Skip to main content

سولہویں مجلس جناب قاسم علیہ سلام کی شہادت

سولہویں مجلس
جناب قاسم علیہ سلام کی شہادت
کیا جلد اجل آگئی اس رشک قمر کو
نوشاہ بنے شب کو ہوئے قتل سحر کو
راویان اخبار بصد درد والم حال شہادت حضرت قاسمؑ اس طرح تحریر کرتے ہیں۔کہ جناب امام حسینؑ نے حضرت زینب ؑ کےفرزندوں کی شہادت سے کمال رنجیدہ ومحزون ہو کر بصد یاس آسمان کی جانب نگاہ کی  اور ایک آہ سرد دل پر درد سے کھینچی۔بیت
سچ ہے کہ ایسے صدموں سے کیا دل کو کل پڑے
پتھر کا دل بھی ہو تو کلیجہ نکل پڑے
مگر اللہ رے صبر جناب زینبؑ  کہ صاحب زادوں کی شہادت  کی خبر سے حرم محترم میں تو ایک غلغلہ
شیون وبکا کا برپا تھا۔اور آپ فرماتی تھیں کہ اے بیبیوں کیوں روتی ہو۔مجھ کو سجدہ شکر ادا کرنے دو کہ بیت
 دنیا میں نام رہ گیا با آبرو ہوئے
دونوں علیؑ وفاطمہؑ سے سر خرو ہوئے
مگر اس وقت جناب قاسم کی مادر کا عجب حال تھا۔سر جھکائے ہوئے بیٹھی تھیں۔اور آنکھوں سے آنسووں کی نہریں جاری تھیں۔اور دل ہی دل میں کہہ رہی تھیں کہ زینبؑ نے اپنے دونوں لال اور زوجہ مسلم نے اپنے نو نہال امامؑ مظلوم پر نثار کیے۔مگر نہیں معلوم میری تقدیر میں کیا لکھا ہے۔کہ قاسم ؑ جرار نے اب تک ارادہ نبردگاہ نہیں کیا۔ نظم
دل میں یہ سوچتی ہوئی اٹھی وہ خوشخصال
قاسمؑ کو اپنے پاس بلایا بصد ملال
رو کر کہا کہ اے حسنؑ مجتبیٰ کے لال
کچھ اس ضیعف ماں کی بھی عزت کا ہے خیال
جاری ہیں  اشک خون  میری چشم پر آب سے
زینبؑ کے آگے جا نہیں سکتی حجاب سے
گھر لٹ گیا ہے فاطمہؑ زہرا کا ہائے ہائے
دشمن وہ دوست ہے جو نہ اس وقت کام آئے
غیروں نے تو حسینؑ کے قدموں پہ سر کٹائے
کیا قہر ہے کہ بھائی کا جایا نہ مرنے جائے
گھیرا ہے بےوطن کو عدو کی سپاہ نے
منہ دیکھنے کو کیا تمہیں پالا تھا شاہ نے
سب مر چکے امامؑ دو عالم کے اقربا
باقی ہے کون اکبر وعباسؑ کے سوا
حضرت کے تن کی جان ہیں وہ دونوں مہہ لقا
سر ان کے کٹ گئے تو قیامت ہوئی بپا
تم بھی خجل رہو گے سدا جد کے سامنے
شرمائیں گے حسنؑ بھی محمدؑ کے سامنے
 یہ سن کر حضرت قاسم علیہ سلام نے سر جھکا کر دست بستہ عرض کی کہ اے والدہ مہربان اس خادم کا کیا اختیار ہے۔نظم
 رخصت جو میں نے مانگی تو حضرت نے یہ کہا
قاسمؑ تمہیں تو دیویں گے ہر گز نہ ہم رضا
کرتا ہوں جب میں ان سے طلب رخصت وغا
بابا کو یاد کرتے ہیں اور روتے ہیں چچا
آنسو رواں ہیں چشم شاہ مشرقین سے
کہتے ہیں داغ یہ نہ اٹھے گا حسینؑ سے
رونے لگا جو کہہ کے یہ شبرؑ کا دل ربا
مادر پکاری روو نہ واری یہ ماں فدا
عاشق ہیں بچپنے سے تمہارے شاہ ہدیٰ
گودی میں تم کو پالا ہے کیوں کر وہ دیں رضا
سبط نبیؑ جو تم کو نہ روکیں تو کیا کریں
بیٹا تیری مدد شہ خیبر کشا کریں
یہ سن کر جناب قاسم پر کمال رقت طاری ہوئی۔روتے روتے خاک پر گر پڑے۔ناگاہ خیال آیا کہ بابا نے وقت وفات وصیت کی تھی،کہ جب کوئی خاص مصیبت کا وقت آئے۔تو اپنے بازو پر سے تعویذ کھول کر دیکھنااور اس کی تحریر پر عمل کرنا۔
خنجر قلق کے قلب پہ کھائیں نہ جائیں گے
دو داغ ایک دل پہ اٹھائے نہ جائیں گے
 اے عم بزرگوار اپنے بھائی کی وصیت یاد فرما یے۔ نظم
یہ کہہ کے کھولا آپ نے تعویذ ایک بار
پھر شہ کے آگے رکھ دیا با چشم اشکبار
دیکھا تو یہ لکھا تھا حسنؑ نے کہ میں نثار
گھر جائیں کربلا میں جو شبیرؑ نامدار
