خدائی کی تو زیب وزین ہے
دونوں جہاں میں ایک خدا اک حسینؑ ہے
پس بفرمان رب جلیل جناب مظلوم ثانی خلیلؑ خوشی خوشی  لاش علیؑ اکبرؑ کو میدان کارزار میں چھوڑ کر خیمہ میں تشریف لائے اور جناب ربابؑ سے فرمایا کہ نظم
 اصغرؑ کو لائو فدیہ راہ خدا کو لائو
 شش ماہا شیر بیشہ رب ہدیٰ کو لائو
معصوم کو نشانہ تیر جفا کو لائو
محروم آب وشیر کو اور بے غذا کو لائو
اکبرؑ تو کب کے داخل دربار رب ہوئے
لو اب تمہارے ہنسلیوں والے طلب ہوئے
وہ بولی بار بار نہ ارشاد کیجیے
لائی میں لائی لیجیے اصغرؑ کو لیجیے
حاضر میرا جگر ہے چھری پھیر دیجیے
 کچھ غم نہیں یہ وارث آل عبا جیئے
 مولا میرا یہ ننھا معصوم شدت شدت تشنگی سے بے ہوش ہے۔ امید زیست کی نہیں ہے۔جناب امام حسینؑ نے فرمایا کہ بچہ تین روز سے پیاسا ہے۔ میں اس کو لے کر جاتا ہوں۔شائد لشکر کفار اس معصوم پر رحم کھا کر پانی دے دے،نظم
فرما کے یہ گہوارا اصغر ؑپہ جھکے شاہ
 دیکھا دم اکھڑتا تو صدمہ ہوا جاں کاہ
خورشید لب بام  نظر آیا جونہی وہ ماہ
رانڈوں کے جگر ہل گئے اس درد سے کی آہ
چھائی ہوئی تھی زردی جو دل بند کے منہ پر
شبیرؑ نے منہ رکھ دیا فرزند کے منہ پر
بل کھائے ہوئے ہاتھ جو تکیے سے اٹھائے
منہ رکھ دیا بوسے لیے آنکھوں سے لگائے
رعشہ ہوا ہاتھوں کو قدم سرد جو پائے
 ڈوبی جو ملی نبض تو آنسو نکل آئے
کانٹے جو نظر آگئے ننھی سی زبان پر
اک درد کا نشتر تھا کہ ڈوبا رگ جان میں
ننھے سے جو تکیے سے ڈھلی جاتی تھی گردن
 دم باپ کا رک جاتا تھا اور کانپتا تھا تن
 نیلے تھے لب سرخ جو مثل گل سوسن
روتے تھے لہو زرد تھا شہ کا رخ روشن
 چھاتی میں دھڑکتا تھا دل اس ماہ جبین کا
صدمے سے الٹتا تھا کلیجہ شاہ دین کا
 یہ حالت دیکھ کر جناب سید الشہداؑ نے گہوارا سے معصوم کو اٹھایا اور چھاتی سے لگا کر پیار کیا۔ ابیات
 تھا نزع میں وہ غنچہ دہن پیاس کے مارے
اینٹھی تھی زباں موت کے آثار تھے سارے
دم رکتا تھا سینے میں تو ڈھل پڑتے تھے آنسو
 کھل جاتی تھیں آنکھیں تو نکل پڑتے تھے آنسو
راوی کہتا ہے کہ جس وقت جناب امام حسینؑ حضرت علیؑ اصغر کو لے کر لشکر کفار کی جانب چل پڑے،تو جناب رباب بے قرار ہو کر کہنے لگیں۔ ابیات
 یا سبط نبیؑ تن سے چلی جان ہماری
اک لحظہ ٹھہر جا  یئے میں آپ کے واری
صاحب مرے آغوش کے پالے کو دکھا دو
اکبار پھر اس ہنسلیوں والے کو دکھا دو
 امام مظلوم یہ سن کر ٹھہر گئے اور فرمایا نظم
 لو گود میں فرزند کو اللہ نگہبان
ہر حال میں زینبؑ کی اطاعت کا رہے دھیان
بولیں وہ بصد عجز یہ شبیرؑ سے اس آن
لونڈی سے خفا کچھ ہوئے میں آپؑ پہ قربان
یوں آپؑ کا جی چاہے تو دےجایئے ان کو
 کب میں نے کہا تھا کہ نہ لے جایئے ان کو
