Skip to main content

بیسویں مجلس اہل حرم سےامام مظلومؑ کی رخصت اور شہادت

بیسویں مجلس
تمہید معراج رسالت مآب   اور اہل حرم سےامام مظلومؑ  کی رخصت اور شہادت
مشہور ہیں جہاں میں وفا دار علمدار
فرزند وفا دار کے ہوتے ہیں وفادار
پیمبر ہے اپنا وہ عالی مقام
ہوا جس سے معبود بھی ہل کلام
نبی ولی وملائک تمام
یہ کہتے ہیں پڑھ کر دردو وسلام
کلیمے کہ چرخ بریں طور او است
ہمہ نور ہا پر تو نور ہا اوست
محمد یعقوب کلینی نے جناب محمدؑ باقر ؑ سے روایت کی ہےکہ ستائیسویں ماہ رجب المرجب کو سالک مسالک سبحان اللہ الذی اسریٰ واقف مواقف مسجد حرم یعنی جناب محمدؑ مصطفےٰ صلے ا للہ علیہ وآلہ وسلم مشکلکشائے عالم کی ہمشیرہ جناب ام ہانی کے مکان میں آرام فرمارہے تھے نظم
 مگر خواب سے کب سروکار تھا
 دل ودیدہ ہر اک بےدار تھا
سوئے ورنگہ کو یہی خیال تھا
ادھر سے کب آئوے پیام وصال
کہ دفعتا جبرائیل امین بحکم رب العالمین سرور کائنات کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اے شاہ ؑکونین خالق ارض وسما نے تماشائے قدرت دکھانے کے لئے آپؑ کو بالائے عرش یاد فرمایا ہے۔اور حضور کی سواری کے لیے براق بھیجا ہے۔ چنانچہ صاحب عیون الاخبار نے تحریر کیا ہے کہ خدا وند عالم نے اپنے حبیبؑ کے واسطے براق کو ایسا مسخر کیا تھا،کہ اگر چہ قد اس کا متوسط گھوڑے کے برابر تھا۔مگر قدرت پروردگار کا مرقع تھا۔جواہرات صنعت سے مرصع۔نازک اندام، نازنین خرام،سرعت کا یہ عالم تھا کہ اگر حکم پروردگار ہوتا تو آن وا حد میں تمام امکان عالم کی سیر کرواتا،نظم
تھی اس قدو قامت پہ سرعت ستم
زمیں پہ قدم گہہ فلک پر قدم
ہوا چال میں اور تیزی میں برق
ز سر تا قدم نور میں تھا وہ غرق
دیا یہ خدا نے اسے احترام
 کرے آدمی کی طرح سے کلام
 اور صاحب کافی فرماتے ہیں کہ خالق کل مخلوقات نے اس صنعت سے بنایا تھا کہ جس وقت بلندی کی جانب صعود کرتا تھا۔تو دونوں ہاتھ کوتاہ اور پائوں اس کے دراز ہو جاتے تھے۔اور جس دم بلندی سے پستی کی طرف نزول کرتا تھا،تو دونوں پائوں کوتاہ اور پائوں اس کے دراز ہو جاتے تھے۔ اور علی ابراہیم یمنی نے جانب امام جعفر صادقؑسے روایت کی ہے کہ اسرافیلؑ اور میکا ئیل ؑ اور جبرائیلؑ جناب رسول خدا صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں براق  کے ہمراہ آئے تھے۔غرضیکہ ان تینوں فرشتوں میں سے حضرت جبرائیل ؑ نے پیش قدمی کی،اور جناب رسول خدا صلے اللہ علیہ  ٓلہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ اے خدا کے حبیبؑ چلیے۔ آج قدرت کو  حضور  ؑکا انتظار ہے۔ یہ سن کر جناب رسولؑ خدا بعجلت تمام میکائیل واسرافیل وجبرائیل کو لے کر درمیان صفا ومروہ تشریف لائے۔اس مقام پر آپ نے براق کو بہئیت عجیب وغریب ملاحظہ فرمایا،اور صانع قدرت کی صناعی کی تعریف وتوصیف زبان خوش الحانی پر جاری کرکے شکر الہیٰ بجا لاتے ہوئے سوار ہوئے۔
روشن کیا جو زین رسولؑ جلیل نے