ہو گا وفور رنج شہ مشرقین پر
تم سر نثار کیجیئو بھائی حسینؑ پر
بولے کلیجہ تھام کے یہ شہ کربلا
بھائی نے وہ لکھا ہے جو قسمت میں ہے لکھا
اے نور چشم جگر وجان مجتبےٰ
جو مصلحت کریم کی مالک کی جو رضا
یہ امر ناگزیر بھی مجھ کو قبول ہے
بھائی کا حکم حکم خدا ورسولؑ ہے
یہ سنتے ہی جناب قاسم کا غنچہ امید کھل گیا   ۔نظم
 سرخی سی یہ سن کر رخ نوشاہ پر آئی
خوش ہوگئے تصویر اجل کی نظر آئی
تڑپا جگر سبط نبیؑ چشم بھر آئی
فرمایا کہ امید دلی اب تو بر آئی
کس وقت میں تم چھوڑ چلے آہ چچا کو
مانگو یہ دعا صبر دے اللہ چچا کو
یہ سن کے جو ماں نے کیا رخصت کا اشارہ
خیمہ میں گیا پاس دلہن کے وہ دل آرا
اور رو کے کہا آہ بڑا غم ہے تمہارا
ہم جاتے ہیں اب قافلہ رخصت ہوا سارا
رخصت کی خبر خلد میں جا پہنچی ہے صاحب
لینے کو عروس اجل آپہنچی ہے صاحب
کیوں اشک رواں ہیں رخ زیبا پہ تمہارے
رونا یہ بہت شاق ہے شیدا پہ تمہارے
فوجوں کا ہے نرغہ شہؑ والا پہ تمہارے
رخصت دو کہ قربان ہوں بابا پہ تمہارے
کام آئو مصیبت میں جو عاشق ہو پدر کی
امداد کرو فاطمہ زہراؑ کے پسرؑ کی
اے گرفتار مصیبت یہ وقت رونے کا نہیں ہے۔ضبط کرکے اپنے پدر بزرگوار کی حالت دھیان میں لائو،
تو ہمارا صدمہ مفارقت کم ہو جائے گا۔اور آج کا وہ روز ہے کہ جو اس شہادت کی سعادت سے محروم رہے گا وہ علیؑ ورسولؑ وجناب فاطمہؑ کے سامنے شرمندہ وسرنگوں رہے گا۔آہ حضرات، نظم
جو ں جوں یہ بیان کرتا تھا لخت دل شبرؑ
چہرہ ہوا جاتا تھا دلہن کا متغیر
ہر بات چھری تھی تو ہر اک حرف تھا نشتر
رہ جاتا تھا پہلو میں تڑپ کر دل مضطر
کہتی تھی حیا نالہء جانکاہ نہ نکلے
دم گھٹ کے نکل جائے مگر آہ نہ نکلے
کہتا تھا جگر بر میں کہ خون ہوتا ہوں میں اب
دل کرتا تھا نالے کہ چلے تاب وتواں سب
کہتا تھا تحمل یہ جفا مجھ سے اٹھے کب
کبریٰ کا سخن تھا کہ اٹھا لے مجھے یا رب
پیوند زمین سامنے دولہا کے دلہن ہو
رنڈسالے سے پہلے میری پوشاک کفن ہو
یارب مجھے پردیس میں مضطر نہ پھرانا
بازار میں بے مقنعہ وچادر نہ پھرانا
حیدرؑ کی ہوں پوتی مجھے دردر نہ پھرانا
اک رات کی بیاہی کو کھلے سر نہ پھرانا
رشتہ میں ہوں میں بادشاہ عقدہ کشا کے
رسی سے بندھے ہاتھ نہ پابند حیا کے
مومنین دلہن نے جب کوئی جواب نہ دیا،تو جناب قاسم نے فرمایا کہ اے صابرہ یہ وقت رونے اور سر پیٹنے کا نہیں ہے۔ چچا عباسؑ بعزم جنگ رخصت طلب ہیں۔ایک طرف بھائی علیؑ اکبرؑ میدان جنگ کے لئے تیار ہیں۔اگر دونوں میں سے کسی کو رخصت مل گئی تو جناب سید الشہدا  ؑ اور حسن مجتبیٰ اور فاطمہ زہراؑ اور علی مرتضےٰ کے سامنے  میری آبرو نہ رہے گی۔ نظم
صدقہ ہوں دعا تھی یہی دن رات ہماری
تم چاہو تو رہ جائے ابھی بات ہماری
مر جائیو بابا کی بھی تحریر یہی ہے
تم رانڈ بنو خواہش تقدیر یہی ہے
لو بہر پیمبر ہمیں مرنے کی رضا دو
چڑھ آیا ہے لشکر ہمیں مرنے کی رضا دو
صابر کی ہو دختر ہمیں مرنے کی رضا دو
دیر اب نہیں بہتر ہمیں مرنے کی رضا دو
نیرنگ زمانے کے تو مشہور ہیں صاحب
کچھ بس نہیں ہم موت سے مجبور ہیں صاحب
ناچار ہوئی سن کے یہ قسمیں وہ گل اندام
چاہا کہ کہے کچھ پہ زبان نے کیا نہ کام
کیا بات کا یارا اسے جس پر ہوں یہ آلام
وہ حال تھا ہوتا ہے جو کچھ نزع کے ہنگام
نزدیک ہلاکت وہ گرفتار محن تھی
رقت تھی گلو گیر حیا قفل دہن تھی