میں بھی ہوں کنیز آپ کی یا حضرت شبیرؑ
ہر دکھ میں رضا جوئے خدا تابع تقدیر
بے تاب تھا دل جو ہوئی بے جا کوئی تقریر
ہیں آپؑ خطا پوش بحل کیجیے تقصیر
فرزند کا غم ماں کے کلیجے کی چھری ہے
 صدقہ گئی یہ مامتا کی آنچ بری ہے۔
خنجر کے تلے جس کا جگر ہو وہی جانے
اس درد کی جس دل کو خبر ہو وہی جانے
دکھ درد میں یوں جس کی بسر ہو وہی جانے
آغوش میں جس ماں کے پسر ہو وہی جانے
شب کٹتی ہے کس طرح سے دن ڈھلتا ہے کیوں کت
پوچھے کوئی ماں سے کہ پسر پلتا ہے کیوں کر
پہلو میں ہو یا گود میں یا چھاتی پہ سوئے
دھڑکا ہے کہ بچہ کہیں بے چین نہ ہوئے
پلتا ہے پسر ایک جو ماں عمر کو کھوئے
جس نے یہ اٹھائی ہو مصیبت وہ نہ روئے
ماں چپ رہے اور گودی سے جائے پسر ایسا
 صاحب کوئی لے آئے کہاں سے جگر ایسا
یہ خادمہ تابع فرمان ہے۔ بمقتضائے مہر مادری اس وقت دیکھنے کو آئی تھی۔ آپؑ شوق سے لے جایئے۔ یہ سن کر آپؑ نے ارشاد فرمایا کہ میں تم سے رضا مند ہوں۔تمہاری بے قراری اور بے تابی حق بجانب ہے۔ اب، بیت
لو گود میں لے کر انہیں چھاتی سے لگائو
بس صبر کرو اشک نہ آنکھوں سے بہائو
اس مخدومہ کونین نے علی اصغرؑ کو گود میں لے کر پیار کیا تو جناب علی اصغرؑ نے آنکھیں کھول دیں،اور اپنی مادر گرامی کو حسرت سے دیکھا۔گویا، نظم
 مادر سے اشارا تھا کہ دنیا سے چلے ہم
افسوس کہ اس باغ میں پھولے نہ پھلے ہم
گودی میں تمہاری چھ مہینے تو پلے ہم
اب تشنہ دہن جاتے ہیں طوبیٰ کے تلے ہم
کیوں روتی ہو کچھ رونے سے حاصل نہیں اماں
یہ دار فنا رہنے کے قابل نہیں اماں
اک شور تھا اللہ نگہبان علی اصغرؑ
چلاتی تھیں پھوپھیاں مرے ناداں علی اصغرؑ
پیاسے علی اصغرؑ مرے ذی شان علی اصغرؑ
ماں کہتی تھی جاتے ہو میں قرباں علی اصغرؑ
چھٹتا تھا جو بھائی تو موئی جاتی تھیں بہنیں
منہ چھاتی پہ رکھے ہوئے چلاتی تھیں بہنیں
 الغرض سید مظلومؑ خیمہ اطہر سے دامان عبا اوڑھائے ہوئے جس وقت اس معصوم کو لے کر میدان کو روانہ ہوئے ،نظم
اس وقت تھی یہ حالت مظلومؑ کربلا
فرزند دونوں ہاتھوں پہ اور غم میں مبتلا
کہتے تھے چوم چوم کے بے شیر کا گلا
تو گھٹنیوں چلا نہیں اور مرنے کو چلا
جاتا نہیں ہوں میں تجھے پانی پلانے کو
میں لے چلا ہوں قبر میں تجھ کو سلانے کو
یہ کہتے آئے متصل لشکر جفا
دکھلایا ظالموں کو تڑپنا صغیر کا
آنکھوں میں حلقے خشک زبان ننھا سا گلا
چاہا کہ پانی مانگیں مگر آگئی حیا
مشکل سے صرف اتنا کہا درد ویاس سے
 یارو قریب مرگ ہے بچہ یہ پیاس سے
سید ہے بے زبان ہے پیاسا ہے مہہ لقا
نادان ہے صغیر ہے اس کی نہیں خطا
اکبر ؑ کا بھائی سمجھو نہ اس کو پسر میرا
پانی پلا دو جان کے اک بندہ خدا
یہ کار آخرت ہے اگر تم سے ہو سکے