بڑھ کر رکاب تھام لی بس جبرائیل نے
اللہ رے احتشام رسول فلک جناب
قدسی جلوس کے لیے حاضر تھے بے حساب
ہر اک کو آرزو تھی کہ ہوں ہمراہ ہم رکاب
حکم خدا سے باز تھے ساتوں فلک جناب
جنت تھی اشتیاق رسالت پناہ میں
جھونکے نسیم خلد کے آتے تھے راہ میں
آج تو جبرائیل کو محبوب ؑخدا کی رکاب تھامنے کا شرف حاصل ہوا۔اور حضرت جبرائیلؑ بہت خوش اور نازاں ہیں۔ لیکن روز عاشورہ اسی رسولؑ کے محبوب نواسہ کی رکاب تھامنے کی خدمت بھی انہی کو بحکم خدا سپرد ہوئی تھی۔جب کہ امام حسینؑ ناموس رسول ثقلین سےآخری رخصت کے لئےخیمہ میں تشریف لائے،نظم
زینبؑ نے رو کے پوچھا کہ یاور کہاں گئے
عباسؑ وقاسمؑ و علی اکبرؑ کہاں گئے
مسلم کے لال دلبر حیدرؑ کہاں گئے
میرے پسر عقیل کے دلبر کہاں گئے
کوئی نہیں رکاب شہؑ دیں پناہ میں
رو کر کہا کہ سوتے ہیں سب قتل گاہ میں
ہمشیر سب ہمارے مددگار مر گئے
بھائی بھتیجے بھانجے انصار مر گئے
شانے کٹا کے بھائی علمدار مر گئے
اکبرؑ بھی کھا کے نیزہ خوںخوار مر گئے
رخصت دو جلد فاطمہؑ کے نور عین کو
جز مرگ اب نہیں کوئی چارہ حسینؑ کو
غش خاک پر یہ سن کے ہوئی بنت مرتضےٰؑ
اہل حرم میں شور قیامت بپا ہوا
رخصت حرم سے ہونے لگے شاہؑ دوسرا
اک ایک کو گلے سے لگایا جدا جدا
پھر پھر کے گرد اہل حرم جان کھوتے تھے
لپٹائے شاہؑ گلے سے سکینہ ؑ کو روتے تھے
وہ کہتی تھی کہ شاہ مدینہ نہ جایئے
پھٹتا ہے میرا رنج سے سینہ نہ جایئے
الفت کا یہ نہیں ہے قرینہ نہ جایئے
مر جائے گی تڑپ  کے سیکنہؑ نہ جایئے
فرماتے تھے امامؑ کرو صبر باپ کو
بی بی کرو ہلاک نہ رو رو کے آپ کو
امامؑ عالی مقام سے یہ کلام یاس سن کر اہل بیت رسالت میں کہرام برپا ہو گیا۔آنحضرت نے سب کو تسلی دی۔اور امام زین العابدینؑ  کو راز امامت تفویض فرما کر سفر آخرت پر کمر باندھی۔اور سلاح حرب کمر مبارک پر آراستہ کرکےدروازہ خیمہ پر تشریف لائے،اور ذوالجناح کے قریب آکر سوار ہونے کا ارادہ کیا۔اس وقت جانثاروں میں سے کوئی باقی نہ تھا کہ رکاب حضرت کی تھامے۔آنحضرت نے بہ نگاہ یاس و حسرت سےیمین  ویسار کو دیکھا،اور اپنی تنہائی پر بے قرار ہوئے۔کیونکہ جناب عباسؑ کا رکاب تھامنا یاد آگیا۔ایک مرتبہ ہائے برادر زبان مبارک سے فرما کر کمر شکستہ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔اس وقت جناب زینبؑ سے اپنے مظلوم بھائی کی بے کسی نہ دیکھی گئی۔اور بے تاب ہو کر خیمے کے دروازے پر آئیں۔اور عرض کی میرے ماں جائے،اگر حکم ہو تو یہ بے کس آکر آپؑ کی رکاب تھامے،اللہ رے مرتبہ
حضرت زینبؑ کا  فورا "    نظم
اس وقت جبرائیل کو حکم خدا ہوا
گھر سے کہیں نکل نہ پڑتے بنت مرتضےٰ
بچپن سے ہے تو خادم سلطانؑ کربلا
حاضر ہو جلد جا کے یہاں دیکھتا ہے کیا
جا تھام لے رکاب شاہؑ مشرقین کو
جلدی سوار کر میرے پیارے حسینؑ کو
جناب جبرائیل رب الارباب کا یہ حکم سن کر فورا" امام مظلوم کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور حضور کی رکاب تھام کر سوار کیا۔اور عرض کی   بیت