آخر یہ کہا کانپتی آواز سے رو کر
کیا پوچھتے ہوئے کیا کہے یہ بے کس و مضطر
تھم لینے دو آنسو مرے دل لینے دو دم بھر
بیٹھے صف ماتم پہ دلہن وائے مقدر
خون جگر آنکھوں سے بہانے کو بنی تھی
ہے ہے یہ دلہن رانڈ بنانے کو بنی تھی
شادی کی سحر کو مجھے تقدیر نے لوٹا
منہ ہاتھوں سے پیٹا کبھی سینہ کبھی کوٹا
مجھ پر تو فلک غم کا دلہن بنتے ہی ٹوٹا
پھر کس کا سہارا ہے جو ساتھ آپ کا چھوٹا
سر دینے کو سب تیغ وسپر باندھ رہے ہیں
بابا بھی تو مرنے پہ کمر باندھ رہے ہیں
جو گزرے سو گزرے تمہیں کیا خیر سدھارو
شکوہ ہے ہمیں کچھ نہ گلا خیر سدھارو
کیوں روتے ہو دی رن کی رضا خیر سدھارو
سہہ لیں گے رنڈاپے کی جفا خیر سدھارو
غربت میں بچھڑ جاتے ہیں دستور یہی ہے
قیدی ہو دلہن آپ کو منظور یہی ہے
اس وقت حضرت قاسم ؑ نے ایک کلمہ ایسا فرمایا، کہ جس کے عرض کرنے کو زبان میں طاقت نہیں ہے۔مومنین خیال کرتے ہوں گے، وہ کلمہ کیا ہے۔ حضرات وہ ایسا ہی کلمہ ہے کہ کسی کو وہم وگمان بھی نہ ہوگا۔نہ اول ملاقات دولہا دلہن میں قرین امکان ہے۔ افسوس پہلی ملاقات کی جدائی کے وقت حضرت قاسمؑ کبری سے فرماتے ہیں۔۔ نظم
گر بخش دو مہر اپنا محبت سے نہیں دور
جلدی کہو صاحب جو تمہیں بات ہو منظور
کہنے لگی تب ساس سے گھبرا کے وہ رنجور
کیا اس کا جواب ان کو دے یہ بے کس و مجبور
ہاں کہنے کی طاقت ہے  زبان کو نہ نہیں کی
ہے ہے چچی اماں نہ رہی میں تو کہیں کی
وہ بولی کہ واری گئی اب صبر ہی بہتر
ہم نے گوارا کیا داغ ان کا جگر پر
نو لاکھ کے نرغے میں ہے زہراؑ کا صنوبر
جاتے ہیں یہ ہونے کو نثار سر سرور
رخصت ہے مناسب کہ گلو گیر قضا ہے
روکا جو انہیں خاتمہ آل عبا ہے
یہ سن کے لرزنے لگی کبریٰ جگر افگار
حسرت سے نظر کی سوئے نوشاہ کئی بار
اور کہنے لگی جایئے جو مرضی غفار
حامی ہوں نبیؑ آپ کے اللہ مددگار
پر شوق جنان میں نہ بھلانا ہمیں صاحب
پھر آکری دیدار دکھانا ہمیں صاحب
یہ سنتے ہی نظم
فرما کے الوداع اٹھا دلبر حسنؑ
برہم ہوئی وہ بزم وہ صحبت وہ انجمن
غل ہو گیا کہ لٹتی ہے اک رات کی دلہن
اس وقت سب سے دولہا کی ماں کا تھا یہ سخن
جاتی ہے اب برات میرے نونہال کی
رخصت ہے بیبیو زن بیوہ کے لال کی
جاتا ہے سر کٹانے کو رن میں یہ رشک ماہ
لو دودھ میں نے بخش دیا سب رہیں گواہ
دنیا میں یادگار رہا حشر تک یہ بیاہ
دو رانڈیں ایک جاہ ہوں یہ تھی مرضی الہٰ
سمجھے نہ اب کوئی کہ دلہن کی عزیز ہوں
کل تک تھی ساس آج سے اس کی کنیز ہوں
جس وقت جناب قاسم چلے ماں مہر مادری سے تڑپ گئیں اور جوش محبت میں فرمایا نظم
 دوڑو خدا کے واسطے جلد آئو بیبیو
جس طرح ہو سکے انہیں سمجھائو بیبیو
کچھ رانڈ بے وطن پہ ترس کھائو بیبیو
گھر ڈوبتا ہے نوحؑ  غریباں کا نام لو
یا مرتضےٰ علی میرے بیٹے کو تھام لو
لوگو مرے پسر کے براتی کدھر گئے
بولی قضا کہ پہلے ہی وہ کوچ کر گئے
برسوں جو منتوں سے پلے تھے وہ مر گئے
جاتے ہیں یہ وہیںوہ جدھر خون میں تر گئے
ارمان لے کے خاک کے پردے میں جائیں گے
ایسی جگہ چلے ہیں کہ اب پھر نہ آئیں گے
الغرض جناب قاسمؑ اہل حرم سے رخصت ہو کر عصمت سرا سے باہر تشریف لائے۔ امام مظلوم کی خدمت میں حاضر ہو کر بصد ادب سلام کیا اور عرض کی۔ نظم
 اب موت سے مفر نہیں مجھ تشنہ کام کو
کیوں عمو جان ہے نا اجازت غلام کو
بولے گلے لگا کے شہنشاہ کربلا