طاقت نہیں ہے پیاس کے مارے جو رو سکے
 اے قوم ناہنجار اگر تمہارے زعم باطل میں میں بے کس ومظلوم  گنہگار ہوں، تو اس معصوم پر ترس کھائو۔ایسا  شیر خوار بچہ تو کسی قوم و مذہب میںگنہگار اور خطا وار نہیں ہو سکتا۔نظم
 یہ چھوٹا سا سید بھی ہے مہمان تمہارا
کیا تم کو ملے گا جو اسے پیاسا ہی مارا
یہ فرش کی زینت ہے تو ہے عرش کا تارا
 میرا بھی جگر بند ہے، ماں کا بھی ہے پیارا
کچھ پانی کے بدلے تمہیں لینا ہو تو کہہ دو
 دریا سے کوئی قطرہ جو دینا ہو تو کہہ دو
طالب ہو اگر زر کے تو زر لیجیو مجھ سے
قطرے کے عوض لعل وگوہر لیجیو مجھ سے
پانی اسے دو خلد میں گھر لیجیو مجھ سے
 خالی ہو اگر نہر تو بھر لیجیو مجھ سے
معصوم ہے بے آب تو یہ جی نہ سکے گا
اک جام بھی یہ تشنہ دہن پی نہ سکے گا
میں یہ نہیں کہتا کہ پانی مجھے لادو
تم آن کے چلو سے اسے آپ پلا دو
مرتا  ہے یہ مرتے ہوئے بچے کو جلا دو
للہ کلیجہ کی میرے آگ بجھا دو
جب منہ میرا تکتا ہے یہ حسرت کی نظر سے
اے ظالموں اٹھتا ہے دھواں میری نظر سے
 اگر تم کو میرے کلام میں کچھ شک ہو تو ،نظم
 دو اک قدم کی ہو جو نہ تکلیف ناگوار
آنکھوں سے اپنی دیکھ لو احوال شیر خوار
آھے بڑھے جو ان میں سے دو چار بد شعار
چادر الٹ دی شاہ نے چہرے سے ایک بار
تیور کبھی بجھے ہوئے گہ ضو نظر پڑی
 بجھتے ہوئے چراغ کی سی لو نظر پڑی
بولے حسینؑ دیکھ چکے وہ پکارے ہاں
فرمایا اب حمیت اسلام ہے کہاں
 ہم کس کے مہمان ہیں یہ کس کا ہے مہمان
طالب نہیں صراحی وساغر کا بے زبان
مشہور ان کے گھر کی قناعت ہے خلق میں
 دو چار قطرے پانی کے ٹپکا دو حلق میں
اترے بھی یا نہ اترے بھی پانی گلے سے اب
تالو سے لگ گئی ہے زباں اور لب پہ لب
پوری یہ بات کہہ نہ چکے تھے شاہ عرب
ننھے گلے پہ تیر لگا آکے ہے غضب
فوارہ خوں کا زخم سے گردن کے بہہ گیا
 جتنا پیا تھا دودھ لہو بن کے بہہ گیا
منہ رکھ کے منہ پہ بیٹے کے روئے امام دیں
کی ایسی ایک آہ کہ تھرا گئی زمیں
حضرت سے پوچھنے لگا یوں حرملہ لعین
کیوں اب تو پانی آپ سے یہ مانگتا نہیں
فرمایئے کہ تیر میرا کارگر ہوا
اصغرؑ کا حلق خشک رہا یا کہ تر ہوا
 یہ سن کر امام مظلومؑ نے فرمایا کہ اے حرملہ لعین اس کا حال مجھ سے کیا پوچھتا ہے؟ روز محشر تجھ کو اس کا جواب ملے گا۔ بیت
 جس وقت ناناؑ سامنے تجھ کو بلائیں گے
اس تیر کا مزہ تجھے اس دم چکھائیں گے
حضرت بعد شہادت علیؑ   اصغرؑ جناب امام حسینؑ نے حرم محترم کی طرف دیکھ کر  ، بیت
بانو ؑ کو دی ندا یہ امام حجازؑ نے
مقبول کی نیاز مری بے نیاز نے
یہ آواز سن کر تمام مخدرات اطہار میں شور گریہ وزاری برپا ہوا، اور بے تاب ہو کر نظم
بانو پکاری آپؑ کا جو اذن پائوں میں