جبرائیل پکارے کہ خدا حافظ وناصر
رخصت ہوں خوزادے کہ جلو میں رہوں حاضر
امامؑ نے فرمایا جو حکم خدا تمہارے لیے ہو۔جبرئیلؑ نے عرض کی کہ اب حضورؑ کی لاش پر رونے کے لیےآئوں گا۔یہ کہہ کر رخصت ہوئے۔اور امام حسینؑ نے فوج اشقیا کی جانب رخ فرمایا   نظم
گھوڑا وہ تہہ ران کہ لیتا ہی نہ تھا دم
اندیشہ اسے کہتا کہ رہ رہ کے ذرا تھم
مابین دو صف اس کو جو جولاں کریں پیہم
اللہ ھو غنی تیزی رفتار کا عالم
یاں غل ہو کہ واں ہے وہ کریں شور کہ یاں ہے
اللہ کی قدرت ہےنہ یاں ہےوہ نہ  واں ہے
الغرض چشم زدن میں میدان کارزار میں پہنچے،ادھر اہلبیت  اطہار کے خیموں میں کہرام برپا تھا۔کیونکہ اب کوئی امید وآس باقی نہیں رہی تھی۔نہ حضرت عباسؑ تھے نہ علی اکبر  ؑ نہ قاسم نہ عون و محمدؑ سب شہید ہو چکے تھے۔حتیٰ کہ شیر خوار بچہ بھی اپنی جان نثار کر چکا تھا۔بس ایک امام کا دم تھا،جن کی سلامتی کے واسطے تمام اہلبیت نے اپنی بضاعت لٹائی تھی۔اور اب اس مظلوم کے بچنے کی بھی آس نہیں تھی۔اب مردوں میں سوائے امام زین العابدین ؑکے کوئی باقی نہ تھا،اس طرف امامؑ مظلوم فوج اشقیا کے مقابل تشریف لائے۔ نظم
اک سمت سے کھینچے ہوئے تلواریں ستم گار
اک سمت سے امڈے چلے آتے تھے کماندار
نقارہ رزمی پہ لگی چوب جو اک بار
سب فاطمہؑ کے لالؑ پہ چلنے لگے ہتھیار
پر قتل میں اعدا کے نہ کد کرتے تھے شبیرؑ
کس خوبی سے ہر وار کو رد کرتے تھے شبیرؑ
فرماتے تھے دیکھو مجھے اتنا نہ ستائو
تلواریں نہ مارو مجھے نیزے نہ لگائو
کیوں آتے ہو منہ پر میری شمشیر کے جائو
میں ابن علیؑ ہوں مجھے غصہ نہ دلائو
واللہ عداوت مجھے اصلا نہیں تم سے
بیٹوں کے بھی کچھ خون کا دعویٰ نہیں تم سے
بے جرم دیئے داغ عزیزاں مجھے ہر چند
پر یہ نہ سمجھنا کہ میں ہوں تم سے گلہ مند
خاصان خدا رہتے ہیں ہر حال میں خورسند
بیٹے میرے مارے گئے تم ہو میرے فرزند
اچھا کیا بہتر کیا جو بے ادبی کی
میں غیر سمجھتا نہیں امت ہو نبیؑ کی
اللہ رے امام کا رحم وکرم۔اس حال میں واعظ وپند میں مصروف ہیں۔اور چاہتے ہیں کہ یہ رسولؑ کے نام لیوا نار جہنم سے بچ جائیں،میرے قتل سے باز آجائیں۔لیکن وہ دنیا کے بندے آنحضرت کی نصیحت کو کب مانتے تھے۔ نظم
حضرت کا تو یہ رحم تھا وہ مارتے تھے تیر
لگتا تھا جہاں تیر وہیں پڑتی تھی شمشیر
شمشیر کے زخموں پہ لگے خنجر بے پیر
بہتا تھا لہو حال ہوا جاتا تھا تغیر
کیا رحم تھا کچھ منہ سے نہ فرماتے تھے حضرتؑ
قبضہ کی طرف دیکھ کے رہ جاتے تھے حضرتؑ
ہاتف کی آئی یہ افلاک سے اس دم
یہ صبر بھی شبیرؑ شجاعت سے کم نہیں
شاید تجھے مجبور سمجھتے ہیں یہ اظلم
مجبور وہ کب ہو جسے مختار کریں ہم
اس بھوک میں اور پیاس میں طاقت بھی دکھائو
مظلومی دکھائی تو شجاعت بھی دکھائو
 یہ صدا سنتے ہی امامؑ کا چہرہ مبارک جوش شجاعت سے سرخ ہو گیا۔اور ایک بار گھوڑے پر سنبھل کر بیٹھے اور نیام سے ذوالفقار کھینچ کر اشقیا پر حملہ کیا۔ نظم