کیوں میری جان  بھابھی نے دے دی تمہیں رضا
میں نے تو چاہا تھا کہ تم مجھ سے نہ ہوجدا
ہوتا ہے پر وہی جو مقدر میں ہے لکھا

کیا دخل ہے مشیت رب قدیر میں
سونپا تمہیں پناہ جناب امیر میں
آخر تو مرنے جاتے ہو اے میرے گلعذار
زلفوں کی بو سنگھا دو چچا کو پھر ایک بار
اے سرو بوستان حسنؑ میں تیرے نثار
جی بھر کے دیکھنے بھی نہ پائے تیری بہار
بس آج رونق چمن مجتبیٰ گئی
سہرہ کے باندھتے ہی خزاں تم پہ آگئی
بیٹا چچا پہ شاق بہت ہے تمہارا داغ
کھوئے گئے جو تم تو ملے گا نہ پھر سراغ
کیوں کر کروں میں قبر کو بھائی کی بے چراغ
بلبل کی موت ہے جو خزاں ہو بہار باغ
کس منہ سے میں کہوں کہ چچا پر نثار ہو
پر آپ کی خوشی ہے تو اچھا سوار ہو
الغرض جناب قاسمؑ امام سے اجازت لے کر میدان کارزار میں تشریف لائے، نظم
نعرہ کیا دادا میرا  سرؑدار عرب ہے
ضرغام خدا نام خدا جس کا لقب ہے
جس شہ کی ولادت کا مکاں خانہ رب ہے
جز ذات خدا اس کا شناسا کوئی کب ہے
سر سبز ہوں اس جنگ میں گو تشنہ دہن ہوں
میں سبز قبا پوش گلستان حسنؑ ہوں
یہ سنتے ہی کی بارش تیر اہل جفا نے
لی میان سے شمشیر دودم شیر وغا نے
حملہ کیا چمکا کے فرس قلعہ کشا نے
جاتے وہ کہاں گھیر لیا قہر خدا نے
اس غول میں یارا تھا کسے جنگ وجدل کا
کاوا تھا وہ گھوڑے کا کہ حلقہ تھا اجل کا
فوج کفار کو تاب نہ رہی۔ اشقیا تلواریں پھینک پھینک کر بھاگنے لگے۔ اس وقت نظم
ارزق سے ہر اک کوفی وشامی ہوا گویا
کیوں آگے نہیں بڑھتا زبانی تھا یہ دعوٰی
بولا پسر سعد توقف نہیں زیبا
جھنجھلا کے کہا اس نے  یہ ہمسر نہیں میرا
سرتاج شجاعان عرب میرا لقب ہے
لڑکوں سے لڑوں یہ مناسب مجھے کب ہے
پھر اپنے لڑکوں کو بلا کر کہا جائو اس فرزند حسنؑ کا سر کاٹ لائو۔ تاکہ حاکم لعین خوش ہو۔ یہ سن کر وہ چاروں نابکار مسلح ہو کر اس طرف بڑھے کہ ایک کے ہاتھ میں گرز گائو سر، دوسرے کے ہاتھ میں تلوار، تیسرے شقی کے پاس نیزہ، چوتھے کے ہاتھ میں کمان وتیر، جس وقت حضرت قاسمؑ نے ان چاروں روباہوں کو آتے ہوئے دیکھا،شیر کی مانند ان پر جھپٹے اور حملہ کیا۔اللہ اللہ کیا ضرب تھی آپ کی نظم
خون گھٹ گیا مجروح جسد ہو گئے ان کے
حربے بھی کٹے وار بھی رد ہو گئے ان کے
بس تیغ دو دستی کا جو قاسمؑ نے کیا وار
ظالم تھے جو دو مصرعہ اولیٰ وہ ہوئے چار
پھر ثالث وربع پہ چلی تیغ شرر بار
وہ طول میں دو تھا تو وسط میں یہ سیہ کار
نے صدر نظر آئے نہ گردن نظر آئی
مہمل جو رباعی تھی وہ مثمن نظر آئی
جس وقت ارزق شامی نے دیکھا کہ چاروں بیٹے مارے گئے۔ تو رنج والم سے دل خون ہو گیا۔اور غیظ وغضب میں دھواں سینہ سے اٹھنے لگا۔آخر وہ ہتھیاروں سے آراستہ ہو کر حسنؑ کے شیر کے روبرو آیا،اس طرح کہ دہری زرہ جسم پر پہنے ہوئے۔ فولادی خود سر پر رکھے ہوئے۔اور پشت پر سپر ونیزہ لیے ہوئے بیت
نازاں تھا لعین تیغ کے اور ہاتھ کے کس پر
کف منہ میں بھرے جھومتا آتا تھا فرس پر
اور نخوت سے کہنے لگا اے دل بر حسنؑ مجھ کو تیرے لڑکپن اور نو شاہی پہ ترس آتا ہے۔ بیت
کچھ سن نہیں لڑکوں میں ابھی میل کے دن ہیں
جا خیمہ میں پھر جا کے ابھی کھیل کے دن ہیں
 مجھ سے سام ونریمان اور رستم وافرا سیاب مقابلہ کی تاب نہیں رکھتے۔تیری کیا بساط ہے۔ سبحان اللہ حضرت قاسمؑ نے اس دم فرمایا کہ او سگ نجس اب تو سام ہے، نہ بہرام ہے۔ گھبراتا کیوں ہے۔تجھ کو تیری خود سری کا مزہ چکھاتا ہوں۔نظم