 اس بے زبان کی آخری خدمت کو آئوں میں
آنکھ ان کی بند کیجیے قربان جائوں میں
حضرت نے سر جھکا کے کہا کیا بتائوں میں
حسرت بھری نگاہ کہیں بند ہوتی ہے
 قربانیوں کی آنکھ نہیں بند ہوتی ہے
یہ کہہ کے آئے گنج شہیداں میں بے قرار
بیٹھے زمیں پر بر میں لیے لاش گلعذار
ممکن نہ گور کن تھا نہ کوئی معین ویار
آخر لحد کے کھودنے کو نکلی ذوالفقار
منظور تھی جو شہؑ کو رضا کردگار کی
ننھی سی قبر کھودتے تھے شیر خوار کی
پھر صاف کرکے ہاتھوں سے اصغر کی خواب گاہ
باندھا عمامہ ننھی سی میت کے سر پہ آہ
اور قبلہ رو لحد میں لٹا کر پکارے شہؑ
جلدی ہمیں بلوائیو اے فدیہ الہٰ
اب تم ہو اور حضوری پروردگار ہے
یاں سے بڑھے تو بارگہ کردگار ہے
 اس کے بعد حضرت علیؑ اکبرؑ کی لاش سے حضرت بانو  ؑ نے مخاطب ہو کر فرمایا کہ اے علیؑ اکبرؑ  نظم
 بعد آپ کے پھر دشت میں ہم آہ لٹے ہیں
ہوشیار کہ یہ پہلے پہل ماں سے چھٹے ہیں
جنگل کے درندوں سے برادر کو بچانا
گھبرائیں تو بیٹا انہیں پہلو میں لٹانا
اور جائیو کوثر پہ تو پیاس ان کی بجھانا
لیجیو انہیں جب دادی کی تسلیم کو جانا
مثل گل تر پیاس سے کملائے ہوئے ہیں
 گردن نہ دکھے تیر ستم کھائے ہوئے ہیں
فارغ ہوئے جو دفن سے بچہ  کے شاہ دیں
آئی ندا کہ اے جگر شاہؑ مرسلین
 تم نے تو اپنا چاند چھپایا تہہ زمیں
چھپتا ہے پر چھپائے سے نور خدا کہیں
اصغرؑ کا سر تو نیزہ پہ معراج پائے گا
اکبرؑ کے سر کے ساتھ یہ شہروں میں جائے گا
لومومنو خلاصہ سنو اس بیان کا
بانو ؑ کو پرسہ دو چھ مہینے کی جان کا
پر کس زباں سے حال کہوں بے زبان کا
کیوں گر پڑا نہ پھٹ کے طبق آسمان کا
جھولے میں دی پناہ نہ ماں کے کنار میں
 کاٹی عدو نے گردن اصغرؑ مزار میں
 چنانچہ روایت ہے کہ بعد شہادت جناب سید الشہداؑ   عمر سعد بد نہاد نے یزید پلید کو عرضی میں خوشخبری تحریر کی، کہ میں نے حسینؑ کو مع ان کے بہتر رفقا کے شہید کیا،اور ان کے سر تیری نذر کو لاتا ہوں۔ پھر وہ شقی سروں کا جائزہ لینے لگا،جب سر ہائے شہدا  ؑشمار کیے، تو ایک سر کم تھا۔ اس وقت وہ ملعون کہنے لگا کہ اے سرداران فوج، بیت
اس دم مجھے خیال عتاب یزید ہے
عرضی میں لکھ چکا ہوں بہتر شہید ہیں
 سب نے عرض کی کہ ہاں اے(ا میرلعین) حسینؑ نے ایک صغیر قتل گاہ میں دفن کیا ہے۔ حر ملہ لعین نے کہا کہ بے شک اس معصوم کا سر نہیں ہے۔ جس کو میں نے تیر سے مارا تھا، نظم
 پیٹیں گے اس بیان پہ سب کودک وجوان
یہ تازہ واقعہ ہے غضب کی ہے داستان
کیوں خشک ہو گئی نہ ستم گار کی زبان
بولا عمرلعین تلاش کرو قبر کا نشاں
بچے کی قبر کھود کے سر کو قلم کرو
اکبرؑ کے سر کے پاس سناں پر علم کرو
بعضے لرز لرز کے پکارے کہ الحذر
ہم تو نہ قبر کھودیں گے ظالم خدا سے ڈر