 یہ سن کے جلال آگیا دلبند نبیؑ کو
چوما بہ ادب قبضہ شمشیر علیؑ کو
چمکی وہ بجلی نہ رہی تاب کسی کو
گھبرا کے پکارے عمر سعد شقی کو
تلوار کھینچی شاہ کی آفت ہوئی برپا
شبیرؑ کو غیظ آیا قیامت ہوئی برپا
یہ ذکر تھا جو فوج میں شبیرؑ در آئے
سردار ہر اک ضرب میں بے سر نظر آئے
اس صف پہ کبھی اور کبھی اس غول پر آئے
اعدا پہ خدا کا غضب آیا جدھر آئے
جب ہاتھ اٹھا پہنچی چمک چرخ بریں پر
جب فرق پہ بیٹھی تو گری برق زمیں پر
کون بیان کر سکتا ہے شیر خدا کے شیر کی شجاعت۔اللہ اللہ وہ تین روز کی پیاس،عزیزوں کا الم اور لاکھوں سے مقابلہ۔پس یہ حسینؑ ہی کا دل وجگر تھا۔آپ کا حملہ تھا کہ خدا کا قہر تھا۔ اشقیا بھاگے جارہے تھے۔بڑے بڑے نام ور پہلوانوں میں دم نہ تھا۔کہ ذوالفقار کے سامنے ٹھہرتے، نظم
کس سے برش تیغ کی تعریف بیان ہو
جوہر وہی کھولے جو کوئی سیف زباں ہو
وہ آب کہ کٹ جائے اگر کوہ گراں ہو
اک دم میں بہے خون کا دریا جو رواں ہو
دشمن کو پناہ اس سے کہیں ہے نہ مفر ہے
گر ناب میں فتح تو قبضہ میں ظفر ہے
 کس کی مجال تھی کہ جو سامنے آکر مقابلہ کرتا۔لشکر یزید لعین میں قیامت برپا تھی۔ کسی کو کسی کی خبر نہ تھی۔ہر ایک شقی جان بچانے کی کوشش کررہا تھا۔ ہر طرف بھاگو بھاگو کا شور تھا۔ امام مظلومؑ نے جب دیکھا کہ میدان سے لشکر ناہنجار بھاگ گیا تو آپ ٹھہر گئے۔
نظم
دو روز سے تھا راکب و رہوار پہ فاقہ
حضرت کو تھا غم گھوڑے کا اس کو غم آقا
روتے تھے وفاداری پہ اس کی شہ ؑ والا
 شبیرؑ کا منہ دیکھ کے رو دیتا تھا گھوڑا
چمکار کے شاباش اسے فرماتے تھے حضرتؑ
گہہ پیار سے گردن سے لپٹ جاتے تھے حضرت
فرماتے تھے گھوڑے سے بصد گریہ وزاری
کی بھوک میں اور پیاس میںتونے میری یاری
کل ہو نگے نہ رخصت ہے بس اب تجھ سے ہماری
آج آخری یہ ہے ترے آقا کی سواری
خوش ہو تو کہ رتبہ ترے راکب کا بڑھے گا
سر تن سے جو اترےگا تو نیزے پہ چڑھے گا
گھوڑے سے یہ کہتے تھے کہ پھر فوج نے گھیرا
منہ سید بے کس نے ہزاروں سے نہ پھیرا
پر ضعف سے آنکھوں تلے آتا تھا اندھیرا
دل کہتا تھا اب حال بہت غیر ہے میرا
اس وقت بھی حیدرؑ کی طرح لڑتے تھے شبیرؑ
جو ٹوکتا تھا شیر سے جا پڑتے تھے شبیرؑ
آخر تن نازک پہ لگیں برچھیاں کاری
جھک جھک گئے اور گھوڑے پہ سنبھلے کئی باری
کی عرض یہ گھوڑے نے کہ اے عاشق باری
خیمے کی طرف لے چلوں حضرت کی سواری
فرمایا اگر تیغ سے ہر بند کٹے گا
فرزند علیؑ کھیت سے پیچھے نہ ہٹے گا
موقع نہیں اس وقت جو میں خیمہ میں جائوں
کیا خون بھری مشک سکینہؑ کو دکھائوں
غم دیدہ ہے زینبؑ اسے کیا اور رلائوں
 بانو سے میں کیوں کر تن مجروح کو چھپائوں
بیٹی سے نہ بیٹے سے نہ کچھ گھر سے غرض ہے
 اب کام ہے اللہ سے خنجر سے غرض ہے
اس وقت امامؑ بے کس نے چاروں طرف یاس سے دیکھا۔ ہر طرف تلواریں پڑ رہی تھیں،نیزے لگ رہے تھے۔ تیروں کی بارش ہو رہی تھی۔ اور جن اشقیا کے پاس ہتھیار نہ تھے۔ وہ دور سے پتھر مارہے تھے۔ امامؑ زخموں سے چور چور ہو کر گھوڑے پر ڈگمگانے لگے۔تو پھر گھوڑے سے فرماتے تھے۔ نظم