ہم جان پہ کھیلے ہوئے ہیں جان ہے کیا مال
جرائت تو جوانوں کی ہے گو کم ہے سن وسال
یوں قصر بدن کو تیرے کردیتا ہوں پامال
جس طرح گھروندے کو مٹا دیتے ہیں اطفال
کس بحر کو یہ تیغ دودم جھیل رہی ہے
ہشیار اجل سر پہ تیرے کھیل رہی ہے
یہ سن کر اس شقی ازلی کو تاب نہ رہی

 وہ دیو بڑھا ادھر سے تو یہ جرار ادھر سے
مرحب پہ چلے حیدر کرار ادھر سے
اڑ کر گیا راہوار پہ راہوار ادھر سے
چلنے لگی تلوار پہ تلوار ادھر سے
ہر ہاتھ میں بڑھنے لگیں گھٹنے لگیں ڈھالے
سینہ جو سپر کر دیا کٹنے لگیں ڈھالیں
نوشاہ نے تلوار کا اک ہاتھ جو مارا
چہرے پہ سپر رکھ کے دبا وہ ستم آرا
کیاآب تھی تلوار میں کیا ہاتھ میں کس تھا
جوشن تھا نہ زنجیر کمر تھی نہ فرس تھا
سبحان اللہ ایک ہی وار میں اس ملعون کو واصل جہنم کیا۔ اس وقت جوش مسرت میں حضرت علی اکبر نے حضرت قاسمؑ کو مخاطب ہو کر کہا کہ اے بھائی قاسم   نظم۔
اب پست ہمت عمر خیرہ سر ہوئی
آئو گلے ملو کہ تمہاری ظفر ہوئی
تسلیم کرکے دور سے قاسم نے دی صدا
ادنےٰ غلام ہوں میری جرات کا ذکر کیا
دنیا میں عمو جان کو قائم رکھے خدا
کام آگئی دعائے جگر بند مرتضےٰ
سر براہ ہوا وہ چشم عنایت جدھر ہوئی
یہ سب مہم حضور کے صدقے سے سر ہوئی
آہ حضرات ابھی بھائی بھائی میں   نظم۔
باتیں یہ تھیں کہ پھر امڈ آئی سپاہ شام
میدان میں چمکنے لگیں وہ برچھیاں تمام
سیراب سب وہ فوج یہ دو دن سے تشنہ کام
واحسرتا کہ گھر گیا شبرؑ کا لالہ فام
 ناوک چلے ستم کے جو فوج شریر سے
سینہ فگار ہو گیا باران تیر سے
گھیرے ہوئے تھی چاروں طرف فوجبے ادب
اس گل کے تن پہ برچھیاں چلتی تھیں ہے غضب
تیغیں جو بار بار لگاتے تھے مل کے سب
غش میں کراہتا تھا وہ مظلوم تشنہ لب
سنبھلے نہ تھے گرز شریروں کے پھر پڑے
قاسم کےتڑپ کے خاک پہ گھوڑے سے گھر پڑے
آہ مومنین دولہا نے زمین پر گر کر امامؑ کو آواز دی کہ مولا غلام کی خبر لیجئے۔ نظم
سر کاٹنے کی فکر میں فوج شریر ہے
جلد آئیے حضور یہ خادم آخیر ہے
شہ نے سنی جونہی یہ صدا ہل گیا جگر
رونے لگے پکار کے سلطان بحر وبر
جس دم نظر پڑی یہ قیامت یہ شور وشر
دوڑی حرم سے مادر قاسمؑ برہنہ سر
چلائی کون فدیہ راہ خدا ہوا
ہے ہے حسینؑ روتے ہیں لوگو یہ کیا ہوا
بولے یہ سر کو پیٹ کر عباسؑ صف شکن
مارا گیا لڑائی میں نو باوا حسنؑ
دل رو رہا ہے خون وہ ہے صدمہ محن
جاتے ہیں رن کو لاش اٹھانے شہؑ زمن
خیمہ میں جا کے نالہ آہ وبکا کرو
نوشاہ مر گیا صف ماتم بپا کرو
 ابھی مادر حضرت قاسمؑ سے جناب عباسؑ یہ کہہ رہے تھے کہ اد ھر نظم
شہ دوڑے ہوئے خاک بسر سوئے قتل گاہ
تھامے ہوئے تھے باپ کو اکبر باشک و آہ
آئے جو پاس لاش کے سلطان دیں پناہ
دم توڑتا ہوا نظر آیا وہ رشک ماہ
دیکھا کہ ہے نہ ہوش نہ آنکھوں میں نور ہے
سب گل سا جسم گھوڑوں کی ٹاپوں سے چور ہے
شانہ ہلا کے شہ نے  یہ قاسم کو دی ندا
بیٹا تمہاری تشنہ دہانی کے ماں فدا
یہ بچپنا یہ جرات و ہمت یہ حوصلا
یہ زخم کھائے اور نہ خبر کی ہمیں ذرا
اکبرؑ سنبھال کر ہمیں لاشے پہ لائے ہیں
چونکو کہ ہم تمہاری صدا سن کے آئے ہیں
 امام کی آواز سن کر جناب قاسم نے عرض کی اب غلام دنیا سے رخصت ہو رہا ہے۔بس حضور کی زیارت کا ا اشتیاق تھا۔ نظم
 اکبر سے پھر تڑ پ کے بولا وہ نیک نام