اس بے زبان سید کم سن پہ رحم کر
سوتا ہے ساری رات کا جاگا لہو میں تر
دیکھے نہ چین جھولے کے نہ ماں کی گود کے
بچے کا سر نہ کاٹیں گے ہم قبر کھود کے
 اے ملعون اس کی قبر سے تجھے کیا دعوٰ ی ہے۔ شہیدؑ کربلا نے تمام زمین مول لی ہے۔اور خود مع لشکر بے  دفن و کفن پڑے ہیں،اس پر بھی بیت
مردوں کو گور زنداں کی خاطر مکاں نہیں
اک بچہ قبر میں ہے اسے بھی اماں نہیں
حضرات جو ملعون ازل سے بے رحم ہو،اس کو کیا رحم آئے گا، نیزہ داروں کو بلا کر کہنے لگا کہ اصغرؑ کی قبر تلاش کرو۔ یہ حکم سن کر ایک ملعون جناب علیؑ اصغرؑ کی قبر کی تلاش میں نیزہ لے کر میدان کو چلا۔اس وقت حضرت فضہ نے اہل حرم سے  پکار کر کہا، بیت
یہ قبر ڈھونڈتا ہے کسی نازنین کی
نیزے سے دیکھتا ہے یہ لعیں نرمی زمین کی
نظم
بانو ؑ نے پوچھا دیدہ ودل سے بہا کے خوں
جویا ہے کس کی قبر کا یہ ظالم وزبوں
فضہ پکاری خاک مرے منہ میں کیا کہوں
کس کی زبان سے صاحب تربت کا نام لوں
کھودے گا مقبرہ چھ مہینے کی جان کا
 مانگا ہے ابن سعد( لعین) سر بے زبان کا
پیکان جس گلے سے ابھی ہو چکا ہے پار
ہے ہے اسی گلے پہ چلے گی چھری کی دھار
آرام گاہ مردوں کا ہے گوشہ مزار
بی بی کے لخت دل کو وہاں بھی نہیں قرار
نے فاتحہ نہ پھول کسی نور عین کے
ہوتے ہیں ذبح قبر میں بچے حسینؑ کے
رن میں وہ نیزہ دارلعیں  جو ہر سمت  تھا رواں
اک جا زمین نرم ملی اس (لعین) کو ناگہاں
پیوستہ اس زمین میں جو ظالم  لعیں نے کی سناں
آواز ہولناک فلک سے ہوئی عیاں
ہشیار یہ زمیں نہیں یہ عرش پاک ہے
پیارا خدا کے نور کا پیوند خاک ہے
ہے ہے تو نوک نیزہ چبھوتا ہے قبر میں
او کور( لعین) چشم کون یہ سوتا ہے قبر میں
اصغرؑ ابوتراب کا پوتا ہے قبر میں
یہ ظلم بھی شہیدوں پہ ہوتا ہے قبر میں
بالوں کو زیر عرش جو بکھرائے فاطمہؑ
 یہ جان لے کہ ہو گیا دنیا کا خاتمہ
غالب تھی حرص زر نہ ڈرا دشمن الہٰ
 نیزہ زمیں سے کھینچ کے جو اس نے کی نگاہ
پایا بچے کے سر کا عمامہ سنان میںآہ
مڑ کر عمر کی سمت پکارا وہ روسیاہ
لے خاک چھاننے سے خوشی اس گھڑی ہوئی
پائی امام حسینؑ کی دولت گڑی ہوئی
یہ کہہ کے کھودنے جو لگا قبر ہے غضب
یا رب الغیاث زمینیں پکاریں سب
پر دشت نینوا کو تزلزل ہوا غضب
کی ارض کربلا نے یہ فریاد پیش رب
یہ ظلم اور قبر شہیدان خاص کی
 پروردگار اب تو رضا دے قصاص کی
 افسوس صد افسوس: زمین کو بھی اس شاہزادہ کونین پر رحم آتا تھا۔مگر بے رحمی اور سنگ دلی کس زبان سے عرض کروں ،نظم
وہ ننھی لاش قبر سے باہر نکالنا
 وہ بہر ذبح میان سے خنجر نکالنا
ماتم زدوں کے حلقوں میں تھی نعش شیر خوار
 وااصغرا کے نعروں سے محشر تھا آشکار
پھرتی تھی گرد قبر کے بانوئے بے قرار