اس وقت مگر دل میں یہ حسرت ہے ہمارے
 زخمی ہیں زمیں پر کوئی آہستہ اتارے
 سجدہ کریں خالق کو کہ اب جاتے ہیں مارے
پر تھے جو مددگار وہ دنیا سے سدھارے
اب ہیں وہ کہاں گودیوں میں جن کی پلے ہیں
کس عالم تنہائی میں دنیا سے چلے ہیں
دہنے سے محمدؑ کی صدا آئی کہ پیارے
نانا بھی کھڑا روتا ہے پہلو میں تمہارے
اور بائیں طرف سے اسد اللہ پکارے
صدقے ترے اے فاطمہؑ کے راج دلارے
تو غش میں جو سر ہرنے پہ نیوڑھائے ہے بیٹا
لینے کو پدر ہاتھوں کو پھیلائے ہے بیٹا
آواز بتول آئی کہ اے فاطمہ کی جان
یہ دکھ زدہ مادرؑ تری مظلومی پہ قربان
گھوڑے پہ جو تم جھومتے ہو خون میں غلطاں
 ہاتھوں سے ترے بازئوں کو تھامے ہے اماں
ماتم میں گریبان کفن پھاڑ چکی ہوں
 میں بالوں سے مقتل کی زمیں جھاڑ چکی ہوں؎
تنہائی سے کیوں گرتے ہو حاضر ہے یہ مادر
ہرنے سے اٹھائو میرے کندھوں پہ رکھو سر
آئے گا لعیں پھیرنے جب حلق پہ خنجر
میں خاک پہ بیٹھوں گی تمہیں گود میں لے کر
چہلم تلک اس بن میں رہوں گی میرے پیارے
چوکی ترے لاشے کی میں دونگی میرے پیارے
یہ سنتے تھے حضرت کہ لگا تیر جبیں پر
تیورا کے سر زیں سے گرے روئے زمیں پر
تلواریں چلیں دوش محمدؑ کے مکیں پر
آمادہ ہوا شمر لعیں بھی قتل شاہ دیں پر
سینہ پہ چڑھا سبط رسول عربیؑ کے
خنجر سے کیا ذبح نواسے کو نبیؑ کے
ہے عرض یہ وزیر کی بہر شاہ انام
روضہ پہ اپنے جلد بلا لیجیئے امامؑ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments

Popular posts from this blog

انتیسویں مجلس امام حسین کی دعا سے خدا وند کا راہب کو سات فرزند عطا فرمانا

﷽ انتیسویں مجلس امام حسین علیہ السلام کی دعا سے خدا وند قدیر کا راہب کو سات فرزند عطا  فرمانا،پھر بعد شہادت امامؑ کے سر اقدس کا خانہ راہب میں پہنچنا،راہب کا سیدانیوں کے لیے چادریں نذر کرنا،اور اشقیا کا وہ بھی چھین لینا  اعجاز ابن فاطمہؑ سے وہ نوید ہو واللہ ناامید کے دل کو امید ہو  اے عاشقان سید الشہدا فخر ومباہات کا مقام ہے،کہ ہم سب امام مظلومؑ کے ماتم میں شریک ہیں۔ اس جناب کی ماتم داری اور گریہ وزاری کے سبب اس سوگواروں کو خدا نے کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔کہ جس قدر ہم فخر ومباہات کریں کم ہے۔ بیت  دربار سخی کا ہے یہ مجلس ہے سخی کی یہ بزم عزا مومنو ہے سبط نبیؑ کی نظم پس حضرت صادق سے یہ مضمون عیاں ہے سامان غم سیدؑ مظلوم جہاں ہے  اس شخص کی آنکھوں سے اگر اشک رواں ہے ہر فرد کے اوپر قلم عفو رواں ہے اس پر بھی ترقی ہوئی یہ رحمت رب کو گر ایک بھی روئے گا تو ہم بخشیں گے سب کو خالق کاتو وہ حکم محمدؑ کی یہ گفتار کیا اپنے نواسے کے فضائل کروں اظہار جو اس سے ہے بےزار خدا اس سے ہے بیزار جو اس کا مددگار خدا اس کا مددگار بیٹھے گا جو یاں بزم عزائے شاہ دیں میں ہمس...

ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات

پینتسویں مجلس ذکر ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور  ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات  ذکر چہلم ہو جیے مغموم دفن ہوتے ہیں سید مظلومؑ عزا داران جناب سیدؑ ا  لشہدا آگاہ ہوں کہ جس قدر مصائب وآلام حسینؑ مظلوم پر گزرے نہ کسی نبیؑ پر گزرے نہ کسی وصی پر۔اور بضعتہ الرسولؑ جناب سیدہؑ کے بعد جناب ثانی زہراؑ نے جو مصائب برداشت کیے۔دنیا میں کسی بی بی کا جگر نہیں جو سہہ سکے ، رباعی  ناناؑ کو روئی ماں کا جنازہ دیکھا بابا کا بڑے بھائی کا لاشہ دیکھا  زینبؑ کی غرض حیات روتے ہی کٹی ہے عاشور کو کیا کہوں کہ کیا کیا دیکھا  اور جس طرح اس مخدومہ کائنات کے بھائی امام مظلومؑ کی ولادت کے وقت تہنیت کےساتھ تعزیت کا بھی شور تھا۔اسی طرح جناب زینبؑ کی ولادت کے  وقت خوشی کے ساتھ رنج و ملال کا بھی ہجوم تھا۔چنانچہ شاہزادی کی ولادت کے وقت کا حال کتب تواریخ وسیر میں مرقوم ہے کہ جب حضرت زینبؑ پیدا ہوئیں،تو کنیز جناب فاطمہ زہراؑ نہایت خوش ومسرور ہو کر جناب رسولؑ مقبولؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کی    شعر۔  ہووئے یہ نواسی تمہیں ...

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ شیریں میں پہنچنا

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ   شیریں میں پہنچنا  اے مومنو ہاں دیکھو کہ کیا کرتے ہیں شبیرؑ دو وعدوں کو اک سر سے وفا کرتے ہیں شبیرؑ راویان روایت رنج  و ملال تحریر کرتے ہیں، کہ جس وقت بانوئے محترم شاہزادی عجم جناب امام حسینؑ علیہ السلام کی خدمت با برکت میں آئیں،تو آپ کے ہمراہ اکثر کنیز یں بھی تھیں،منجملہ ان کے اس شاہزادی کی شیریں ایک کنیز خاص بھی تھی۔ جناب بانو نے شیریں کے سوا سب کنیزوں کو آزاد کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ شیریں بہت خوش چشم تھیں۔ایک روز جناب امام حسینؑ نے حضرت شہر بانو سے حمد پروردگار کرتے ہوئے شیریں کی آنکھوں کی مدح کی۔آپ نے بھی امام کی تائید میں ثنا فرمائی۔اور عرض کی، بیت  سب خاک ہیں تم فاطمہؑ کے نور نظر ہو ہے عین خوشی میری جو منظور نظر ہو نظم شیریں تو ہے کیا چیز بھلا تم پہ میں واری ہے جان جو شیریں وہ نہیں آپؑ سے پیاری شیریں میری لونڈی ہے میں لونڈی ہوں تمہاری لو نذر یہ میں کرتی ہوں اے عاشق باری مظلب تو ہے خوشنودی شاہ دوجہاں سے بخشا دل وجاں سے اسے بخشا دل وجاں سے  حضرت شہر بانو کا یہ کلام سن کر سلطان کونین امام...