کہیے گا وادہ سے کہ اے عاشق امام
لائیں جو لاش شہ ہماری سوئے خیام
رکھیئے گا اس کی فکر جو بیوہ ہے تشنہ کام
سینہ میں بے قرار دل ناصبور ہے
کیجیے بحل غلام کا جو کچھ قصور ہے
یہ کہہ کے روئے اکبر ماہ رو پہ کی نظر
آئیں جو ہچکیاں تو کراہا وہ نوحہ گر
لیں کروٹیں تڑپ کے بحسرت ادھر ادھر
حضرت کے رخ کو یاس سے دیکھا بچشم تر
کانپا فلک حسینؑ نے اک ایسی آہ کی
 دولہا کا دم نکل گیا گودی میں شاہ کی
جناب امام حسینؑ لاش لے کر خیمہ کی طرف چلے۔آہ آہ اس وقت کا حال کیا بیان کروں،جس وقت کہ
نظم
ڈیوڑھی پہ لاش لائے جو سلطان بحر وبر
پردہ اٹھایا ڈیوڑھی کا فضہ نے دوڑ کر

لاشے کے پائوں تھامے تھے کوئی کوئی کمر
چادر کمر کی پکڑے تھے عباسؑ نامور
لٹکی تھیں دونوں خاک میں زلفیں اٹی ہوئیں
رخ پہ پڑی تھیں سہرے کی لڑیاں کٹی ہوئیں
لائے ادھر سے لاش شہنشاہ کربلا
آئی صحن میں جو تو یہ رانڈوں کو دی صدا
ہٹ جائے جس سے دور کا ناتا ہو صاحبو
دولہا دلہن کے لینے کو آتا ہے صاحبو
یہ سنتے ہی سادات میں برپا ہوا محشر
پیٹی کوئی سینہ کوئی رخسار کوئی سر
بے ہوش دلہن ہو گئی مسند پہ تڑپ کر
اور خاک پہ پتھرا کے گری بیوہ شبرؑ
دروازے پہ بے تاب جو ہو کر حرم آئے
لاشہ لیئے میدان سے امام امم آئے
باہر گئے شہ لاش کو مسند پہ لٹا کر
ماں کھولے ہوئے بال گری خاک پہ آکر
کبریٰ سے کہا بالی سکینہؑ نے یہ جاکر
لو آئے ہیں مقتل سے بنے خون میں نہا کر
تم دیکھ لو لاشہ کو حرم گرد کھڑے ہیں
اور بیاہ کی مسند پہ وہ بے جان پڑے ہیں
پس جس وقت حضرت سکینہؑ نے اس عروس صابرہ کو جان سوز خبر سنائی ،نظم
 یہ سن کے جگر ہل گیا منہ صبر نے موڑا
چہرے پہ ملی خاک عزا سہرے کو توڑا
معلوم ہوا بر میں کفن بیاہ کا جوڑا
تکیہ کو بھی سر کا دیا مسند کو بھی چھوڑا
دم گھٹنے لگا بیبیاں جب گھیر کے بیٹھیں
رونے کے لئے خاک پہ منہ پھیر کے بیٹھیں
ماں سے کہا اماں مجھے رونے کی رضا دو
کیا کہہ کے دلہن دولہا کو روتی ہے بتا دو
چادر کوئی میلی سی اگر ہووئے تو لادو
رانڈیں جو پہنتی ہیں وہ پوشاک پہنا دو
ماتم ہے بپا سینہ زنی چاہیے مجھ کو
اب سوگ میں کالی کفنی چاہیئے مجھ کو
ماں نے کہا دل کھول کے رو اے میری دختر
بٹھلا دیا زینبؑ نے اسے لاش پہ لا کر
لٹکائے ہوئے چہرے پہ رنڈسالے کی چادر
کرنے لگی یہ بین دلہن جھک کے قدم پر
ہے ہے کہیں تیغوں سے نہ وقفہ ہوا تم کو
کیا شکل بنا لائے بنے کیا ہوا تم کو
تقدیر نے کیسا یہ مجھے خواب دکھایا
یہ آنکھ جھپک کر جو کھلی تم کو نہ پایا
کیا بن گئی کچھ حال بھی آکر نہ سنایا
جاتا تھا ادھر گھر سے کہ لاشہ ادھر آیا
جاگے تھے بہت خاک پہ دم توڑ کے سوئے
بیوہ کی خطا کیا ہے جو منہ موڑ کے سوئے
یہ بین سن سن کر اہل حرم میں کہرام بپا ہو گیا۔پھر دلہن بے اختیار نظم
بولی لپٹ کے لاش سے وہ غم کی مبتلا
ہے ہے سفر میں آپ مجھے دے گئے دغا
صاحب جہاں سدھارے ہو وہ کون سی ہے جا
ہو گا کہاں مقام بتا دیجیئے پتا
اس دشت پر خطر میں کوئی رہنما نہیں
منزل کڑی ہے راہ سے میں آشنا نہیں
کچھ منہ سے  تو کہو کہ میرا دل ہے پاش پاش
بتلائو میں کہاں تمہیں جا کر کروں تلاش
بہر جہاد میں تمہیں جانے نہ دیتی کاش
کیوں دیکھتی ان آنکھوں سے صاحب تمہاری لاش
حیران ہوں دم میں تفرقہ آپس میں پڑ گیا
اللہ کیسا کھیل یہ بن کر بگڑ گیا
پہلی پڑی ہے مجھ پہ مصیبت یہ آہ آہ