چلاتی تھی مٹا نہ میرے لال کا مزار
 دنیا سے ہاتھ اٹھا کے جگہ اتنی پائی ہے
اصغر ؑ نے جان دے کے یہ بستی بسائی ہے
ناگاہ چاند برج لحد سے بدر ہوا
 بے دین کو ہائے حق سے نہ خوف وخطر ہوا
خنجر رواں جو ننھے سے حلقوم پر ہوا
روئی سیکنہؑ پیٹ کے ٹکڑے جگر ہوا
کہتی تھی ان پہ جان بھی تن بھی فدا میرا
حاضر ہے ننھے بھائی کے بدلے گلا میرا
ظالم ٹھہر برائے خداوند دوسرا
پھر کر عدم سے آئے ہیں دم لینے دے ذرا
خنجر ابھی گلے پہ مسافر کے کیوں دھرا
بدلوں گی شیر خوار کا کرتا لہو بھرا
پوچھو گی حال منزل آخر کا بھائی سے
کہہ دیں گے وہ اشاروں میں سب ماں جائی سے
پوچھوں گی کب چچا میرے لینے کو آئیں گے
بابا حسینؑ خلد میں کس دن بلائیں گے
مشکل کشائی کب میرے دادا دکھائیں گے
اب ظالموں کے ظلم اٹھائے نہ جائیں گے
ہے ہے رہائی ہوگی اسیری سے کب مجھے
طاقت نہیں طمانچوں کے کھانے کی اب مجھے
 ہائے واویلا ہنوز وہ معصومہ یہ فرما رہی تھی کہ نظم
یہ سن کے اس نے حلق پہ خنجر کو رکھ دیا
روح نبیؑ پکاری یہ حلقوم ہے میرا
زہراؑ نے دی یہ ہے سیدانی کا گلا
پر کچھ سنا نہ اس لعین نے گلا کاٹنے لگا
 شہ رگ سے نہر  خون کی سینہ پہ بہہ گئی
بالی سکینہ پیٹ کے لاشہ پہ رہ گئی
 اصغرؑ کا واسطہ تمہیں شہزادی عجم
دنیا میں اب وزیر کو ہوئے نہ کوئی غم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

انتیسویں مجلس امام حسین کی دعا سے خدا وند کا راہب کو سات فرزند عطا فرمانا

﷽ انتیسویں مجلس امام حسین علیہ السلام کی دعا سے خدا وند قدیر کا راہب کو سات فرزند عطا  فرمانا،پھر بعد شہادت امامؑ کے سر اقدس کا خانہ راہب میں پہنچنا،راہب کا سیدانیوں کے لیے چادریں نذر کرنا،اور اشقیا کا وہ بھی چھین لینا  اعجاز ابن فاطمہؑ سے وہ نوید ہو واللہ ناامید کے دل کو امید ہو  اے عاشقان سید الشہدا فخر ومباہات کا مقام ہے،کہ ہم سب امام مظلومؑ کے ماتم میں شریک ہیں۔ اس جناب کی ماتم داری اور گریہ وزاری کے سبب اس سوگواروں کو خدا نے کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔کہ جس قدر ہم فخر ومباہات کریں کم ہے۔ بیت  دربار سخی کا ہے یہ مجلس ہے سخی کی یہ بزم عزا مومنو ہے سبط نبیؑ کی نظم پس حضرت صادق سے یہ مضمون عیاں ہے سامان غم سیدؑ مظلوم جہاں ہے  اس شخص کی آنکھوں سے اگر اشک رواں ہے ہر فرد کے اوپر قلم عفو رواں ہے اس پر بھی ترقی ہوئی یہ رحمت رب کو گر ایک بھی روئے گا تو ہم بخشیں گے سب کو خالق کاتو وہ حکم محمدؑ کی یہ گفتار کیا اپنے نواسے کے فضائل کروں اظہار جو اس سے ہے بےزار خدا اس سے ہے بیزار جو اس کا مددگار خدا اس کا مددگار بیٹھے گا جو یاں بزم عزائے شاہ دیں میں ہمس...

ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات

پینتسویں مجلس ذکر ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور  ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات  ذکر چہلم ہو جیے مغموم دفن ہوتے ہیں سید مظلومؑ عزا داران جناب سیدؑ ا  لشہدا آگاہ ہوں کہ جس قدر مصائب وآلام حسینؑ مظلوم پر گزرے نہ کسی نبیؑ پر گزرے نہ کسی وصی پر۔اور بضعتہ الرسولؑ جناب سیدہؑ کے بعد جناب ثانی زہراؑ نے جو مصائب برداشت کیے۔دنیا میں کسی بی بی کا جگر نہیں جو سہہ سکے ، رباعی  ناناؑ کو روئی ماں کا جنازہ دیکھا بابا کا بڑے بھائی کا لاشہ دیکھا  زینبؑ کی غرض حیات روتے ہی کٹی ہے عاشور کو کیا کہوں کہ کیا کیا دیکھا  اور جس طرح اس مخدومہ کائنات کے بھائی امام مظلومؑ کی ولادت کے وقت تہنیت کےساتھ تعزیت کا بھی شور تھا۔اسی طرح جناب زینبؑ کی ولادت کے  وقت خوشی کے ساتھ رنج و ملال کا بھی ہجوم تھا۔چنانچہ شاہزادی کی ولادت کے وقت کا حال کتب تواریخ وسیر میں مرقوم ہے کہ جب حضرت زینبؑ پیدا ہوئیں،تو کنیز جناب فاطمہ زہراؑ نہایت خوش ومسرور ہو کر جناب رسولؑ مقبولؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کی    شعر۔  ہووئے یہ نواسی تمہیں ...

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ شیریں میں پہنچنا

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ   شیریں میں پہنچنا  اے مومنو ہاں دیکھو کہ کیا کرتے ہیں شبیرؑ دو وعدوں کو اک سر سے وفا کرتے ہیں شبیرؑ راویان روایت رنج  و ملال تحریر کرتے ہیں، کہ جس وقت بانوئے محترم شاہزادی عجم جناب امام حسینؑ علیہ السلام کی خدمت با برکت میں آئیں،تو آپ کے ہمراہ اکثر کنیز یں بھی تھیں،منجملہ ان کے اس شاہزادی کی شیریں ایک کنیز خاص بھی تھی۔ جناب بانو نے شیریں کے سوا سب کنیزوں کو آزاد کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ شیریں بہت خوش چشم تھیں۔ایک روز جناب امام حسینؑ نے حضرت شہر بانو سے حمد پروردگار کرتے ہوئے شیریں کی آنکھوں کی مدح کی۔آپ نے بھی امام کی تائید میں ثنا فرمائی۔اور عرض کی، بیت  سب خاک ہیں تم فاطمہؑ کے نور نظر ہو ہے عین خوشی میری جو منظور نظر ہو نظم شیریں تو ہے کیا چیز بھلا تم پہ میں واری ہے جان جو شیریں وہ نہیں آپؑ سے پیاری شیریں میری لونڈی ہے میں لونڈی ہوں تمہاری لو نذر یہ میں کرتی ہوں اے عاشق باری مظلب تو ہے خوشنودی شاہ دوجہاں سے بخشا دل وجاں سے اسے بخشا دل وجاں سے  حضرت شہر بانو کا یہ کلام سن کر سلطان کونین امام...