جنگل میں باغیوں نے مجھے کر دیا تباہ
لازم ہے تم کو رحم کی مجھ پر کرو نگاہ
ہے ہے بسایا خلد کو منہ مجھ سے موڑ کر
برباد مجھ کو کر گئے جنگل میں چھوڑ کر
صاحب میرے نباہ کی کوئی نکالو راہ
دنیا میں اس طرح سے کوئی کب ہوا ہے بیاہ
شب کو تو عقد دن کو ہوں دولہا دلہن تباہ
ہے ہے ہمارا ہوئے گا کیونکر سے اب نباہ
دولہا تو پہنچے خلد میں جنگل میں ہم ہیں آہ
کیا کہہ کے آپ کو میں پکاروں بتایئے
یہ دن میں کس طرح سے گزاروں بتایئے
بے سر پرست میری  گزر ہو گئی کس طرح
ہے ہے یہ عمر میری بسر ہو گی کس طرح
ہے ہے دوائے درد جگر ہو گی کس طرح
ہے ہے مہم رنڈاپے کی سر ہو گی کس طرغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس سے کہوں جو حال ہے دل کا بتایئے
بے کس غریب کا تو سہارا بتایئے
تقدیر سے گلا ہے کسی سے نہیں گلا
آپس میں لوگ مجھ کو کہیں گے سنا سنا
منہ اس دلہن کا دیکھنا ہر گز نہیں روا
ہوتے ہی جس کا بیاہ قیامت ہوئی بپا
ہے ہے نہ تربت پسر مجتبیٰ بنی
گزرا نہ ایک دن بھی کہ دولہا پہ آبنی
اے وائے میرے دل کی کسی کو نہیں خبر
اب تو وطن بھی جا نہیں سکتی میں نوحہ گر
حسرت ہے اب تو یہ جو نہ مانع ہوں اہل شر
مرقد پہ ہو تمہارے میری زندگی بسر
جب تک جیوں میں قبر پہ تکیہ رہے میرا
مر کر وہیں ہوں دفن تو پردا رہے میرا
پیاسے مسافروں کو پلائوں گی جام آب
سیراب ہوں تو آپ کو پہنچائوں وہ ثواب
پوچھیں گر مزار تو دوں گی یہ جواب
اک نوجواں کا خاک میں یاں مل گیا شباب
پوچھیں مجھے تو کہہ دوں گی خدمت گزار ہوںاک شب دلہن بنی تھی پر اب تکیہ دار ہوں
پوچھیں جو وجہ قتل کہوں میں کہ آہ آہ
سادات پہ چڑھ آئی تھی سب شام کی سپاہ
اس نوجواں کا قتل کی شب کو ہوا تھا بیاہ
اور صبح دوپہر میں ہوا گھر کا گھر تباہ
گردن ہر اک کی ظلم کے خنجر سے کٹ گئی
مارا گیا بنا میری قسمت الٹ گئی
مل جائے گا وزیر صلہ جو لکھے ہیں بین
خلد بریں دلائیں گے تجھ کو حسنؑ حسینؑ

Comments

Popular posts from this blog

انتیسویں مجلس امام حسین کی دعا سے خدا وند کا راہب کو سات فرزند عطا فرمانا

﷽ انتیسویں مجلس امام حسین علیہ السلام کی دعا سے خدا وند قدیر کا راہب کو سات فرزند عطا  فرمانا،پھر بعد شہادت امامؑ کے سر اقدس کا خانہ راہب میں پہنچنا،راہب کا سیدانیوں کے لیے چادریں نذر کرنا،اور اشقیا کا وہ بھی چھین لینا  اعجاز ابن فاطمہؑ سے وہ نوید ہو واللہ ناامید کے دل کو امید ہو  اے عاشقان سید الشہدا فخر ومباہات کا مقام ہے،کہ ہم سب امام مظلومؑ کے ماتم میں شریک ہیں۔ اس جناب کی ماتم داری اور گریہ وزاری کے سبب اس سوگواروں کو خدا نے کیا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔کہ جس قدر ہم فخر ومباہات کریں کم ہے۔ بیت  دربار سخی کا ہے یہ مجلس ہے سخی کی یہ بزم عزا مومنو ہے سبط نبیؑ کی نظم پس حضرت صادق سے یہ مضمون عیاں ہے سامان غم سیدؑ مظلوم جہاں ہے  اس شخص کی آنکھوں سے اگر اشک رواں ہے ہر فرد کے اوپر قلم عفو رواں ہے اس پر بھی ترقی ہوئی یہ رحمت رب کو گر ایک بھی روئے گا تو ہم بخشیں گے سب کو خالق کاتو وہ حکم محمدؑ کی یہ گفتار کیا اپنے نواسے کے فضائل کروں اظہار جو اس سے ہے بےزار خدا اس سے ہے بیزار جو اس کا مددگار خدا اس کا مددگار بیٹھے گا جو یاں بزم عزائے شاہ دیں میں ہمس...

ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات

پینتسویں مجلس ذکر ولادت جناب زینب سلام اللہ علیہا اور  ا ہل بیت کی قید خانہ شام سے رہائی اور دفن شہدا اور چہلم کے حالات  ذکر چہلم ہو جیے مغموم دفن ہوتے ہیں سید مظلومؑ عزا داران جناب سیدؑ ا  لشہدا آگاہ ہوں کہ جس قدر مصائب وآلام حسینؑ مظلوم پر گزرے نہ کسی نبیؑ پر گزرے نہ کسی وصی پر۔اور بضعتہ الرسولؑ جناب سیدہؑ کے بعد جناب ثانی زہراؑ نے جو مصائب برداشت کیے۔دنیا میں کسی بی بی کا جگر نہیں جو سہہ سکے ، رباعی  ناناؑ کو روئی ماں کا جنازہ دیکھا بابا کا بڑے بھائی کا لاشہ دیکھا  زینبؑ کی غرض حیات روتے ہی کٹی ہے عاشور کو کیا کہوں کہ کیا کیا دیکھا  اور جس طرح اس مخدومہ کائنات کے بھائی امام مظلومؑ کی ولادت کے وقت تہنیت کےساتھ تعزیت کا بھی شور تھا۔اسی طرح جناب زینبؑ کی ولادت کے  وقت خوشی کے ساتھ رنج و ملال کا بھی ہجوم تھا۔چنانچہ شاہزادی کی ولادت کے وقت کا حال کتب تواریخ وسیر میں مرقوم ہے کہ جب حضرت زینبؑ پیدا ہوئیں،تو کنیز جناب فاطمہ زہراؑ نہایت خوش ومسرور ہو کر جناب رسولؑ مقبولؑ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اور عرض کی    شعر۔  ہووئے یہ نواسی تمہیں ...

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ شیریں میں پہنچنا

آٹھائیسویں مجلس اہل بیت کا سمت شام سفر اور راہ میں خانہ   شیریں میں پہنچنا  اے مومنو ہاں دیکھو کہ کیا کرتے ہیں شبیرؑ دو وعدوں کو اک سر سے وفا کرتے ہیں شبیرؑ راویان روایت رنج  و ملال تحریر کرتے ہیں، کہ جس وقت بانوئے محترم شاہزادی عجم جناب امام حسینؑ علیہ السلام کی خدمت با برکت میں آئیں،تو آپ کے ہمراہ اکثر کنیز یں بھی تھیں،منجملہ ان کے اس شاہزادی کی شیریں ایک کنیز خاص بھی تھی۔ جناب بانو نے شیریں کے سوا سب کنیزوں کو آزاد کر دیا تھا۔ روایت ہے کہ شیریں بہت خوش چشم تھیں۔ایک روز جناب امام حسینؑ نے حضرت شہر بانو سے حمد پروردگار کرتے ہوئے شیریں کی آنکھوں کی مدح کی۔آپ نے بھی امام کی تائید میں ثنا فرمائی۔اور عرض کی، بیت  سب خاک ہیں تم فاطمہؑ کے نور نظر ہو ہے عین خوشی میری جو منظور نظر ہو نظم شیریں تو ہے کیا چیز بھلا تم پہ میں واری ہے جان جو شیریں وہ نہیں آپؑ سے پیاری شیریں میری لونڈی ہے میں لونڈی ہوں تمہاری لو نذر یہ میں کرتی ہوں اے عاشق باری مظلب تو ہے خوشنودی شاہ دوجہاں سے بخشا دل وجاں سے اسے بخشا دل وجاں سے  حضرت شہر بانو کا یہ کلام سن کر سلطان کونین امام...